20th October 2020

ایسی انتخابی اصلاحات کا کیا فائدہ جو عوام کی مرضی کے خلاف ہوں (شکیل قمر مانچسٹر

ایسی انتخابی اصلاحات کا کیا فائدہ جو عوام کی مرضی کے خلاف ہوں (شکیل قمر مانچسٹر)
ایک مشہور کہانی ہے کہ ایک کتّے کا بچہ کنویں میں گِر گیا تھا اور لوگوں نے مولوی صاحب کے کہنے پر ایک سو بالٹی پانی نکال کر پھینک دیا اُن

کے خیال میں کنویں کا پانی اَب پاک ہو گیا تھا اور قابلِ استعمال تھا مگر جب مولوی صاحب نے پوچھا کہ کتّے کا بچہ کہا ں ہے تو لوگوں نے 

بتایا کہ وہ تو ابھی تک کنویں میں ہی ہے تو مولوی صاحب نے کہا کہ پانی کیسے پاک ہو گا اگر کتّے کا بچہ کنویں سے نہیں نکالوگے ،بالکل ایسے 

ہی ہمارے ملک کی سیاست کا حال ہے انتخابی اصلاحات کے لئے بڑے زور و شور سے کام جاری ہے ،بے شمار قسم کی انتخابی اصلاحات کی

جارہی ہیں مگر کہیں بھی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اصلاحات نافذکرنے کی بات سنائی نہیں دے رہی ،جمہوری معاشرے میں سیاسی

جماعتیں بنیادی نرسری ہوا کرتی ہیں اسی نرسری سے تیار ہوکر تمام جمہوری لوگ آگے بڑھتے ہیں اگر یہی نرسری مضبوط نہیں ہوگی تو ملک میں

جمہوریت کیسے کامیاب ہو سکے گی ،ملک میں سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات کا باقاعدہ کوئی رواج ہے ہی نہیں زیادہ تر سیاسی جماعتیں 

فقط خانہ پوری کے لئے انتخابات منعقدکرتی ہیں اور نتیجہ یہ کہ بیس بیس سال تک ایک ہی خاندان یا ایک ہی سربراہ براجمان دکھائی دیتا ہے

اس کے مقابلے میں برطانیہ کی کامیاب ترین جمہوریت کی مثال لے لیجئے کوئی ایسی سیاسی جماعت دکھائی نہیں دے گی جس کا سربراہ

گذشتہ پانچ یا دس سال سے ایک ہی شخص ہو بلکہ سیاسی جماعتوں کے اندر اس قدر جمہوریت رائج ہے کہ ایک عام آدمی بھی سیاسی جماعت

کا سربراہ بن سکتا ہے جیسا کہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ رہی ہیں، عام لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لئے ضابطہء اخلاق ہونا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کوقانونی طور پر اس کا پابند ہونا چاہیے لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ

سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری اصلاحات کے قوانین نافذ کیئے جایں تاکہ تمام سیاسی جماعتیں قانونی طور پر اپنے اندر جمہوری طریقہ ء کار کے تحت انتخابات منعقد کرایں اور سیاسی جماعتوں میں موروثیت کو ختم کیا جائے ہمارے ہاں بد قسمتی سے بادشاہت اور خانقاہی نظام کی 

طرح سیاسی جماعتوں میں بھی موروثیت نے قبضہ جما رکھا ہے جس کی وجہ سے اکیسویں صدی میں بھی زمانہ ء قدیم کا نظام رائج ہے لہذا 

انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں سب سے اہم نقطہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کی مکمل بحالی ہے جب ہم سیاسی جماعتوں کے اندر 

جمہوریت کی مکمل بحالی کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب یقیناًیہی ہے کہ ایک عام آدمی کسی بھی سیاسی جماعت کا باقاعدہ رکن بن سکے اور 

اپنی سنیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر سیاسی جماعت کے کلیدی عہدوں تک پہنچ سکے اس طرح ایک عام سیاسی کارکن کو سیاسی تربیت کا پورا پورا 

موقع میسر آسکے گا اور وہ اپنی سنیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر سیاسی جماعت کے کلیدی عہدوں تک بھی پہنچ سکے گا دوسری طرف ایسے لوگوں کی

بھی حوصلہ شکنی ہو سکے گی جو صرف اپنی دولت کے بل بوتے پر سیاسی جماعتوں پر قابض رہتے ہیں اور دوسرے اہل لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں اگر سیاسی جماعتوں کے اندر قانونی طور پر اصلاحات کو نافذ نہ کیا گیا تو مذکورہ انتخابی اصلاحات کا کوئی

فائدہ حاصل نہ ہو سکے گا اس سلسلے میں اگر غور سے دیکھا جائے تو گذشتہ 70 سالوں میں پہلی مرتبہ باقاعدہ انتخابی اصلاحات کی طرف پیش رفت کی گئی اور وہ بھی ایسی اصلاحات جوکسی آمر نے بھی نہ کی ہوں،ایسی انتخابی اصلاحات کا کیا فائدہ جس سے سیاستدانوں کے مسائل

کو تو حل کر لیا گیا مگرعوام کے فائدے کی کوئی بھی اصلاحات شامل نہیں کی گئیں،بہر حال موجودہ جمہوریت پاکستان میں رائج رہنے والی 

آمریتوں سے بھی بد تر ثابت ہوئی ہے ، پاکستان میں جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے اندر باقاعدہ جمہوری طریقہ ء کارکے مطابق

قانونی اصلاحات کرنا اس لئے بھی بہت ضروری ہو چکا ہے کہ یہاں ہر پانچ یا دس سال کے بعد کوئی نہ کوئی ڈیڈ لاک آ جاتا ہے اور سارا نظام ہی پٹڑی سے اُتر جاتا ہے(جیسا کہ آجکل کی صورتِ حال دکھائی دے رہی ہے ) اس لئے ضروری ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے اور سیاسی جماعتوں کے اندر قانونی طور پر جمہوریت رائج کی جائے تاکہ جمہوریت کے فوائد عام آدمی تک بھی پہنچ سکیں ایسا کرنا کوئی مشکل کام نہیں

ہے بس برطانیہ میں رائج جمہوری اداروں اور سیاسی جماعتوں کے قوانین سے ہی استفادہ کرلیا جائے ۔ 

E Mail<<<<<<< kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *