5th December 2020

شرمین عبید چنائے کی بہن ایک ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جاتی ہے ۔ ڈاکٹر دو گھنٹے کے اندر اندر اس کی فیس بک آئی ڈی 

زور شرمین عبید چنائے کی بہن ایک ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جاتی ہے ۔ ڈاکٹر دو گھنٹے کے اندر اندر اس کی فیس بک آئی ڈی ڈھونڈ لیتا ہے اور اسے گھر جانے سے پہلے پہلے فرینڈ ریکسویسٹ بھیج دیتا ہے ۔ اسے کہتے ہیں اختیارات کا غلط استعمال ۔ 

دنیا بھر میں پبلک ریلیشن آفسز میں ایک اصول ہوتا ہے جسے انگریزی میں کونفیڈنشیلٹی یا پرائیویسی کہتے ہیں آپ کسی بھی آفس میں اگر اپنا بائیوڈاٹا دیتے ہیں تو اس آفس میں کام کرنے والا اہلکار اس کواس کام کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتا ۔ لیکن یہ پاکستان ہے یہاں اپنے اختیارات سے نا جائز فائدہ اٹھانا معمول کی بات ہے 
لیکن ڈاکٹر کا پالا ایسی عورت کی بہن سے پڑھ گیا جس کو وزیراعظم پاکستان نے خصوصی دعوت پر ڈنر دیا تھا تو کیسے ممکن تھا کہ وہ عورت اپنی طاقت کا ناجائز استعمال نہ کرتی ۔شرمین عبید چنائے نے اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکلوا دیا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ ٹوئیٹر پر باربار لفظ ہراساں کرنااستعمال کر رہی ہے ۔ لیکن وہ بھی جانتی ہے فیس بک پر کسی کو فرینڈ ریکویسٹ بھیجنا ہراساں کرنا نہیں ہوتا۔لیکن اسے کسی بھی صورت میں اس ڈاکٹر کو نشان عبرت بنانا ہے ۔ کیونکہ پاکستان میں اگر طاقت استعمال نہ کی گئی تو کوئی آپ کو عزت نہیں دے گا 

 

پیر مرید حسین نے بھرے مجمعے میں اپنے مرید کی ساری دنیا کے کیمروں کے سامنے تھپڑ وں سے پٹائی کردی جس نے اس کا حکم نہیں مانا ۔ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پیر صاحب فرماتے ہیں کہ اس نے موقع پر ہی احتساب کر دیاتھا کیونکہ احتساب کا عمل قانون پر نہیں چھوڑ جا سکتا تھا ۔قانون بہت دیر لگا دیتا ہے 
کچھ “خاص” نامعلوم افراد نے جنگ کے رپورٹر کو تشدد کا نشانہ بنوایا جو ان کے مزاج کے خلاف صحافت کرتا تھا ۔ حیرت ہے کہ جن کا کام صحافت ہے انہیں بھی پتہ نہیں یہ نا معلوم افراد کون ہے اگر پتہ ہے تو وہ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کا نام نہیں لیا جا سکتا 
یہ سب باتیں کیا ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک ہی اصول رائج ہے جس کے لاٹھی اس کی بھینس۔۔طالبانی سوچ حاوی ہے ہمارے ملک میں قانون ، اصول ، ضابطے سب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔اصل چیز ہے طاقت ۔ ۔ اگر آپ کے پاس طاقت ہے تو آپ کا غلط بھی صحیح ہے کوئی آپ کو روکنے والا نہیں ہمارے ملک میں کمزور کے پروٹیکشن کے لئے نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ ہی کوئی اس کی کہیں شنوائی ہے 

پنجابی میں کہتے ہیں کہ 

دنیا منندی زوراں نوں ۔۔۔۔۔ 

تے سب گھاٹے کمزوراں نوں 

دنیا زور کو مانتی ہے اور کمزور کے لئے تو صرف گھاٹا ہی ہے 

بقلم خود محمود اصغر چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *