23rd October 2020

بیرونِ ملک پاکستانیوں کا اتحاد اور (اُوپیک) کا قیام(شکیل قمر مانچسٹر)

بیرونِ ملک بسنے والے تمام پاکستانی صرف پاکستانی ہیں اور یہی اُن کی شناخت بھی ہونی چاہیے،اُنہیں پارٹیوں یا گروہوں میں تقسیم کرنے کی بجائے صرف پاکستانی ہونے کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے ، اس بات کا واضح مطلب یہ ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اوردوسرے گروہوں میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ پچاسی لاکھ اوورسیز پاکستانی ایک بہت بڑی قوت ہیں جن کا سب سے اہم مقصد ملک سے باہر رہ کر اپنے معاشی حالات کو بہتر کرنا ہے کیونکہ یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے وہ اپنے گھر اور اپنے پیاروں کو چھوڑ کر ملک سے دور گئے ہیں اس سب سے بڑے اور اہم مقصد کے علاوہ تمام اوورسیز پاکستانیوں کے اپنے اپنے دوسرے کئی مقاصد بھی ہوں گے جس میں مذہبی اور سیاسی مقاصد بھی شامل ہوسکتے ہیں مگرگذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے میں ہمیں جو تجربہ حاصل ہوا ہے اُس سے یہی بات سامنے آئی ہے کہ جس طرح ملک میں رہتے ہوئے ہم مختلف سیاسی پارٹیوں اور مذہبی گروہوں میں بٹ کر اپنی طاقت کا شیرازہ بکھیر چکے ہیں بالکل اسی طرح ہم نے بیرونِ ملک بھی اپنی طاقت اور قوت کو مختلف سیاسی پارٹیوں ،دھڑے بندیوں ،اور مذہبی گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ہماری طاقت اور قوت کا مرکز کسی ایک جگہ پر قائم نہیں ہے خاص طور پر سیاسی اور مذہبی گروہ بندیوں کی وجہ سے تو ہم نے اپنا بہت زیادہ نقصان کیا ہے بیشک کہ سیاسی اور مذہبی گروہ بندیوں کا فائدہ حاصل کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے مگر یہ کم لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے زیادہ لوگوں کو بہلا پِھسلا کر سیاسی اور مذہبی گروہوں میں تقسیم کر لیتے ہیں جس سے بحیثیت اوورسیز پاکستانی ہماری مجموعی طاقت اور قوت کمزور پڑجاتی ہے اور اس کمزوری کی وجہ سے ہمیں دوسرے بے شمار قسم کے نقصانات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں ،ویسے بھی دیکھا جائے تو جو کام ہم اکٹھے رہ کر کر سکتے ہیں وہ علیحدہ علیحدہ ہو کر کرنے میں زیادہ دشواری پیش آئے گی،بیرونِ ملک ہماری ایک پہچان ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور ظاہر ہے کہ پاکستان سے باہر آباد ہونے کی وجہ سے ہمیں اورسیز پاکستانی کہا جاتا ہے جیسا کہ اُوپر کہا جاچکا ہے کہ بیرونِ ملک آباد پاکستانیوں کی کل تعدادپچاسی لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ دو سو سے زیادہ ممالک میں آباد ہیں ،بیشتر ممالک میں اوورسیز پاکستانیوں کو دہری شہریت بھی حاصل ہے مگر پھر بھی اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی پہچان پاکستانی ہونا ہی ہے ،وطن سے دور اوورسیز پاکستانیوں کے بے شمار مسائل اور مشکلات ہیں جن کو بروقت حل کروانے کے لئے سبھی لوگ اکثر پریشان رہتے ہیں یہ مسائل اور مشکلات ہم سیاسی پارٹیوں اور مذہبی گروہوں میں تقسیم ہو کر ہرگز آسانی کے ساتھ حل نہیں کر سکتے بلکہ ان پارٹیو ں اور گروہ بندیوں کی وجہ سے ہمارے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہتا ہے خاص طور پرسیاسی پارٹیوں کے ذیلی گروپ قائم کر کے تو ہم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور یہی حال مذہبی گروہ بندیوں کا ہے حالنکہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری گروہ بندیوں کی وجہ
۲

سے نہ تو ہماری سیاسی جماعتوں کا کوئی فائدہ ہونے والا ہے اور نہ ہی اس طرح ہم مذہب کو کوئی نیک نامی دے رہے ہیں اس کے برعکس اگر ہم خود کو صرف پاکستانی ہونے کے ناطے ایک کمیونٹی کے طور پر مجتمع رکھیں تو اس سے ہمارے بہت سے فائدے ہو سکتے ہیں ہم بحیثیت پاکستانی کمیونٹی اپنے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے اجتماعی کوشش کرکے آسانی کے ساتھ کامیاب ہو سکتے ہیں ویسے بھی پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی پارٹیاں اور مذہبی گروہ موجود ہیں جو کہ ہر طرح سے برسرِپیکار ہیں اور یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ اس کے نتائج ہمارے سامنے کوئی زیادہ حوصلہ افزاء نہیں ہیں ،چاہیے تو یہ ہے کہ ہم پاکستان میں بھی اتحاد اور یگانگت کے ساتھ اپنے معاملات کو آگے بڑھایں لیکن بیرونِ ملک آباد ہونے کی وجہ سے بحیثیت ایک کمیونٹی ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے اتحاد کو سیاسی پارٹیوں اور مذہبی گروہوں میں تقسیم نہ ہونے دیں ،اتحاد کی طاقت اور برکت سے تو ہم سب واقف ہی ہیں لہذا یہاں بھی اگر ہم اپنے اتحاد کو قائم کر لیں تو ہمارے مسائل اور مشکلات کا حل بہت اَحسن طریقے سے ہو سکتا ہے ۔آجکل ملک کے اندر اور باہر اوورسیزپاکستانیوں سے متعلق کچھ معاملات پر بہت زیادہ بحث ومباحثہ ہورہا ہے جس میں کچھ معاملات کا سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لے رکھا ہے سب سے پہلا مسئلہ اوورسیز پاکستانیوں کا پاکستان کے انتخابات میں ووٹ کا حق استعمال کرنے کا ہے ،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لئے اُن ممالک میں انتظامات کئے جایں جہاں وہ آباد ہیں میرے خیال میں ایسا کرنا درست نہیں ہے اس سے بہت سے اور مسائل پیدا ہو جایں گے اور بیرونِ ملک اوورسیز پاکستانیوں میں مزید پارٹی بازی اور گروہ بندیوں کا خدشہ بڑھ جائے گا ،اس کے علاوہ ایک بہت ہی اہم تجویز یہ تھی کہ دنیا کے دو سو سے زیادہ ممالک میں آباد تقریباًپچاسی لاکھ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور مشکلات کے حل کے لئے ایک’’ ورلڈ اوورسیز پاکستانیز کونسل ‘‘ قائم کر دی جائے جس کی ممبر سازی نیکوپ کارڈ کی بنیاد پر ہو اور وہ کونسل حکومتِ پاکستان کے لئے اوورسیزپاکستانیوں کی طرف سے مشاورت کے فرائض سر انجام دے الحمد للہ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن نے ایک سو سینتیس سے زیادہ اراکین پر مشتعمل ’’اوورسیزپاکستانیزایڈوائزری کونسل ‘‘ (اُوپیک )قائم کر دی ہے جو کہ حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل اور مشکلات سے آگاہ کرئے گی اور اس طرح حکومت کے لئے ان مسائل اور مشکلات کو حل کرنا قدرے آسان ہو جائے گا ،اُوپیک نے اپنا

کام شروع کر دیا ہے اور الحمداللہ اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ،اُپی ایف کے بورڈ آف گورنر کے چئیرمین بیرسٹر امجد

ملک نے متعدد ممالک کا دورہ کیا ہے (جہاں بڑی تعداد میں اوورسیز پاکستانیزرہتے ہیں )اس طرح زندگی میں پہلی مرتبہ دنیا بھر کے تمام

اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ایک ہی جگہ ایک ہی اتھارٹی کے پاس جمع کیا جارہا ہے تاکہ اُن تمام مسائل کو حل کرنے کے لئے حکومت کے سامنے پیش کیا جائے اور حکومت اُن مسائل کو باقاعدہ حل کرنے کے لئے قانون سازی کر سکے ۔اس سلسلے میں ایک اور خوش آئیندبات یہ ہے کہ( اُوپیک )کے قیام کے بعد سے اُس کے دو افتتاحی اجلاس بھی ہو چکے ہیں ،پہلا اجلاس اسلام آباد میں 2جون 2017ء کو منعقد ہوا تھاجس میں دنیا کے مختلف ممالک سے بہت سے اوورسیز پاکستانیزاور (اُوپیک ) کے اراکین شامل ہوئے تھے،(اُوپیک ) کادوسرا اجلاس 19ستمبر 2017ء کو راچڈیل برطانیہ میں منعقد ہوا تھا اس طرح (اُوپیک) کے اراکین نے باقاعدہ اپنا کام شروع کر دیا ہے اور 

انشاء اللہ بہت جلد اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آنا شروع ہو جایں گے ۔ 
E:MAIL>>>>kamarshakeel@aol.co.uk 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *