5th December 2020

حکمران اور ادارے عوام کا استحصال بند کریں ! (شکیل قمر مانچسٹر)

حکمران اور ادارے عوام کا استحصال بند کریں ! (شکیل قمر مانچسٹر) مملکت اور اس کے ادارے عوام کے لئے تخلیق کیئے جاتے ہیں گویا مملکت کی تشکیل میں سب سے اہم عوام ہوتے ہیں ،ہم اگر پاکستان کی 70سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس مملکتِ خداداد پاکستان میں سب سے زیادہ عوام ہی کو نظر انداز کیا گیا ہے ،عوام نے اس مملکت کی تشکیل سے لیکر استحقام تک تمام ذمہ داریاں ہمیشہ بطریقِ احسن انجام دی ہیں لیکن بدلے میں اس مملکت کے اداروں نے عوام کو ہمیشہ مایوس کیا ہے اگر مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ کا ہی ذکر کیا جائے تو یہ تینوں ادارے 70سالہ تاریخ میں اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں بُری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں اس سے آگے چلتے ہیں اور ان اداروں کے ذیلی اداروں کا ذکر کرتے ہیں ، حکمران اور ادارے جو درحقیقت عوام کے لئے بنائے جاتے ہیں پاکستان میں اُنہوں نے عوام کی خدمت کو اپناشعار بنانے کی بجائے عوام کو اپناخدمت گذار اورمحکوم بناکے رکھنے کی پالیسی کو اپنایا ہوا ہے آج تک یہی ہوتا آیا ہے کہ حکمران اور ادارے جو عوام کی خدمت کے لئے بنائے جاتے ہیں اُنہوں نے عوام کی خدمت کے سوا باقی سب کام کیئے ہیں بلکہ حکمرانوں نے نہ خود عوام کی خدمت کی ہے اور نہ ہی اداروں کو یہ کام کرنے دیا ہے اس کے برعکس حکمرانوں نے ہمیشہ اداروں کو صرف اپنی اورخواص کی خدمت پر مامور کر کے رکھا ہوا ہے ،مملکت کی نوازشات صرف حکمرانوں اور خواص کے لئے مختص ہیں جبکہ عوام اپنی بنیادی ضروریات کے لئے بھی در بدر پھر رہے ہیں عوام کی خدمت کے لئے مقرر کیئے گئے حکمران جب سڑکوں سے گذرتے ہیں تو عوام کو گھنٹوں تک ان سڑکوں سے گذرنے کی اجازت نہیں ہوتی ،دنیا کی تمام آسائشیں اور مراعات صرف حکمرانوں اور ان کے منظورِنظر خواص کے لئے ہیں وہ حکمران جو عوام کے ایک ایک پیسہ ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم سے تنخواہ لیتے ہیں وہ بدلے میں عوام کے لئے کچھ نہیں کرتے بلکہ تنخواہ لینے کے ساتھ ساتھ عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے کے چکر میں سر گرم رہتے ہیں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اہل کار بھی عوام کے ایک ایک پیسہ ٹیکس سے جمع ہونے والی رقم سے تنخواہیں لیتے ہیں اور ٹھاٹھ دار زندگی بسرکرتے ہیں لیکن یہ عوام کے تنخواہ دار ملازم عوام پر حکمرانی کرتے ہیں کبھی کسی حکمران اور سرکاری ملازم کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ عوام کے خدمت گزار ہیں بلکہ ایسے لگتا ہے کہ عوام ان کے غلام ہیں سڑکوں پر جہاں سے حکمران گذر رہے ہوتے ہیں وہاں عوام گھنٹوں کھڑے ہوکر حکمرانوں کے گذرنے کا انتظار کرتے ہیں ،دفتروں کے باہر عوام حکمرانوں اور افسرشاہی کے کارندوں کو ملنے کے لئے گھنٹوں بلکہ ہفتوں اور مہینوں انتظار کرتے رہتے ہیں اس طرح کی اور بھی ہزاروں مثالیں دی جاسکتی ہیں اور ان تمام مثالوں سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام ان حکمرانوں اور افسرشاہی کے ملازم ہیں،ایسا کیوں ہے ،یہ روایت کب بدلے گی ؟اور اس روایت کو بدلنے کا طریقہء کار کیا ہو گا ؟ ظاہر ہے کہ جمہوریت میں ہم اپنا ووٹ دیکر ان حکمرانوں کو منتخب کرتے ہیں اگر ہم اپنا ووٹ استعمال کرنے سے پہلے ان حکمرانوں سے یہ ضمانت حاصل کر لیں کہ یہ منتخب ہونے کے بعد وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کریں گے اور اس بات کی تحریری ضمانت ان سے حاصل کر لی جائے تو ممکن ہے کہ عوام کو حکمرانوں کے وی آئی پی کلچر سے نجات مل جائے ایسا کرنے میں کوئی بھی حرج نہیں ہے بس انتخابات سے قبل عوام کو سوشل میڈیا پر تحریک چلانے کی ضرورت ہے اور جب سارے ملک کے عوام مل کر ایک آواز میں تمام سیاست دانوں سے یہ مطالبہ کریں گے تو ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ یہ سیاست دان عوام کے مطالبے کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کریں رہی بات یہ کہ سیاست دانوں کے لئے اپنے وعدے سے مکّر جانا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن عوام کے پاس کوئی اور راستہ بھی تو نہیں ہے لہذا مجوذہ طریقہ ء کار اپنانے میں حرج ہی کیا ہے درحقیقت عوام حکمرانوں کے وی وی پی آئی کلچر سے تنگ آچکے ہیں عوام کے لئے ہسپتال تک جانے کے لئے ایمبولینس دستیاب نہیں ہوتی اور ایک وزیر یا مشیر کے قافلے میں پچاس گاڑیاں پروٹو کول کے لئے ساتھ چلتی ہیں اس کے علاوہ بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک صرف حکمرانوں ،اَفسر شاہی،سیاستدانوں اور جاگیر داروں کے لئے ہی بنا ہے گذشتہ 70سال میں اِنہی لوگوں کے وارے نیارے ہوئے ہیں بے چارے عوام تو پستے چلے جارہے ہیں ذرا غور کیا جائے تو ابتداء میں صرف ایوب خان کے دورِ حکومت میں عوامی فلاح وبہبود کے کچھ کام ہوئے پھر اُس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں عوام کو تین تین مرلے کے پلاٹ اور رہائشی اسکیمیں بنا کر دی گئیں اُس کے بعد آج تک صرف افسر شاہی اور سیاست دانوں کے لئے ہی پلاٹوں کی بند ر بانٹ دیکھنے میں آئی ہے عوام کے لئے تو قبر کی زمین کے دام بھی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں بے روز گاری بہت بڑھ چکی ہے ،مہنگائی ہے کہ اس نے لوگو ں کو خود کُشیاں کرنے پر مجبور کر رکھا ہے مگر حکمرانوں اور سیاست دانوں کے جھوٹ ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے وزیر خزانہ کہتے ہیں ملک کی مالی حالت آگے سے بہت بہتر ہو گئی ہے مگر غور سے دیکھا جائے تو عوام کی حالت آگے سے مزید اَبتر ہو چکی ہے مختصر یہ کہ کوئی تو ہو جو اس قحط الرجال میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو، کہیں سے تو ابتداء ہونی چاہیے یہ کام عوام کو خود ہی کرنا پڑے گا جب تک عوام اپنی بھلائی کے لئے خود نہیں سوچیں گے کوئی ان کے لئے سوچنے کی زحمت نہیں کرے گا لہذا عوام کو اَب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جس نے بھی ووٹ لینا ہے وہ پہلے عوام کے مسائل حل کرے یا کم از کم ہر ایم این اے اپنے حلقے کے لوگوں کو تحریری طور پر حلفیہ بیان لکھ کر دے اور پہلے چند ماہ میں اگر وعدے پورے نہیں کیئے جاتے توایم این اے اپنی سیٹ سے مستعفی ہو جائے۔عوام کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اُن کا سب سے بڑا مجرم کون ہے اور اب وقت آچکا ہے کہ اپنے دشمنوں کو گریبان سے پکڑ کر ان سے حساب لیا جائے کیا یہ انصاف ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہر ایم این اے اپنی تنخواہ ساڑھے تین لاکھ روپے ماہانہ مقرر کروالے اور بے چارے غریب مزدور کی تنخواہ صرف بارہ ہزار روپے مقرر ہوجبکہ ایم این اے کے لئے بے شمار مراعات بھی ہوں اور غریب مزدور کے بچے کو ہسپتال میں ڈاکٹروں کو لاکھوں روپے فیس ادا کرنا پڑے ،اب وقت آچکا ہے کہ عوام اپنے مسائل پر غور کریں اور استحصالی طبقوں سے ملک اور قوم کو نجات دلوانے کے لئے اپنی جدوجہد کو تیز سے تیز تر کریں ۔ E:MAIL>>>>kamarshakeel@aol.co.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *