29th November 2020

بیس سال سے اوورسیز پاکستانیوں کے کروڑوں روپے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر ڈوبے ہوئے ہیں ۔تحریر ۔شکیل قمر مانچسٹر

بیس سال سے اوورسیز پاکستانیوں کے کروڑوں روپے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر ڈوبے ہوئے ہیں ۔تحریر ۔شکیل قمر مانچسٹر
میرا صرف ایک سوال ہے کہ سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پر جو فراڈ ہوا ہے اُس کے ذمہ دار کون ہیں ،اُن کو سزا کب ملے گی اور متاثرین کوانصاف کب ملے گا ،شائد میرے اس سوال کا جواب حکمرانوں کے پاس بھی نہیں ہے،اسی لئے تو بیس سال سے سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں کے خون اور پسینے کی کمائی ہوئی رقم کو بڑی مہارت کے ساتھ سُرخ فیتے کی مدد سے ہڑپ کر لیا گیا ہے اس وقت نہ حکومت کچھ کر سکتی ہے اور ہی عدلیہ سبھی قانونی موشگافیوں کی آڑ میں خود کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں ،بیس سال پہلے سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں سے ہاؤسنگ سکیم کے نام پر حکومت کی طرف سے لی گئی رقم کے عوض اَب صرف اُن کو جھوٹے دلاسے دیئے جا رہے ہیں ،لے دے کربات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کی گئی تھی مگر وہاں سے بھی کوئی معقول جواب موصول نہیں ہو رہا ،بس قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز نے وزارتِ او پی ایف کو آخری بار تنبیہ کی ہے اور کہا ہے کہ بیس سال سے تارکینِ وطن کی ہاؤسنگ سوسائٹی پر کام ٹھپ پڑا ہوا ہے ،قائمہ کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ ایم ڈی کی بے بسی کی فریاد اس بات کی علامت ہے کہ ادارہ تارکینِ وطن کے پیسے کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے ،قائمہ کمیٹی نے دو ماہ تک معاملات کو نمٹانے کی بھی ہدایات کی ہیں ،او پی ایف کے ایم ڈی حبیب الرحمن جیلانی نے قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کو بتایا ہے کہ تحصیل دار سے لیکر پولیس اَفسران تک چکر لگا چکے ہیں کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے اُنہوں نے بتایا کہ آئیسکو نے اپنا کام جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ،قائمہ کمیٹی کی رکن عالیہ کامران نے کہا ہے کہ اگر سب کام قائمہ کمیٹی نے ہی کرنے ہیں تو او پی ایف کا فائدہ ،؟قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز منعقد ہوا تھا جس کی صدارت کمیٹی کے چئیرمین عامر علی خان مگسی نے کی ،کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن حبیب الرحمن جیلانی نے کہا کہ پروجیکٹ کی تکمیل میں اُمید کی کرن نظر آرہی ہے ،اُنہوں نیکہا کہ ایف ڈبلیو او نے پچانوے فی صد ڈویلپمنٹ کاکام مکمل کر لیا ہے مارچ تک سی بلاک کے 350پلاٹ تیار کرکے اَلاٹیز کے حوالے کر دیں گے ،اُنہوں نے کہا کہ 406کنال اراضی کے مقدمات ہائی کورٹ میں زیرِالتوا پڑے ہیں ،او پی ایف کے ایم ڈی نے یہ بھی بتایا ہے کہ سوسائٹی میں صاف پانی میّسر نہیں ہو سکت لہذا 24کنال اراضی صرف پانی کے لئے خریدی جا رہی ہے اُس سے اُمید ہے کہ پانی کا مسلہ حل کر لیا جائے گا ،32کنال اراضی آئیسکو کو گرڈ اسٹیشن بنانے کے لئے اَلاٹ کر رہے ہیں 500کنال اراضی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کو دے دی ہے معاہدے کے مطابق وہ ہمیں راستہ دیں گے مگر دوسال سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے ،

۲

ایم ڈی نے یہ بھی بتایا کہ سوسائٹی کی 102کنال اراضی پر قبضہ مافیاکا قبضہ ہو چکا ہے وہ بھی واگذار کرانا باقی ہے بہر حال قائمہ کمیٹی نے آخری وارنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ دو ماہ میں کام مکمل کر لیا جائے تب ہم دورہ کرکے حتمی فیصلہ دیں گے ،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ہاؤسنگ سوسائٹی کی پلاننگ کرتے ہوئے اُن تمام معاملات کا خیال کیوں نہیں رکھا گیا جو اَب آڑے آرہے ہیں لگتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے ہاؤسنگ سوسائٹی کی پلاننگ حکومتی ماہرین نے نہیں بلکہ کسی اَناڑی نے کی تھی اسی لئے ایک کے بعد ایک مسلہ کھڑا ہو رہا ہے اور اَب تو اتنے مسائل کھڑے ہو چکے ہیں کہ بیس سال گذرنے کے بعد بھی ایسا لگتا ہے کہ ابھی بیس سال مزید درکار ہیں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹی کو پایہ ء تکمیل تک پہنچنے کے لئے اس پروجیکٹ میں سب سے بڑا گھپلا یہ ہے کہ سینکڑوں اوورسیز پاکستانیوں سے کروڑوں روپے پہلے ہی وصول کئے جاچکے ہیں اور آج بیس سال گذرنے کے بعد بھی اُن کی رقم گٹر میں ڈوبی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *