20th October 2020

سہون_شریف میں آپ کا عرس 18شعبان سے 21شعبان تک پوری عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔وادیِ مہران باب #الاسلام سندھ کو یہ شرف اور اعزاز حاصل ہے

#سخی_شہباز_قلندر۔۔۔۔

#مشہور_صوفی_بُزرگ

’’#حضرت_لعل_شہباز_قلندرؒ

#انتخاب : #صائمہ_چوہدری

#سہون_شریف میں آپ کا عرس 18شعبان سے 21شعبان تک پوری عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔وادیِ مہران باب #الاسلام سندھ کو یہ شرف اور اعزاز حاصل ہے کہ یہ خطہ اسلام کے آغاز ہی میں #دین کے نور سے منور ہوا اور اسلام کا پیغام اس سرزمین تک پہنچا۔باب الاسلام سرزمین سندھ #عرفان و تصوف کا سرچشمہ رہی ہے۔#صوفیائے کرام و بزرگان دین کو اس علاقے سے گہرا تعلق رہا ہے۔ان #برگزیدہ شخصیتوں نے مختلف طریقوں سے دین کی #تبلیغ اور اسلام کے زریں اصولوں کا پرچار کیا۔ یہ تمام #اولیائے کرام اور #صوفیائے عظام اس شجر مبارک کی شاخیں اور ٹہنیاں ہیں،جس کی مضبوط جڑیں #اسوۂ نبویؐ کے چشمۂ نور سے سیراب ہوئیں ۔#مشہور صوفی بزرگ اور وادی مہران کے مرد قلندر #حضرت لعل شہباز قلندرؒ #اللہ کے ایسے برگزیدہ بندے ہیں،جنہیں سندھ کی سرزمین کا چپّہ چپّہ یادکرتا ہے۔ #حیدرآباد کے شمال مغرب میں کیرتھر پہاڑیوں کے دامن میں واقع #سہون تاریخی اہمیت کا حامل شہرہے۔یہ سندھ کے عظیم صوفی بزرگ #لعل شہباز قلندرؒ کی آرام گاہ ہے۔#قدیم شہر سیوستان کو سہون بھی کہتے ہیں۔تحفۃ الکرام کے مصنف بیان کرتے ہیں کہ سہون کو ایک شخص سہوان نے آباد کیا تھا۔ یہ سہوان سندھ کی اولاد میں سے تھا۔اسی سندھ کی وجہ سے اس پورے علاقے کو صوبہ سندھ کہا جانے لگا۔ شروع میں یہ شہر الور کے ماتحت تھا۔اس کے بعد ٹھٹھہ کے والیوں کی حکومت میں شامل کرلیا گیا۔ جب شاہ بیگ ارغون نے سندھ کی حکومت حاصل کی تو یہ شہر اس کے ہاتھ میں چلا گیا، مگر شاہ بیگ نے اسے ٹھٹھہ سے الگ کردیا، تاکہ انتظام میںآسانی ہوسکے۔ اس کے بعد جب شاہ حسن ارغون کی حکومت کا زمانہ آیا تو اس نے اسے پھر ٹھٹھہ میں شامل کرلیا۔آپ کا اسمِ گرامی #محمد عثمان تھا،مگر آپ نے #لال شہباز قلندر کے نام سے شہرت حاصل کی۔ محمد عثمان نام رکھنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ کے والد حضرت سیّد #محمد کبیر الدینؒ کے کوئی اولاد نہیں تھی۔چناںچہ ایک خواب میں انہوں نے #حضرت علیؓ کو دیکھا اور عرض کیا کہ #یاامیرالمومنینٖ! آپ میرے حق میں اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے فرزند عطا فرمائے۔ حضرت علی ؓ نے ارشاد فرمایا: ’’#اللہ تعالیٰ تمہیں بیٹا عطا فرمائے گا،مگر میری ایک بات یاد رکھنا کہ جب فرزند تولد ہوگا تو اس کا نام #محمد عثمان رکھنا اور جب وہ384 دن کا ہوجائے تو اسے لے کر مدینے میں حاضری دینا اور #حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں سلام کے بعد حضرت سیدنا عثمان ؓ کے مزار پر لے جانا اور سلام عرض کرنا۔‘‘ چناں چہ یہ خواب پورا ہوا اور جب آپ پیدا ہوئے تو والد نے ان کا نام محمد عثمان رکھا اور جب 384 دن پورے ہوئے تو مدینۂ طیبہ میں حاضری دی اور حسبِ وصیت تمام کام انجام دیے۔ بعض لوگوں کا بیان ہے کہ تین سو چوراسی دن کی قید میں یہ اشارہ تھا کہ لفظ قلندر کے بھی 384 عدد نکلتے ہیں، بہرحال لفظ قلندر کی وجہ تسمیہ کے سلسلے میں اور بھی متعدد روایات زباں زد خاص و عام ہیں۔حضرت لعل شہباز قلندرؒ نام مشہور ہونے کے سلسلے میں بہت سی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔اسی طرح لفظ قلندر سے پہلے لعل شہباز کے لفظ کے لگائے جانے کی بھی بہت سی وجوہ اور واقعات ہیں۔ایک بات یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ سفید لباس پہنا کرتے تھے، مگر ایک مرتبہ دہلی میں ایک مولوی صاحب اپنے وعظ میں سرخ رنگ کا ذکر کررہے تھے اور فرما رہے تھے کہ حضرت امام حسنؓکو سرخ رنگ بہت پسند تھا،چناں چہ اسی دن سے آپ نے سرخ رنگ اختیار کرلیا اور ایک قصّہ یہ بھی مشہور ہے کہ آپ عالمِ جذب میں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے کھیل رہے تھے، انہیں آسمان کی طرف اچھالتے تھے اور پھر اپنے کُرتے کا دامن پھیلا کر انہیں دامن میں لے لیا کرتے تھے۔ کسی شخص نے کہا کیا پتھروں سے کھیل رہے ہیں؟ اللہ والوں کو تو لعلوں سے کھیلنا چاہیے۔آپ نے یہ بات سن کر کُرتے کا دامن چھوڑ دیا اور وہ پتھر جو کُرتے کے دامن میں تھے،سب لعل بن کر زمین پر گرگئے اور چاروں طرف سرخ روشنی سی پھیل

گئی،آپ اس دن سے لعل شہبازکہے جانے لگے۔ یہ نام دو طرح لکھا ہوا کتابوں میں ملتا ہے۔

ایک ’’لعل شہباز قلندر‘‘ اور دوسرے ’’لال شاہ باز قلندر‘‘ غرض صحیح حال تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ محمد عثمان کو لعل شہباز قلندر یا لال شاہ باز قلندر کہنے کی اصل وجہ کیا تھی،کچھ لوگ آپ کے نام کے ساتھ مخدوم بھی استعمال کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ آپ کو مخدوم کا لقب ملتان سے ملا تھا،جب کہ آپ ملتان میں حضرت شیخ بہائوالدین زکریا ملتانیؒ کے پاس منازل سلوک طے فرمارہے تھے۔آپ کا اسمِ گرامی عثمان تھا، لیکن عام طور پر لعل شہباز قلندر کے لقب سے مشہور ہیں۔یہ لقب آپ کو آپ کے مرشد نے دیا تھا۔آپ حضرت امام محمد باقرؒ کی اولاد میںسے ہیں۔سنِ شعور کو پہنچنے کے بعد حضرت بابا ابراہیمؒ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *