24th October 2020

رنجیت سنگھ پنجاب کا حکمران تھا ۔ وہ ایک آنکھ سے کانا تھا ۔ اس نے ایک دفعہ ایک مسلمان

رنجیت سنگھ پنجاب کا حکمران تھا ۔ وہ ایک آنکھ سے کانا تھا ۔ اس نے ایک دفعہ ایک مسلمان دانشور کو عجیب امتحان میں ڈال دیا ۔۔کہنے لگا کہ تم لوگ کہتے ہو کہ قرآن میں ہر بات کا ذکر ہے بتاﺅ میرا ذکر کہاں ہے ؟

حاضر جوا ب دانشور کہنے لگا جناب آپ کا ذکر تو پہلے سیپارے میں ہی ہے ۔ و کان من الکافرین ۔ اور کانا ہوگا کافروں میں سے ۔۔۔

کچھ اسی طرح کی تحقیق سے کچھ مفتیان فیس بک مجھے ایسی تحریروں کی طرف متوجہ کر رہے ہیں جن میں دانشوروں نے بڑی گہری محنت سے یہ ثابت کر نے کی کوشش کی ہے کہ گالی دینا باقاعدہ قرآن سے ثابت ہے ۔

میرا ان صاحبان علم و تحقیق سے صرف اتنا سوال ہے کہ وہ عظیم ہستی راحت انس و جان صلی اللہ علیہ وسلم کہ جن پر قرآن نازل ہوا اور جن کے خلق کو مجسم قرآن کہا گیا ہے ۔ کیا انہوں نے اس قرآنی حکم کی عملی تفسیر کر کے دکھائی تھی ؟؟

آپ اپنے ایشوز منوائیں ، احتجاج کریں ، گالیاں دیں یا جو بھی طریقہ اپنائیں لیکن برائے مہربانی اس کے لئے ہماری مذہبی روایات کو اپنی ذاتی خواہشات کا جامہ نہ پہنائیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔۔۔

ان اللہ لیبغض الفاحش البذیء

اللہ تعالٰی بےحیا اور فحش گو شخص سے نفرت کرتا ہے (ترمذی ٢٠٠٢ صحیحہ الالبانی)۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *