19th May 2021

K2 TV MANCHESTER

WE ARE WITH YOU EVERYDAY EVERYWHERE

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے استعمال کا حق (شکیل قمر مانچسٹر)

1 min read

اوورسیز پاکستانیوں کی سالہا سال کی چیخ وپکار کے بعد سپریم کورٹ نے ووٹ کاحق دینے کے لئے الیکشن کمیشن کے پیش کردہ طریقہ کار

کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئندہ 2018ء کے انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہو گی ،اگر چہ اوورسیز پاکستانیوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا مگر جس بھونڈے انداز میں اس مطالبے کو پورا کیا گیا ہے اس سے بہتر تھا کہ یہ مطالبہ منظور ہی نہ کیا جاتا

اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دینے سمیت دیگر تمام مطالبات پر مبنی تفصیلات وقتاً فوقتاًاخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں

مگرسپریم کورٹ نے ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دینے کے لئے الیکشن کمیشن کی بیوروکریسی کی انتہائی عجلت میں دی گئی تجویز کو تسلیم کرکے

اوورسیز پاکستانیوں کی تما م اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ،اوورسیز پاکستانیوں کا ہرگز یہ مطالبہ نہ تھا جو منظور کیا گیا ہے ،ووٹ کاسٹ کرنے کا

حق دینے کے ساتھ ساتھ جو دیگر قباحتیں تھیں سپریم کورٹ نے اُن کو درخوردِاعتناء نہ سمجھا اور الیکشن کمیشن کے پیش کردہ طریقہ ء کار کو ہی حتمی

قراردے دیا حالنکہ ووٹ کاسٹ کرنے کے مطالبے کا دوسرا حصہ اوورسیز پاکستانیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کادینا بھی شامل تھا مگر سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن دونوں ہی اس معاملے میں خاموش ہیں ،اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ تھی کہ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو انہی ممالک میں جہاں وہ رہتے ہیں ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دی گئی تو انتخابات کے وقت یہاں بھی سیاسی گہماگہمی شروع ہوجائے گی اور پاکستانی سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں یہاں پربھی پاکستانیوں کو گروہوں میں تقسیم کرکے آپس کے لڑائی جھگڑوں میں مبتلا کردیں گی ،جو کہ کسی طرح بھی قابلِ قبول نہیں ہے ،اس سے نہ صرف تارکینِ وطن کے آپس کے اتحاد کو نقصان پہنچے گا بلکہ جن ممالک میں اوورسیز پاکستانی رہتے ہیں وہاں کی سیاست میں اُن کا جوش وخروش کم ہو جائے گا اور یہ بھی انتہائی نقصان دہ ہے ،ہم نے ہمیشہ اپنے

کالموں میں اوورسیز پاکستانیوں کے تمام مسائل کو تفصیلی طور پر پیش کیا ہے اور سب سے پہلے ہمارا کہنا یہی تھا کہ اگر حکومت یا سپریم کورٹ

اوورسیز پاکستانیوں کے مطالبات پر غور کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے براہ راست اوورسیز پاکستانیوں کی رائے حاصل کر لی جائے ،تاکہ

حکومت یا سپریم کورٹ کو اصل صورتِ حال کے بارے میں معلوم ہو سکے ،مگر ایسا نہیں ہو سکا ،اب ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دینے سے وہ

فوائد ہرگز حاصل نہ ہو سکیں گے جو کہ اوورسیز پاکستانی اصل میں چاہتے تھے ،بلکہ اس طرح سے ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دینے سے جو

دیگر قباحتیں سامنے آیں گی اُس سے نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کو پریشانی ہو گی بلکہ حکومت پاکستان کے لئے بھی نئے نئے مسائل کھڑے ہو جایں گے ،ووٹ کاسٹ کرنے کے مجوزہ طریقے سے ایک نقصان یہ بھی ہو گا کہ ساڑھے آٹھ ملین میں سے جو چھ ملین ووٹر ہیں اُن میں سے بھی صرف دس فی صد لوگ ہی اپنا ووٹ بنا پایں گے اور باقی تمام ووٹ انٹرنیٹ کے دشوار معاملے کی بھینٹ چڑھ جایں گے ،اور جو ووٹ کاسٹ ہوں گے اُن میں بھی جعل سازی اور غیر شفافیت کابہت زیادہ احتمال ہو گا ،اصل معاملہ یہ ہے کہ دہری شہریت والوں کے حقوق کے بارے میں 1973ء کے آئین میں شامل پابندیوں پر ازسرِ نو غور کرنے کی ضرورت ہے جب تک 1973ء کے آئین میں دہری شہریت والوں پر انتخابات میں حصّہ لینے پر پابندی ہے تب تک ووٹ ڈالنے کا کوئی بھی طریقہ ء کار سود مند ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ آگے چل کر وہی آئینی پابندی تارکینِ وطن کے ووٹ ڈالنے کے بارے میں بھی آڑے آسکتی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ساٹھ لاکھ اوورسیز پاکستانی

ووٹر اپنے ووٹ کا حق تو استعمال کرلیں لیکن اُنہیں انتخابات میں حصّہ لینے کی بالکل اجازت نہ ہو ایسی صورت میں تارکینِ وطن کو اپنا ووٹ استعمال کرنے کا کیا فائدہ حاصل ہوگا ،وہ منتخب نمائندے جو کروڑوں پاکستانی ووٹروں کے منتخب کردہ ہوتے ہیں وہ آج تک پاکستانی عوام کے مسائل تو حل کر نہیں سکے ایسے میں اگر اُنہیں ساٹھ لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ بھی مل جایں تو اس سے کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے والی نہیں ہے لہذا اوورسیزپاکستانیوں کے اپنے نمائندے ہی یہ کام بطریقِ اَحسن کر سکتے ہیں اگر حکومت آئینی پابندیوں کو ختم کرکے اوورسیز پاکستانیوں کو انتخابات میں حصّہ لینے کی باقاعدہ اجازت دے، اس سلسلے میں 1973ء کے آئین میں دہری شہریت والوں پر عائد پابندی کو ختم کرنا بہت ضروری ہے مگر یہاں ایک اور مسّلہ درپیش ہے وہ یہ کہ دہری شہریت والوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کے سچے ہمدرد اور خیرخواہ نہیں ہیں اگر پابندی اُٹھانے کی صورت میں وہ لوگ بھی پارلیمنٹ میں پہنچ گئے تو ایک نیا سیاسی پنڈورا بکس کُھل جائے گا جسے سنبھالنا بہت ہی مشکل ہو سکتا ہے لہذا مختصر اً یہ عرض ہے کہ آئینی ماہرین اور اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت سے ایک کمیشن قائم کیا جائے جو اس سلسلے میں تفصیلی غورو فکر کے بعد ایسی آئینی اصلاحات تجویز کرے جس سے تمام مسائل حل ہوسکیں اور مستقبل کے خدشات سے بھی محفوظ رہا جا سکے ۔

E MAIL <<<<kamarshakeel.aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.