31st October 2020

شوگر ملز مالکان یا ’’ چینی مافیا‘‘ شکیل قمر مانچسٹر

ظالم کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں مگر اللہ کی پکڑ سے باہر نہیں ،میں ابھی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا جو کہ ’’ چینی مافیا ‘‘ کے بارے میں تھی

،

اُس میں بتایا گیا تھا کہ کس طرح چینی بنانے والے کارخانوں کے مالک اپنی مرضی سے چینی کی قیمتوں کو بڑھاتے ہیں اور عوام کو لوٹتے ہیں

یہ مافیا اس قدر مضبوط ہے کہ یہ لوگ حکومت کو بھی بلیک میل کر سکتے ہیں کیونکہ چینی بنانے والے کارخانوں کے زیادہ تر مالکان کا تعلق کسی نہ

کسی طرھ حکومت سے ضرور ہوتا ہے اس لئے یہ جب چاہیں چینی کی قیمتوں کو اُوپر اُٹھادیتے ہیں اور بے تحاشہ منافع کماتے ہیں ،حکومت

جس کا کہنا یہ ہے کہ ہم عوام کی بھلائی کے لئے سب کچھ کرتے ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں ہے بلکہ حکومتی برسراقتدار طبقہ اپنے اقتدار کے

دوام کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے ،رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب کو چینی مافیا کے بارے میں انکوائری کرنے سے روک دیا گیا تھا ،اب حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ شخص جو کہتا تھا کہ میں ۔’’ کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں ۔‘‘اورمیرا تعلق

کمانڈوز سے ہے میں بہت دلیر ہوں اپنے اِن دعوؤں کے برعکس اس شخص نے جس طرح امریکن صدر بش کی طرف سے ایک فون کال پر پوری قوم کو نیچے لگوادیا اُسی طرح اس ’’ نڈر انسان ‘‘ نے چینی مافیا کی دھمکی کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اُس وقتکےنیبکےچئیرمین

کو چینی کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں انکوائری سے روک دیا ،اب اس شخص کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ یہ شخص

’’دلیر‘‘ ہے یا کہ ڈرپوک ،اس قسم کے خود ساختہ دلیروں نے آج تک ملک کو جس قدر نقصان پہنچایا ہے اُس سے ساری قوم واقف ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ قوم کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے یا کہ نہیں ،بہرحال دلیر حکمران بھی تب ہی اچھے لگتے ہیں جب وہ قوم اور ملک کے حق میں سوچیں اور فیصلے کریں مگر شومئیِ قسمت کہ آج تک ہمارے ملک کو کوئی ایسا حکمران نہیں ملا جو ملک اور قوم کی تقدیر بنادے اور مسائل میں گھری ہوئی قوم کو مشکلات سے نجات دلاسکے ’’چینی مافیا‘‘ ہمارے ملک میں اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ کوئی طاقت اُس کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی ایک وقت تھا جب ملک میں چینی کی پیداوار ضرورت سے کم تھی تب بھی کاشتکار کو پریشان کیا جاتا تھا آج جب کہ چینی کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہو رہی ہے لہذا حکومت کو مجبور کرکے تمام ملکی چینی برآمد کر دی جاتی ہے اور خود اپنی ضروریات کے لئے غیر ملکی چینی درآمد

کی جاتی ہے اس میں بھی جو حکمت پوشیدہ ہے وہ یا تو حکومت جانتی ہے اور یا پھر ’’چینی مافیا ‘‘ ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ حکومت ہو یا ’’چینی مافیا ‘‘ ہر کوئی غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے ،حکومت نے ملک میں گنّے کی قیمت خرید ایک سو اَسی روپے مقرر کر رکھی ہے مگر یہ چینی مافیا کاشتکار کو ایک سو چالیس روپے سے زیادہ گنّے کی قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں ہے اور دھمکی کے طور پر جب چاہے چینیکےاپنے کارخانے بند کر کے کاشتکار کو بلیک میل کرتے ہیں ،چینی ایکسپورٹ کرنے میں اس چینی مافیا کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کئی ایک قسم کے ٹیکسز

اور سبسیڈیز کو بچا لیا جاتا ہے اور اس کا تمام تر فائدہ صرف چینی مافیا کو ہوتا ہے جب کہ دوسری طرف عوام الناس کو امپورٹ کی ہوئی چینی مہنگے داموں خرید کر استعمال کرنی پڑتی ہے ،یہ سب کچھ اس لئے بھی کیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کے چینی کے زیادہ تر کارخانے حکومتی لوگوں کے ہوتے ہیں لہذا وہ پالیسی بناتے وقت ’’چینی مافیا ‘‘ کے فائدے کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں ،ہمارے ملک میں نظام اس لئے بھی بہتر نہیں ہو سکتا کہ یہاں پر پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہر شخص کا تعلق کسی نہ کسی طرح کسی پرائیویٹ کاروبار سے ضرور ہوتا ہے لہذا وہ ہر وقت اپنے کاروبار کو تقویت پہچانے کے در پے رہتا ہے اس صورت حال میں عوام کو سہولت کیسے حاصل ہو سکتی ہے جہاں ساری کی ساری پارلیمنٹ اپنے اپنے کاروبار کو بڑھانے اور زیا دہ منافع کمانے کی فکر میں مگن ہو ،دنیا کے زیادہ تر ممالک میں پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اپنے

پرایؤیٹ کاروبار کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہوتی اس طرح جتنی دیر وہ پارلیمنٹ کے رکن رہتے ہیں وہ اپنا کوئی کاروبار نہیں کر سکتے ،جونہی

اُن کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہوتی ہے وہ اپنا کاروبار دوبارہ شروع کر سکتے ہیں ۔

E. MAIL>>> kamarshakeel@aol.co.ukUrdu Home

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *