26th October 2020

روزہ دار دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک جسمانی روزہ دار اور دوسرے روحانی روزہ دار

………….. رمضان اور خواتین ……………….

※※ روزہ دار دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک جسمانی روزہ دار اور دوسرے روحانی روزہ دار۔ اب کیسے علم ہو گا کہ جسمانی کون سے ہیں اور روحانی کون سے؟ یہ کوئ ایسا مشکل سوال نہیں ہے آپ آسانی سے جان سکتے ہیں کہ کون کس کیٹیگری میں آتا ہے۔

جب بھی رمضان اور روزے کا ذکر آپ کے سامنے کیا جائے تو دیکھنا یہ ہے کہ کون سی چیزیں سب سے پہلے آپ کے ذہن میں آتی ہیں یا کن چیزوں کو ذہن میں لا کر آپ کو خوشی ہوتی ہے ؟ مثلاً رمضان اور روزے کا ذکر کریں اس کی پلاننگ کی بات کریں تو کچھ لوگوں کے ذہن میں سب سے پہلے آتی ہے “ شاپنگ نئے کپڑے، نئے جوتے، عید کی تیاری، افطار پارٹیز، سموسے پکوڑے، کچن کی مصروفیات، کھانے پکانے کی باتیں، وغیرہ وغیرہ، ایسے لوگ جسمانی روزے دار ہوتے ہیں۔ اور جن کے ذہن میں آتا ہے “ سحری، تہجد، تراویح، قرآن کی تلاوتیں، گناہوں کی بخشش، صدقہ، زکات، خدمت، دوسروں کی مدد، پڑوسیوں کا خیال، اعتکاف اور اس طرح کے باقی امور کی پلاننگ وغیرہ تو ایسے لوگ الحمد للہ روحانی روزہ دار ہوتے ہیں۔

※※ کلچرلی ہماری ماؤں اور بہنوں کی اکثریت کا رمضان کچن میں گذرتا ہے، ان سے اور ان کے گھر والوں سے گذارش ہے کہ جس طرح رمضان کی عبادات مردوں کے لئے ہیں ویسے ہی خواتین کے لئے بھی ہیں، تقوی کا حصول، قرآن کی نعمت پر اللہ کی شکر گذاری، اور روحانی ترقی خواتین کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے بلکہ ایک لحاظ سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ خواتین نے ہی مستقبل کی نسلوں کی تربیت کرنی ہوتی ہے۔ لہذا جس حد تک ضرورت ہو ضرور کچن میں وقت دیں لیکن رمضان کو پارٹیوں کا، رنگ برنگی ڈشز انجوائے کرنے کا مہینہ نہ بنائیں۔

※※ دوسری گذارش یہ ہے کہ قدرت کی طرف سے جب خواتین رمضان میں ایام ماہواری سے گذر رہی ہوتی ہیں تو اس کا مطلب بالکل بھی یہ نہیں ہوتا کہ اب ان کا رمضان اور اس کی تمام مصروفیات سے ناطہ کٹ گیا ہے، ہاں وہ روزہ نہیں رکھیں گی، نماز نہیں پڑھیں گی، قرآن کو نہیں چھوئیں گی، سجدہ تلاوت نہیں کریں گی، لیکن ان کے علاوہ بھی رمضان کے بہت سے اعمال ہیں جو اس حالت میں بھی کیے جا سکتے ہیں اور رمضان کی برکتوں میں شامل رہ کر اجر کمایا جا سکتا ہے، مثلاً تفسیر کی کتابیں جن میں قرآن کا حصہ کم اور اردو/ انگلش کا حصہ زیادہ ہوتا ہے ان کا مطالعہ جاری رکھیں کیونکہ وہ قرآن نہیں ہیں، قرآن نہیں پڑھ سکتیں تو اسکی تشریح اور تفسیر ہی سہی، اسی طرح حدیث کی کتب، اسلامی لٹریچر وغیرہ سب کی سٹڈی جاری رکھیں اور علم میں اضافہ کریں، قرآن کی تلاوت سن سکتی ہیں روزانہ تلاوت سنا کریں، درس لیکچر تقاریر سنیں، روزہ داروں کی خدمت اور مدد کر کے اجر کمائیں، اسلامی کتابیں تقسیم کریں، ذکر جاری رکھیں، صدقہ خیرات کرتی رہیں، دعائیں یاد کریں اور اس طرح کے بے شمار کام ہیں جو جاری رکھ کر وہ رمضان میں بھرپور طریقہ سے شریک رہ سکتی ہیں

۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *