30th November 2020

رمضان اور بیمار ………………

…………… رمضان اور بیمار ………………

※ اللہ تعالی دنیا والوں پر رحم فرمائے، ہر سال ورلڈ وائڈ مستقل قسم کی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ہر چوتھا پانچواں شخص کسی مستقل بیماری میں مبتلا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق 2022 تک کینسر، شوگر، بلڈ پریشر جیسی بیماریوں میں ورلڈ وائڈ 33% اضافہ ہو جائے گا یعنی ہر تیسرا آدمی ان بیماریوں میں مبتلا ہو گا۔ ایسے حالات اور مسائل میں رمضان کے روزے اور عبادات کے حوالے کچھ باتیں آپ سے شئیر کرنا چاہتا ہوں۔

※ سفر اور بیماری کی حالت میں اگرچہ روزہ چھوڑنے کی رخصت اللہ پاک نے قرآن پاک میں عنایت فرمائ ہے لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا ہے “ فَمَن تَطَوََعَ خَیراً فَھُوَ خَیرٌ لَہٗ وَ اَن تَصُومُوا خَیرٌ لَّکُم اِن کُنتُم تعلمُون” لیکن جو اپنی مرضی سے نیکی کرے اس کے لئے اچھا ہے اور اگر تم روزہ رکھ لو تو تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم (روزے کی اہمیت کو) جانتے ہو۔

※ آیت کے اس حصے میں لفظ “ تطوع” استعمال ہوا ہے اس کا معنی ہے “ اپنی خوشی سے/ خود سے تکلیف برداشت کر کے نیکی کرنا” اور پھر ساتھ روزہ رکھ لو تو زیادہ بہتر ہے، یعنی کوئ ایسی بیماری/ کوئ ایسا سفر جس میں تم روزہ manage کر سکو تو چھوڑنے کی بجائے رکھنا زیادہ بہتر ہے اگرچہ چھوڑنے کی رخصت ہے۔

※ آج کل تو سفری سہولیات بہت ہیں اور بہت آرام دہ سفر ہوتے ہیں ایسی صورت میں تھوڑی بہت پریشانی کے ساتھ بھی روزہ پورا کر لینا زیادہ اچھا ہے، اسی طرح بیماری کا معاملہ ہے، کچھ بیماریاں تو ایسی ہیں جن میں روزہ بہت معاون ثابت ہوتا ہے، لہذا خواہ مخواہ عذر کی آڑ میں روزہ کی برکت اور فضیلت سے محرومی اچھی بات نہیں۔

※※ جو شوگر کے مریض انسولین انجکشن لگاتے ہیں اگر وہ بھوک اور پیاس کو مینج کر لیں برداشت کر سکیں تو انجکشن تو وہ روزے کی حالت میں بھی لے سکتے ہیں ( اگرچہ انجکشن لینے میں کچھ اختلاف ہے لیکن مضبوط رائے یہی ہے کہ جو چیز “ منافذ اصلیہ” یعنی فوڈ پائپ ( گلے ) کے ذریعے سے معدے میں جاتی ہے اسی سے روزہ ٹوٹتا ہے ورنہ نہیں، اور اسی طرح جو چیز ڈائریکٹ معدے میں پہنچے اس سے ٹوٹتا ہے، ان ڈائریکٹ سے نہیں ) لہذا انسولین والے مریضوں کو روزہ رکھنا اور اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

※※ جو لوگ صبح شام دوائ کھاتے ہیں لیکن انہیں بھوک پیاس کا مسئلہ ہوتا ہے زیادہ لمبا ٹائم خالی پیٹ نہیں رہ سکتے ان کے لئے گذارش یہ ہے کہ انہیں روزانہ “ سحری کھانی چاہیے، روزے کی نیت سے دن کا آغاز کریں، اللہ تعالی سے ہمت اور توفیق مانگیں کہ روزہ پورا ہو جائے، بہت امید ہے کہ رب کریم انہیں ہمت عطا فرمائیں گے اور تھوڑی بہت مشقت کے بعد روزہ پورا ہو جائے گا، اور اگر چار، چھ، آٹھ گھنٹوں کے بعد انہیں محسوس ہو کہ اب اس سے آگے جانا ان کے مشکل ہے تو بے شک روزہ توڑ دیں، نہ صرف انہیں کوئ گناہ نہیں ہو گا بلکہ اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ کی جانے والی کوشش پر انہیں پورا دن روزہ رکھنے کا اجر ملے گا۔

اپنی پوری کوشش کیے بغیر ہی پہلے دن سے یہ طے کر لینا کہ روزہ نہیں رکھوں گا، مناسب رویہ نہیں ہے۔

※※ وہ بیمار جو ٹائم لمبا ہونے کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے ان کے لئے اگلا قدم فدیہ نہیں ہے بلکہ ان کے لئے ضروری ہے کہ انتظار کریں جب دن چھوٹے ہو جائیں دسمبر جنوری میں اس وقت ان کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہے لیکن اگر چھوٹے دنوں میں بھی روزہ نہ رکھ سکیں تو اب ان کے لئے فدیہ دینے کی اجازت ہے۔

۔دوسرا طریقہ ان کے لئے یہ ہے کہ چونکہ “ قرآن نے فرمایا ہے کہ جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ کرے اسی کے لئے بہتر ہے “ تو اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جتنا فدیہ بنتا ہو اس سے کچھ زیادہ دے دے، لیکن اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ فدیہ بھی دے دے اور بعد میں صحت کچھ بہتر ہو، دن چھوٹے ہوں تو روزہ بھی رکھ لے، لہذا ان مریضوں کو چاہیے کہ رمضان میں اپنے روزوں کا فدیہ بھی دے دیں اور بعد میں دسمبر جنوری میں روزے بھی رکھیں، اللہ انہیں اجر بھی زیادہ عطا فرمائے گا۔

※※ فدیہ کتنا ہے ؟ ایک روزے کا فدیہ “ ایک مسکین کو دو وقت کا نارمل کھانا کھلانا “ ہے، قرآن نے دوسری جگہ پر قسم کے کفارے کا فدیہ کا ذکر کیا تو بتایا “ من اوسط ما تطعمون اھلیکم” مائدہ ۔ اوسط درجے کا کھانا دو جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو، یعنی تمہارے کھانے کا حساب کرنا ہے، اگر کسی دوسرے ملک میں فدیہ بھیجنا ہے تو اپنے کھانے کے حساب سے پیسے بھیجیں۔ یوکے کے حساب سے پانچ سے چھ پاؤنڈز ہر دن کے حساب سے فدیہ دینا ہے۔

※※ جو بیمار روزے نہیں رکھیں گے ان سے گذارش ہے کہ ٹھیک ہے آپ عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ رہے لیکن رمضان کے مقدس مہینے کا احترام ضروری ہے، اپنے بچوں، فیملی اور دوسروں کے سامنے مزے لے لے کر کھانا پینا مت کریں، یہ رمضان کی بے احترامی اور کھلی بے شرمی ہے، بلکہ چھپ کر اپنی مجبوری کی وجہ سے ضرورت کو پورا کریں، انجوائے مت کریں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سارا دن چائے کافی اور کھانے مت اڑائیں اور فون کر کر کے اس کو فیشن کے طور پر دوسروں سے شئر مت کریں۔

‏※※ inhaler ان ہیلر استعمال کرنے والوں کے لئے گذارش ہے کہ دو قسم کے ان ہیلرز مارکیٹ میں دستیاب ہیں، ایک گیس والے ( ان میں سوائے گیس اور ہوا کے اور کچھ نہیں ہوتا) روزے کی حالت میں ان کے استعمال میں حرج نہیں ہے کیونکہ ہوا کے علاوہ کوئ چیز آپ کے منہ میں نہیں جاتی۔ دوسری قسم ہے جن میں پاؤڈر کی طرح کی چیز بھی ہوتی ہے ان کا استعمال روزے کی حالت میں درست نہیں۔

محمد اقبال یورپین اسلامک سنٹر اولڈھم یوکے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *