26th November 2020

رمضان کے چاند کے اعلان کے ساتھ ہی بہت کچھ بدل گیا، کھانے پینے کی روٹین بدلی، آرام کرنے ، سونے جاگنے کا نظام بدل گیا

………………….میرا دل بدل دے ………………..

رمضان کے چاند کے اعلان کے ساتھ ہی بہت کچھ بدل گیا، کھانے پینے کی روٹین بدلی، آرام کرنے ، سونے جاگنے کا نظام بدل گیا ، پڑھنے پڑھانے کی عادت بدل گئی ، عبادات کا شیڈول بدل گیا ، بہت کچھ بدلا لیکن کیا ہماری سوچ بدلی ؟ ہماری پسند اور ناپسند کا پیمانہ بدلا؟ ہمارے دلوں میں پائ جانے والی کدورتیں اور نفرتیں بدلیں ؟ محبت اور اتفاق کے بہانے ڈھونڈنے کی بجائے نفرت اور فتوے کے بہانے ڈھونڈنے کا مزاج بدلا؟ المختصر ہمارا دل بدلا کہ نہیں؟ سب کچھ بدل جائے دل نہ بدلے تو کچھ نہیں بدلا۔

“اذ کنتم اعداء فَاَلَّفَ بین قلوبکم” ( آل عمران ۱۰۳)

تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اور اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالی۔

کبھی آپ نے غور کیا یہ الفت کیا ہے ؟ الفت کا معنی ہے “ منتشر اجزاء کو اکٹھا کرنا، دوسرے کی عادت کو اختیار کر لینا ، گھنا باغ، ایک دوسرے کے رنگ میں رنگ جانا ۔

※ گھنے باغ کی طرح ایک دوسرے سے گھل مل جاؤ ایک دوسرے کی طاقت بنو ایک دوسرے کے لئے حفاظت بنو کیونکہ باغ حفاظت بھی کرتا ہے۔

※ یہ الفت منہ پر سجانے والی چیز نہیں ہے کہ ہنس ہنس کے مل لیا لیکن دلوں میں نفرت ویسی کی ویسی ہی ہو ، یہ تو منافقت ہوتی ہے، اوپر اوپر سے پیار دکھانے کا نام الفت نہیں ہے بلکہ اللہ نے فرمایا “ بین قلوبکم” دلوں کے اندر، اندر، اندر۔ جب تک دل نہیں بدلا کچھ نہیں بدلا ، آئیے اس رمضان میں بدلیں خود کو، بدلیں دل کو ، تبھی بدلے گی یہ دنیا۔

رمضان تو دے رہا ہے ہمیں لینے کے لئے تیار ہونا ہے۔

* تم جو چاہو تو کیا نہیں ممکن

تم نہ چاہو تو کیا کرے کوئ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *