30th November 2020

قومی بچت کی سکیم ’’بہبود فنڈ ‘‘کی شرح میں اضافہ کیا جائے! شکیل قمر مانچسٹر

نیشنل سیونگ سنٹر پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ جلد ہی شریعہ قانون کے مطابق نئے نیشنل سیونگ سرٹیفکیٹ کا اجرء کیا جائے گا ،تاکہ لوگوں کو سود سے پاک منافع کی بنیاد پر انوسٹمنٹ کے مواقع مل سکیں ،سوچ کی حد تک تو ایسے منصوبے بہت خوبصورت لگتے ہیں مگر حقیقت میں ایسےمنصوبوں کے پسِ پشت کوئی اور ہی عوامل کار فرما ہوتے ہیں جن کا مذہب کے احکامات کی پیروی یا عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا ،اس سلسلے میں بنیادی سکم یہ ہے کہ دنیا میں جو نظام بلا سود بنکاری یا سود سے پاک شریعہ نظامِ بنکاری کے لئے ترتیب دیا جارہا ہے وہ بذات خود بہت متنازع ہے اور ابھی تک پوری اسلامی دنیا اُس پر متفق نہیں ہو سکی ہے کہ وہ شریعہ قوانین کے تحت سودسے پاک ہے بھی یا کہ نہیں ،بحر کیف یہ ایک طویل بحث ہے ،یہاں معاملہ زیرِ نظر یہ ہے کہ محکمہ نیشنل سیونگ پاکستان نے اس سے پہلے جو سرٹیفکیٹ جاری کر رکھے ہیں اُن سے عوام الناس کو کس قدر فائدہ حاصل ہو رہا ہے ،نیشنل سیونگ میں اس وقت تک عوام نے ساڑھے تین ہزار ارب روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس پر نیشنل سیونگ کی طرف سے اُنہیں مختلف مدوں میں مختلف شرح سود کے حساب سے منافع ادا کیا جاتا ہے ،جیسا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ پاکستان میں غربا ء،مساکین،نادار،بے روزگار،اَپا ہج،بیواؤں اورعمر رسیدہ افراد کی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی باقاعدہ مالی اعانت نہیں کی جاتی اور اگر زکا ۃ اور بے نظیر انکم سکیم کے تحت دکھاوے کے لئے کچھ لوگوں کو معمولی سی امداد مہیا بھی کی جاتی ہے تو وہ ’’آٹے میں نمک ‘‘کے مصداق اتنی کم ہوتی ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہی سمجھئے ایسے حالات میں ہر کسی کو اپنی زندگی کی گاڑی کوخود ہی دھکّا لگانا پڑتا ہے عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ وائٹ کالرطبقے کے لوگ سب سے زیادہ مصائب اور مشکلات کا شکار رہتے ہیں ایسے ہی لوگوں میں بیواؤں،عمر رسیدہ شہریوں اور پینشنرزکے لئے زندگی کچھ زیادہ ہی مشکل اور دشوار دکھائی دیتی ہے اِسی لئے کچھ بیواؤں، عمر رسیدہ شہریوں اور پینشنروں نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی کو حکومت کی بچت کی سکیموں میں لگایا ہوتا ہے تاکہ کم سے کم گھر کا چولہا تو جلتا رہے پاکستان میں جن لوگوں نے مرکزِقومی بچت کی مختلف سکیموں میں سرمایہ کار ی کر رکھی ہے اُن کو اس سے ماہانا اور سالانہ منافع کی مد میں کچھ رقم مل جاتی ہے اور اس طرح ضرورت مند لوگوں کے گھروں کے سلسلے چلتے رہتے ہیں اگر چہ اسلام میں ایسی کسی سرمایہ کاری کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے جس کا منافع سود کے زُمرے میں آتا ہو،بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے ،یہاں اِن سطور میں جو معاملہ اُجاگر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں جن مجبور اور ضرورت مند لوگوں نے مرکزِقومی بچت کی سکیموں میں اپنی رقوم جمع کروارکھی ہیں اُنہیں سابق صدر مشرف کے دورِحکومت میں تقریباًاٹھارہ فیصدسالانہ منافع دیا جاتا تھا جس سے اُن کو اپنے گھروں کاچولہا گرم رکھنے میں کچھ مدد مل جاتی تھی مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ سابق حکومت کے دور میں مرکزِ قومی بچت کی سکیموں کے منافع کو بارہ فیصدتک کم کر دیا گیا اور اَب جبکہ خاص طور پر موجودہ حکومت برسرِاقتدارآئی ہے تو مرکزِ قومی بچت کی سکیموں کے منافع کو مزید کم کر کے بیواؤں ، عمررسیدہ افراد اور پینشنروں کی ماہانہ آمدن کی بچت کی سکیموں کواور بھی متنازع بنا دیا گیا ہے اس سے مستحق افراد کی ریگولر آمدنی میں مزید کمی واقع ہوگئی ہے موجودہ دور میں یہ معاملہ اور بھی زیادہ تکلیف دہ اِس لئے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی تایخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور عام آدمی کی زندگی مہنگائی نے اَجیرن کر رکھی ہے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بیش بہا اضافے نے پورے ملک کے عوام کو مشکل میں ڈال رکھا ہے اور بشمول پیٹرول اشیاء خوردو نوش کی قیمتیںآسمان سے باتیں کر رہی ہیں،بجلی کے بل وصول کرنے والی کمپنیوں نے

اپنی من مانی کرتے ہوئے عام لوگوں کے بلوں میں بے جا اضافہ کرکے غریب عوام کا جینا حرام کر دیاہے بلوں میں ناجائز اضافے کے خلاف نہ تومتعلقہ محکمہ کسی کی بات سنتا ہے اور نہ ہی کوئی اور ادارہ یا عدالت اس سلسلے میں عوام کی کوئی دادرسی کرنے کے لئے تیار ہیں، جیسا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں کرپشن کا راج ہے ایسے ہی محکمہ قومی بچت نے بھی اپنی من مانیا ں شروع کر رکھی ہیں اور بہبود سرٹیفکیت کے شرح منافع میں بتدریج کمی کر کے عام لوگوں کے لئے اُس کی افادیت کو ہی غیر سود مند کر کے رکھ دیا ہے ایسے میں جن ضرورت مند لوگوں نے مرکز قومی بچت کی سکیموں میں اپنی جمع پونجی لگا رکھی ہے اور وہ ماہانہ آمدنی کے لئے اس پر انحصار کرتے ہیں وہ آجکل زبردست مشکلات کا شکار دکھائی دیتے ہیں ان سطور میں اس معاملہ کی تفصیلات بیان کرنے کا مقصدصرف یہی ہے کہ اگر صدرمشرف کے سابقہ دور میں منافع کی شرح زیادہ تھی اور بیواؤں ،عمر ر سیدہ افراد اور پینشیروں کی ماہانہ آمدنی پر دس فیصد ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ بھی تھی اور یہی صورتِ حال سابقہ دورِحکومت میں بھی قائم رہی تو موجودہِ حکومت کے دور میں منافع کی شرح انتہائی کم کرنے کی کیا ضرورت تھی اس طرح اس کٹوتی سے براہ راست سب سے زیادہ بیوہ،عمررسیدہ اور پینشنرافراد متاثر ہوئے ہیں جن کا گزر بسر مذکورہ آمدنی پر ہی منحصر تھا،ہو سکتا ہے کہ اس کٹوتی کے بارے میں سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شرئف اورسابق وزیرِخزانہ اسحاق ڈارکو اعتماد میں لئے بغیر ہی افسرانِ بالا نے فیصلہ کر دیا ہو وگرنہ اس بات کایقین نہیں آتا کہ سابق وزیرِاعظم میاں محمد نوازشرئف نے اس قسم کے عوام دشمن فیصلے کی منظوری دی ہوجبکہ حکومت کی طرف سے توباربارغریب اور نچلے طبقے کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کئے جانے کا عندیہ دیا جاتا ہے بہرحال حکومت کی طرف سے قومی بچت کی سکیم بہبود فنڈ پر شرح سود کم کرنے سے بیواؤں،عمررسیدہ افراد اورپینشنرزکوجو نقصان پہنچا ہے اُس سے ہو سکتا ہے کہ کئی لوگوں کے گھروں کے چولہے بھی نہ جل سکیں کیونکہ حکومت کے مذکورہ فیصلے سے سب سے زیادہ بیوہ خواتین عمررسیدہ افراد اورپینشنرزہی اس سے متاثر ہوئے ہیں جن کا گذربسرہی مذکورہ آمدنی پر تھا یہاں میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں قومی بچت کے ہزاروں دفاترمیں کہیں بھی جاکر دیکھ لیں ہر ماہ پہلی تاریخ کو عمر رسیدہ اور ضعیف افراد قطاروں میں لگ کر اپنا ماہانہ منافع حاصل کر رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مہنگائی کا رونا بھی رو رہے ہوتے ہیں ایسے حالات میں جہاں پوری قوم کو موجودہ حکومت سے بہت سی توقعات وابسطہ تھیں وہاں بیواؤں ،عمررسیدہ افراد اور پینشنرزکو بھی یہ توقع تھی کہ موجودہ حکومت قومی بچت کی سکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کرئے گی اور خاص کر بہبود فنڈ کی شرح سود کو بڑھا کر واپس اصل شرح پر لایا جائے گا مگر موجودہ حکومت کے بااختیار لوگوں نے سابقہ دونوں حکومتوں کےریکارڈتوڑتے ہوئے نہ صرف قومی بچت کی سکیموں کے شرح منافع میں کٹوتی کردی بلکہ اُن سے دیگر مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں جو سابقہ حکومتوں کے دور میں موجود تھی، آخر میں اس تحریر کے ذریعے میں وزیرِاعظم خاقان عباسی سے یہ گذارش کروں گا کہ وہ قومی بچت کی سکیموں خاص طور پر ’’بہبود فنڈ‘‘کے منافع اور ہولڈنگ ٹیکس کے معاملات کا ازسرِنوجائزہ لیکر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ ملک کے موجودہ سنگین حالات میں مذکورہ متاثرین کی دادرسی ہو سکے ۔ ***

ؑ E.Mail<<< kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *