23rd October 2020

دلیم سے بلیک فرائیڈ ے تک

امریکہ میں سن 1952 ء سے جاری ہونےوالا بلیک فرائیڈ ے اصل میں وہ دن ہے جب وہاں مارکیٹس اور سٹور ز میں سیلیں لگ جاتی ہیں اور اشیا ء بہت ہی کم قیمت میں ملتی ہیں یہ سیل اصل میں کرسمس سے پہلے شہریوں کو بھرپور شاپنگ کا موقع دیتی ہیں
امریکہ کی دیکھا دیکھی دنیا بھر کے مغربی ممالک نے بھی اس روایت کو اپنا لیا ۔
کچھ سا ل سے پاکستان میں بھی اس قسم سیل کا آغاز کیا گیا ہے لیکن چونکہ ہمارے فیس بکی دانشوروں نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ انہوں نے ہر چیز کو جائز یا ناجائز کے تناظر میں دیکھنا ہوتا ہے اس لیے وہ بہت ہی علمی و تحقیقی پوسٹ شئیر کرنا ضروری سمجھتے ہیں
حلیم کو دلیم کہنے اور یوم میلاد ہر لفظ عید کے اضافے کو ناجائز کہنے کی تحقیق کے بعد اب انہوں نے یہ تحقیق کی ہے کہ بلیک فرائیڈے کہنا دراصل جمعہ کے مقدس دن کی توہین ہے البتہ ان دانشوروں کو پتہ نہیں کہ بلیک کا لفظ توہین کے لئے استعمال نہیں کیا گیا تھا بلکہ ایک سال سیل پر اتنا رش ہوگیا تھا کہ لوگوں کو ہجوم امڈ آیا تھا

ویسے بھی سوچنے کی بات ہے اگر لفظ بلیک کسی بات کی توہین کی نشانی ہے تو حجر اسود بلیک کیوں ہے ؟ خانہ کعبہ کا غلاف بلیک کیوں ہے ؟ قرآن کے حرف بلیک کیوں ہیں اور عاشقوں کی سردار بلال بلیک کیوں ہیں ؟
اصل میں ہم نے ساری تحقیق الفاظ کو اسلامی اور غیر اسلامی کرنے میں گزار دی کرنے والے کام پر کوئی توجہ ہی نہیں دی

کرنے والا کام یہ تھا کہ مذہبی پیشواوں کا گروپ پاکستان میں انجمن تاجران سے ملتا اور اسے کہتا کہ اگر آپ اس طرح کی سیل لگانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے سب سے اہم موقع رمضان سے پہلے ہے تاکہ غریب سے غریب پاکستانی بھی اپنے بچوں کے لئے شاپنگ کر سکتا عید کے لئے نئے کپڑے خرید سکتا
بموبائیل خود محمودچوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *