28th February 2021

K2 TV MANCHESTER

WE ARE WITH YOU EVERYDAY EVERYWHERE

انتخابی اصلاحات میں اوورسیز پاکستانیوں کا کوئی ذکر نہیں! (شکیل قمر مانچسٹر)

1 min read

قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کی کمیٹی ایک سو سے زائد اجلاسوں کے باوجوداوورسیز پاکستانیوں کے معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں کر سکی ،لگتا ایسے ہے کہ ایم این اے ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت میں کام کرنے والی ذیلی کمیٹی بھی اس سلسلے میں کوئی نتیجہ اَخذ کئے بغیر ہی اپنے انجام کو پہنچ گئی ہے ،نئی انتخابی فہرستوں میں تارکین وطن کے ناموں کا اندراج نہ کرنے کا مطلب ہے کہ اب تارکینِ وطن اپنے ملک میں بھی اپنا ووٹ استعمال نہیں کر سکیں گے اور اس کے نعم البدل کے طور پر تارکین وطن کے ووٹ یا پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لئے کوٹے کافیصلہ بھی معرضِ التواء میں رکھنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب یہ معاملہ کارپٹ کے نیچے پھینک دیا جائے گا ،اووسیز پاکستانیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے یہ ایک بہت بڑا سچ ہے جسے کوئی بھی جھٹلا نہیں سکتاکہ گذشتہ 70 سالوں میں مختلف پاکستانی حکمرانوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بے شمار وعدے کئے جو آج تک ایفاء نہ ہوسکے ،فوجی حکمران ہو ں یا منتخب سیاسی نمائندے جب جب اُن کے سامنے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل رکھے جاتے ہیں وہ بڑے غور سے ان مسائل کو سنتے ہیں اور وعدہ بھی کرتے ہیں کہ تارکین ِ وطن کے ان مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے گا مگر نجانے کیوں اُن کے یہ وعدے بس وعدے ہی رہ جاتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اورسیز پاکستانیوں کو جو بھی مسائل درپیش ہیں پاکستانی حکمرانوں کو اُن پر سنجیدگی سے غور کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا یا یوں کہہ لیجئے کہ پاکستانی حکمرانوں نے تارکینِ وطن کے مسائل کو کبھی اِس قابل ہی نہیں سمجھا کہ اُن پر سنجیدگی سے غور کیا جائے مگر اَب وقت آگیا ہے کہ تارکینِ وطن اپنے مسائل کو حل کروانے کے لئے سنجیدہ ہو جایں اور پاکستان کے موجودہ حکمرانوں سے اپنے مطالبات منوانے کے لئے سخت سے سخت طریقہء کار اختیار کریں ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ گذشتہ 70سالوں کے تجربے کی روشنی میں یہ بات تو بالکل واضح ہو چکی ہے کہ پاکستانی حکمران تارکینِ وطن سے جووعدے کرتے ہیں وہ صرف ٹرخانے کے لئے ہوتے ہیں دراصل اُنہوں نے کبھی سنجیدگی سے اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ تارکینِ وطن کو ان مسائل کی وجہ سے کس قدر پریشانیاں اُٹھا نا پڑتی ہیں بعض اوقات تو تارکینِ وطن کے پورے پورے خاندان ان مشکلات کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں جیسا کہ تارکینِ وطن جانتے ہیں کہ اُن کے یہ مسائل انتہائی گھمبیر ہیں اور اِن مسائل کا حل ہونا بھی بہت ضروری ہے مگر بار بار کی کوششوں کے باوجود جب حکمرانوں کی طرف سے کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھائے جاتے تو ایسے حالات میں تارکینِ وطن کو بھی اپنے آپ کو راست اقدام کے لئے تیار کرنا چاہیے کیونکہ تارکینِ وطن اپنے جن مسائل کو حل کروانے کے لئے حکمرانوں پر زور دے رہے ہیں وہ انتہائی اہم مسائل ہیں اور اِن مسائل سے نہ صرف تارکینِ وطن کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اُن کی آئندہ نسلوں کا مستقبل بھی انہی مسائل کے حل ہونے کے ساتھ وابستہ ہے تارکینِ وطن کو پاکستانی حکمرانوں پر اپنے مسائل کے حل کے لئے زور دینے کے ساتھ ساتھ اُن عوامل پر بھی غور کرنا چاہیے جن کی وجہ سے آج تک حکمرانوں نے اِن مسائل کے حل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی دراصل جب بھی تارکینِ وطن اپنے مسائل حکمرانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں تو درمیان میں تارکینِ وطن کے وہ نمائندے بھی ہوتے ہیں جو تارکینِ وطن سے زیادہ اِن حکمرانوں کے خیرخواہ ہوتے ہیں وہ ہمیشہ ہی اپنے ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لئے حکمرانوں کی چاپلوسی میں مگن رہتے ہیں اور جب بھی وقت آتا ہے وہ صرف اپنے ذاتی معاملے حکمرانوں کے سامنے پیش کرکے اُن کو حل کروالیتے ہیں اس طرح سے تارکینِ وطن کے اجتماعی مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں کیا کوئی شخص یہ بات تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے اہل کار تارکینِ وطن کے مسائل سے باخبر نہیں ہیں اور یہ اہل کار جو حکمرانوں کے ذاتی کام کروانے کے لئے غیر معمولی راستے بھی اختیار کر لیتے ہیں کیا اُنہی حکمرانوں کو تارکینِ وطن کے مسائل حل کرنے کے لئے زور نہیں دے سکتے مگر ایسا نہیں ہو رہا حقیقت یہ ہے کہ جب تک تارکینِ وطن اپنے مسائل حل کروانے کے لئے ایسے ایجنٹوں سے محتاط نہیں رہیں گے اور خود پوری طرح سنجیدہ نہیں ہوں گے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے تارکینِ وطن کو اپنے مسائل کو حل کروانے کے لئے انتہائی سنجیدگی سے راست اقدام کرنے ہوں گے ایسا کرنے کے لئے تارکینِ وطن کو سب سے پہلے حکمرانوں کی اُن تقریبات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا جو ہائی کمیشن حکمرانوں کی چاپلوسی کے لئے یہاں منعقد کرتا ہے اس طرح ہائی کمیشن کو بھی احساس ہوگا اور حکمرانوں کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ تارکینِ وطن کے مسائل کا حل ہونا کس قدر اہم ہے اسی طرح تارکینِ وطن کو چاہیے کہ پاکستانی حکمرانوں کے اُن ’’ ذاتی نمائندوں ‘‘ سے بھی صاف صاف بات کریں جو حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں کے موقع پر تارکینِ وطن کو جلسے اور جلوسوں میں مدعو کرتے ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ یہی حکمران جب اقتدار سے الگ ہوتے ہیں تو یہ اپنا زیادہ تر وقت(اکثر خود اختیاری جلاوطنی کا )پاکستان سے باہر انہی ممالک میں گذارتے ہیں جہاں تارکینِ وطن بڑی بڑی تعداد میں آباد ہیں ایسے میں تارکینِ وطن کو اُن سابقہ حکمرانوں کے ساتھ بھی محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ اگر اپنے اقتدار کے اَیام میں اُنہوں نے تارکینِ وطن کے مسائل حل کرنے کیلئے کوئی مدد نہیں کی تھی تو وہ بھی کسی قسم کی ہمدردی کے مستحق نہیں ہونے چاہیں ایک بات اور وہ یہ کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ یہ اکیسویں صدی ہے کوئی پتھر کا زمانہ نہیں حکمرانوں کو اپنی من مانی کرنی آتی ہے تو اپنے مطالبات منوانے کے لئے تارکین ِ وطن کو بھی راست اقدام کرنے ہوں گے کب تک یہ حکمران عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے اَب وقت آگیا ہے یا تو حکمران فی الفور تارکینِ وطن کے مسائل کے حل کے لئے ضروری قانون سازی کریں یا پھر موجودہ حکمران اورتمام سابقہ حکمران تارکینِ وطن کی طرف سے سوشل بائیکاٹ کے لئے تیار ہو جایں۔ E:MAIL.>kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.