17th January 2021

K2 TV MANCHESTER

WE ARE WITH YOU EVERYDAY EVERYWHERE

جسٹس ثاقب نثار کے لئے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے لیکچر سے راہنمائی حاصل کرنے کا مشورہ! (شکیل قمر مانچسٹر)

1 min read

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جیورسٹس کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی ایمانداری سے اپنے دلکی باتیں شیئر کی ہیں ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب کوئی قانون دان اپنی زندگی کے تمام مراحل طےکرکے ملک کے سب سے بڑے قانونی عہدے پر براجمان ہوتو پھر اُس کی زندگی خود اُس کے اپنے لئے بھی ایک امتحان سے کم نہیں ہوتی اور اس امتحان میں کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ وہ جان بوجھ کر فیل ہو جائے ،جسٹس صاحب نے اپنے ساتھیوں اور بار کے دوستوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اپنی رائے سے اُن کیراہنمائی فرمایں ،مگر یہاں ملک کے سب سے بڑے طبقہء مشاورت سے شائد جسٹس صاحب نالاں دکھائی دیئے ،بہر حال سب سے زیادہ درست مشورے اور تجزیئے ملک کے دانشوروں اور صحافیوں کی طرف سے ہی آتے ہیں ،وہ الگ بات کہ پاکستان کے اخبارات اور ٹیلیویژن کے پروگراموں میں جو درست مشورے اور تجزیئے پیش کئے جاتے ہیں وہ من وعن چیف جسٹس صاحب تک پہنچتے ہی نہیں اور اگر پہنچ جایں تو اُن پر کبھی عمل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ،یہاں میں خاص طور پر سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ کے اُس لیکچر کا ذکر کروں گا جو اُنہوں نے سپریم کورٹ میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیرِاہتمام ’’اداروں کا استحکام اور قانون کی حکمرانی ‘‘کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں دیاتھااُنہوں نے کہا تھا کہ آئین کے مطابق ریاست ہر فرد کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے عوام اور حکامکے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جارہی ہے ، سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ ہر پاکستانی کی نظر میں بدعنوانی ہی وہ ناسور ہے جو ریاست کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے لیکن کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی مؤثر قانون سازی نہیں کی جا سکی اس بدعنوانی کی وجہ سے ملک کو اربوں بلکہ کھربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ،قانون و آئین کا اطلاق اور بالا دستی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اسی بدعنوانی کی وجہ سے عوام میں عدم مساوات انتہا تک پہنچ رہی ہے اور مفلس و نادار طبقے پِستے چلے جارہے ہیں جبکہ دولت مند مزید دولت مند ہوتے جارہے ہیں ریاست اور عوام میں خلیج کم کرنے کے لئے کرپشن ختم کرنا ہوگی ،ہمارا نظامِ احتساب کمزور، ریاستی اداروں میں حساسیت اور جواب دہی کا فقدان ہے ہمیں اپنی اخلاقی اقدار پر بھی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے ،معاشرتی قدروں میں جس قدر انحطاط اور تنزلی رونما ہورہی ہے اچھے اور بُرے غلط اور صیحح سفید اور سیاہ دھن میں تمیز ختم ہوتی جارہی ہے اگر آج ہم اپنے ملک کو درپیش مسائل سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سنجیدگی سے ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں کو ختم کرنے کا اہتمام کرنا ہوگا اور ان تمام نو آبادیاتی نشانیوں کو مٹانا ہوگا جن کا مقصد ہی یہ تھا کہ عوام کو ہر لمحہ محکوم اور مغلوب ہونے کا احساس دلایا جائے ، سابق چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عوام ہی ہیں جن کےلئے ریاست اور اس کے تمام ادارے تخلیق کیئے جاتے ہیں لیکن ریاستی اداروں تک شہریوں کی رسائی کم سے کم تر ہورہی ہے شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ان پر ریاست کا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ شہریوں کا استحقاق ہے ایسا استحقاق ہی ریاستی پالیسیوں اور اصلاحات کی بنیاد ہونا چاہیے ،آج ہم تاریخ کے دھارے میں جہاں کھڑے ہیں وہاں ریاست اور عوام میں خلیج کو پُر کرنے کی ضرورت ہے یہ خلیج اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ معاشی اور سیاسی طبقات کے درمیان ناہمواری اور عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کرپشن کے خاتمے کے لئے مؤثر قانون سازی کی جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ وقت کا تقاضہ بھی ہے اس لئے حکومت اور قانون ساز اداروں کو چاہیے کہ وہ حالات کے مطابق اس پر فوری توجہ دیں اور کرپشن کے خاتمے کے لئے ہر محکمے اور ہر ادارے کی سطح پر قانون سازی کی جائے ،مجھے اُمید ہے کہ سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے مشورے اور تجزیئے آج بھی قابلِ عمل ہیں اگر موجودہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار چاہیں تو ان مشوروں پر عمل درآمد کے لئے اعلی عدلیہ سے لیکر پارلیمنٹ تک کی سطح پر کوششیں کی جا سکتی ہیں ۔

E MAIL<<<<<<< kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.