31st October 2020

سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے بغیرملک میں مکمل جمہوریت رائج نہیں ہوسکتی! (شکیل قمر مانچسٹر

سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کے بغیرملک میں مکمل جمہوریت رائج نہیں ہوسکتی! (شکیل قمر مانچسٹر)
اگر برطانیہ اور امریکہ کی جمہوریتوں کونظامِِ حکومت کا بہترین طریقہ ء کارکہا جائے تو یہ بے جا نہ ہوگا اور اسی معقولے کی روشنی میں اگر 

پاکستان کی نومولود جمہوریت کو پرکھا جائے تومیرے ذاتی خیال میں اسے جمہوریت کہنا ہی ایک مضحکہ خیز سی بات لگتی ہے مضحکہ خیز اس لئے 

کہ پاکستانی جمہوریت میں سب سے زیادہ جس بات کا ڈھنڈوراپیٹا جاتا ہے وہ ہے براہ راست انتخاب،یعنی کہ ہر ووٹر براہ راست اپنے 

نمائندے کو خود منتخب کرتا ہے مگر اس براہ راست انتخاب میں سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ منتخب نمائندے براہ راست ہر ووٹر کی ووٹ سے 

ضرور منتخب ہوتے ہیں مگر یہ نمائندے پہلے ہی سے کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کی طرف سے انتہائی بھونڈے طریقے سے سلیکٹ شُدہ ہوتے ہیں لہذا سیاسی جماعتوں کی طرف سے سلیکٹ شُدہ یہ امیدوار کسی بھی صورت میں ہر ووٹر کے براہ راست ووٹ سے منتخب ہونے والے 

نمائندے کہلانے کے حق دار نہیں ہوسکتے خاص طور پر ایسی صورت میں جب کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں میں مکمل طور پر یک شخصی نظام قائم

ہو اس بات کی مزید وضاحت کے لئے عرض ہے کہ بیشک برطانوی جمہوریت کو اس نظام کی ماں کہا جاتا ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ 

بات غلط بھی نہیں ہے برطانیہ میں لوکل انتخابات سے لیکر نیشنل الیکشن تک مکمل جمہوری طریقہء کار کے تحت منعقد کئے جاتے ہیں اور ہر ووٹر

براہ راست اپنے ووٹ سے اپنا نمائندہ منتخب کرتا ہے مگر یہاں سیاسی جماعتوں میں کوئی موروثی طریقہء کار ہر گز رائج نہیں ہے بلکہ برطانیہ

میں سیاسی جماعتوں کے اندر زیادہ مضبوط جمہوری طریقہء کار کا نظام موجود ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو برطانیہ کے حالیہ انتخابات میں تمام سیاسی 

جماعتوں کی طرف سے پچاس سے زیادہ پاکستانی نژاد اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری نہ کئے جاتے جس کے نتیجے میں تقریباًدس سے زیادہ 

پاکستانی نژاد اُمیدوار عام آدمی کے ووٹ سے براہ راست منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچ چکے ہیں اسی طرح تین پاکستانی نژاد برٹش پہلے ہی 

یورپین پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو چکے ہیں ایسا صرف اس لئے ہوسکا ہے کہ برطانیہ میں سیاسی جماعتوں کے اندر بھی مکمل جمہوری طریقہء

کار رائج ہے جہاں صرف سنیارٹی اور اہلیت کی بنیاد پر ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں برطانوی جمہوریت کی ایک بڑی خوبی یہاں حکومتی کیبنٹ

کے مدِمقابل شیڈوکیبنٹ کا موجود ہونا ہوتا ہے اس سے اپوزیشن نہ صرف حکومتی کارکردگی پر بروقت مؤثرتنقید کر سکتی ہے بلکہ آئندہ

انتخابات کے نتیجہ میں منتخب ہو کر حکومت بناتے وقت انتہائی اہل اور تربیت یافتہ وزراء ہی وزارتوں کے قلمدان سنبھالتے ہیں اس کے برعکس 

پاکستانی جمہوریت میں منتخب شُدہ سیاسی جماعت کے پاس تمام وزارتوں کے لئے اہل اور مؤثر وزاراء ہی دستیاب نہیں ہوتے اور بعض 

اوقات وزیرِاعظم کو بیس بیس محکموں کے قلمدان اپنے ہی پاس رکھنے پڑجاتے ہیں یا دوسری صورت میں غیر منتخب شُدہ مشیروں سے ہی کام

چلانا پڑتا ہے جو کہ جمہوریت کی بنیادی روح کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتا ایسا صرف اس لئے ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر نہ تو باقاعدہ انتخابات منعقد کرائے جاتے ہیں اور نہ ہی سیاسی کارکنوں کی تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد وزارتوں کا بوجھ اُٹھانے کے اہل ثابت ہو سکیں لہذا ایسی صورت میں جمہوری نظام کو کیونکر مؤثر اور مکمل کہا جاسکتا ہے ۔

E.Mail<<<

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *