15th April 2021

K2 TV MANCHESTER

WE ARE WITH YOU EVERYDAY EVERYWHERE

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا ادراک!شکیل قمر مانچسٹر

1 min read

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا ادراک!شکیل قمر مانچسٹر

*برطانیہ آنے کے بعد جب مجھے اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل کا ادراک شروع ہوا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس سلسلے میں قلم

اُٹھاؤں گااور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو اُجاگر کرکے اربابِ بست و کشاد کے سامنے لاؤں گا مقصد صرف یہی تھا کہ اِن مسائل کے

بارے میں غیر جانبدارانہ حقائق کو سامنے لایا جائے اور کسی نہ کسی طرح اُن کا حل تلاش کیا جائے دنیا میں ہر ایک چیز کسی نہ کسی دوسری چیز

سے جڑی ہوتی ہے جب میں نے دیکھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل بھی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اُن مسائل کے حل

بھی اِسی طرح ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتے ہیں تو میں نے بھی سوچا کہ ایک ایک مسئلے کا حل تلاش کرنے کی بجائے مجموعی طور پر

تمام مسائل کو یک جا کیا جائے اور اس طرح اُن کا کوئی اجتماعی حل تلاش کیا جائے ،بہر حال اِسی قسم کے خیالات کے پیشِ نظر میں نے اپنے

کالموں میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو اُجاگر کرنا شروع کیا ،میرا طریقہ ء کار یہ تھا کہ میں اوورسیز پاکستانیوں کے کسی بھی ایک یا

ایک سے زیادہ مسائل پر کالم لکھتا اور مذکورہ کالم شائع ہوتے ہی اُس کی کاپیاں حکومتِ پاکستان کے متعلقہ محکموں کو ارسال کر دیتا ایسا

کرنے سے بہت سے مسائل فوری طور پر متعلقہ حکام کے نوٹس میں آجاتے اور اُن کے حل کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا ہونے لگتی بہر حال

ایسا کم کم ہی ہواکہ میرے اُجاگر کیئے گئے مسائل پر حکومتِ پاکستان نے از خود کوئی نوٹس لیتے ہوئے کسی حل کی طرف پیش قدمی کی ہو

ماسوائے چند ایک واقعات کے مگر میں نے اپنے کام میں ہر گز کمی واقع نہ ہونے دی اور بد ستور لکھتا رہا یہاں تک کہ آج کافی عرصہ گذرچکا

ہے اور میں مسلسل لکھے جارہا ہوں ،میرا کام ہے مسائل کی نشاشدہی کر کے اُن کو اُجاگر کرنا اور متعلقہ حکام تک پہنچانا اس سے پہلے کہ

حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کا کوئی حل تجویز کرئے ضروری تھا کہ حکومت کو اِن مسائل کے بارے میں مکمل معلومات ہوں اور

پھر اس کے حل کی طرف پیش رفت ہو سکے ،آج گذشتہ کئی سالوں میں لکھے گئے میرے کالموں کا یہ فائدہ دکھائی دے رہا ہے کہ حکومت نے

یہ محسوس کر لیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنا بے حد ضروری ہے سو اسی لئے مختلف اوقات میں حکمرانوں نے ان مسائل کو

حل کرنے کے وعدے بھی کیئے اور بالآخر حکومتی ایوانوں میں باہمی صلاح مشورے بھی شروع ہو گئے اِنہی مشوروں کے باعث وزیر اعظم

کے سیکریٹریٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کے حل کے لئے ایک شعبہ قائم کیا گیا پھرمحتسبِ اعلیٰ کے دفتر میں اوورسیز پاکستانیوں

کی شکایات سننے کے لئے ایک نیا شعبہ قائم کیا گیا اور پھر پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کی نگرانی میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے

لئے بھی ایک شعبہ قائم کیا گیا ،پہلے سے قائم اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت میں ضروری تبدیلیاں کی گئیں، اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کی

تشکیلِ نو کی گئی باقاعدہ قانون سازی کے بعد پنجاب اوورسیز کمیشن قائم کیا گیا ،پارلیمنٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی باز گشت

سنائی دینے لگی قومی اسمبلی اور سینٹ میں پارلیمانی کمیٹیاں تشکیل دی جانے لگیں اور مرکزی سطح پر قانون سازی کے لئے سرگرمیاں بھی

تیزہوتی ہوئی دکھائی دینے لگیں ،انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی نے اوورسیز پاکستانیوں کے لئے قانون سازی پر غور و خوض کے لئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جس کے متعدد اجلاس ہو چکے ہیں اور اس بات پر غور کیا جارہا ہے کہ تارکینِ وطن اپنے ووٹ کا استعمال کیسے کریں ؟

اور اگر اِن کو انتخابات میں حصّہ لینے کی اجازت دی جائے تو اُس کے قانونی پہلوؤں پر بھی غور وخوض کیا جائے گا ،اگر چہ آخری خبریں آنے

تک اوورسیز پاکستانیوں کے تمام مسائل اپنی جگہ جوں کے تُوں حل طلب موجود ہیں مگر پہلے کی نسبت تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ اوورسیز

پاکستانیوں کے تمام مسائل پر کوئی نہ کوئی پیش رفت ضرور ہو چکی ہے ،اَب معاملات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں ، ہوتا یہ ہے کہ کسی

بھی حکومت کے دور میں جو بھی تھوڑی بہت پیش رفت ہوتی ہے وہ نئی آنے والی حکومت کے دور میں ختم ہو کر دوبارہ صفر پر پہنچ جاتی ہے لہذا

اس مقام پر اوورسیز پاکستانیوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ موجودہ دور میں اُن کے مسائل کے حل کے لئے بہت زیادہ پیش رفت ہو چکی ہے

اور معاملات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں اس مقام پر اگر ہم نے عقل و حکمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاروائی آگے نہ بڑھائی تو

خدانخواستہ پھر کہیں ہم صفر کے مقام پر اپنا سا منہ لیکر نہ کھڑے ہوں، لہذا اس آخری مرحلہ پر اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے مسائل کوحل

کروانے کے لئے موجودہ حکومت پر بھر پور زور دینا ہو گا تاکہ حکومت سرخ فیتے سے بچتے بچاتے ہمارے مسائل کو حل کے مرحلے تک

پہنچاسکے ،اس سلسلے میں ہر پاکستانی کو حکومت پر زور دینا ہوگا کہ وہ ہمارے مسائل کو حل کرنے کا فوری اعلان کرئے اور اوورسیز پاکستانی

فاؤنڈیشن کے ذریعے تمام حل طلب مسائل کو حکومتِ پاکستان کی گارنٹی کیساتھ حل کرنے کے انتظامات کرئے ۔ 

E,MAIL<< kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.