28th October 2020

تارکینِ وطن ،ووٹ کاسٹ نہیں کر سکتے تو پارلیمنٹ میں نمائندگی کاکوٹہ مقرر کر دیا جائے! (شکیل قمر مانچسٹر)

اُصولی طور پر اوورسیز پاکستانی سب سے پہلے پاکستان کے شہری ہیں اور اس حیثیت سے پاکستان کے انتخابات میں اُنہیں ووٹ کاسٹ

کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے ،مسلہ صرف یہ ہے کہ ساڑھے آٹھ ملین اوورسیز پاکستانی ملک سے دور ہونے کے سبب اپنا ووٹ نہیں

کاسٹ کر سکتے اس مسلے کو حل کرنے کے لئے گذشتہ کئی سالوں سے نہ صرف اوورسیز پاکستانی اپنی آواز بلند کر رہے ہیں بلکہ پاکستان کی گذشتہ کئی حکومتیں اور اُن کے کرتا دھرتا بھی اوورسیز پاکستانیوں کے موقف کو تسلیم کر چکے ہیں اور کئی مرتبہ اربابِ بست و کشاد اپنے غیر ملکی

دوروں میں مذکورہ مسلہ کو جلد سے جلد حل کرنے کے وعدے بھی کر چکے ہیں اس کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک سے زیادہ

مرتبہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے معاملہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ،جس طرح کوئی سابقہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے مسلہ کو آج تک حل نہیں کر سکی اسی طرح قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی

اپنے ایک سو سے زیادہ اجلاسوں کے باوجود یہ مسلہ حل کرنے سے قاصر رہی ہے ،اوورسیز پاکستانی ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اپنے اس دیرینہ مطالبے کے حل کے لئے سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شائد چیف جسٹس آف پاکستان ہی اس مسلے کو حل کر سکیں

دراصل یہ مسلہ خاصہ اُلجھ چکا ہے ،پاکستان کی پارلیمنت میں موجود تمام سیاسی جماعتیں بھی اس مسلہ کو حل کرنا چاہتی ہیں اور تقریباً تمام متعلقہ فریقین بھی کسی نہ کسی طرح اس مسلے کے حل کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں مگر ’’ ہنوز دلی دور اَست ‘‘ ، اوورسیز پاکستانیوں

کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے معاملے کا براہ راست تعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ہے اور الیکشن کمیشن متعدد بار اس معاملے پر اپنی رائے دے چکا ہے اور وہ رائے یہ ہے کہ دنیا کے دو سو سے زیادہ ممالک میں پھیلے ہوئے پاکستانیوں کے ووٹ کا حق استعمال کرنے

کے کسی بھی طریقے کو اختیار کرنا بہت مہنگا پڑے گا اسی لئے الیکشن کمیشن کوئی اقدام کرنے سے گریزاں ہے ،بیشک یہ بات درست بھی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے انتظامات پر بہت زیادہ اخراجات ہو سکتے ہیں اور یہ اخراجات حکومت پاکستان

کو زرِمبادلہ کی صورت میں برداشت کرنے پڑیں گے اس لئے بھی یہ مسلہ ابھی تک جوں کا توں ہے ،ہم اس مسلے پر گاہے بگاہے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں لہذا ہم نے انتہائی سوچ و بچار کے بعد اس مذکورہ مسلے کو حل کرنے کے لئے یہ تجویز دی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں

کو براہ راست ووٹ کاسٹ کرنے کی بجائے پارلیمنٹ میں اِن کا کوٹہ مقرر کر دیا جائے اور ان کے نمائندوں کا انتخاب پارلیمنٹ میں

متناسب نمائندگی کے طریقے سے کر لیا جائے (جیسے کہ اقلیتوں اور خواتین کی نشستوں کا انتخاب ہوتا ہے )ایسا کرنے سے ایک طرف

اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل ہو جائے گی اور دوسرری طرف الیکشن کمیشن کو زیادہ اخراجات بھی نہیں کرنے پڑیں گے

اگر تمام فریقین اس حل کے لئے راضی ہو جایں تو سپریم کورٹ کے ایک آرڈر سے بھی یہ مسلہ حل ہو سکتا ہے بصورت دیگر ایک صدارتی

آرڈیننس جاری کرکے بھی اس مسلہ کو حل کیا جا سکتا ہے اور اگر وقت کی کمی کا مسلہ نہ ہو تو پارلیمنٹ اس سلسلے میں قانون سازی بھی کر سکتی ہے ،مزید وضاحت کے لئے عرض ہے کہ پارلیمنٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کو نمائندگی دینے کے لئے کوٹہ مقرر کر سکتی ہے اور اس سلسلے میں

تفصیلات اوورسیز پاکستانی فاونڈیشن کے بورڈ آف گورنر کے چئیرمین بیرسٹر امجد ملک کے پاس موجود ہیں جو کہ اُنہوں نے اوورسیز

پاکستانی ایڈوائزری کونسل کے اراکین سے صلاح ومشورے کے بعد جمع کر رکھی ہیں ،اصرف بات اتنی سی ہے کہ سپریم کورٹ یا حکومت

اس معاملے میں پہل کرتے ہوئے اپنا فیصلہ صادر کر دیں اور آئندہ انتخابات میں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے پارلیمنٹ میں کوٹہ مقرر کر کے اس مسلہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حل کردے اس طرح نہ صرف حکومت کے وہ وعدے بھی پورے ہو جایں گے جو اُنہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ کر رکھے ہیں اور سب سے بڑھ کر اوورسیز پاکستانیوں کے اس دیرینہ مطالبے کو حل کرنے سے تارکین وطن کو بھی

اطمینان اور سکون حاصل ہو سکے گا اور الیکشن کمیشن کو کوئی زیادہ اخراجات بھی نہیں چاہیے ہوں گے ۔

E MAIL <<<<

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *