28th October 2020

مسجدا لحرام میں نمازوں کے وقفے کے دوارن علماءمختلف زبانوں میں وعظ و نصیحت کرتے ہیں

علما اور حس مزاح
مسجدا لحرام میں نمازوں کے وقفے کے دوارن علماءمختلف زبانوں میں وعظ و نصیحت کرتے ہیں ۔ سعودی عرب آنے سے پہلے ایک بریلوی دوست نے مشورہ دیا کہ حرم میں مولانا مکی حجازی صاحب کا خطاب ضرور سننا ۔کہنے لگا وہ ہماری مسلک کے تو نہیں ہیں لیکن بہت ہی اچھے بزرگ ہیں میں نے کہا علم سیکھنے کا لالچ مجھے تعصب میں نہیں ڈالتا ۔میں نے ہر شام انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن جس مسجد میں بیس تیس لاکھ لوگ نماز پڑھتے ہوں وہاں کسی بزرگ کو ڈھونڈنا آسان نہیں ۔
مدینہ منورہ جانے سے پہلے آخری شام میں جب نماز مغرب کے لئے حرم میں گیا تو مسجد کی نچلی منزلیں بھیڑ کی وجہ سے بند کر دی گئی تھیں اور سیکورٹی عملہ سب کو چھت پر بھیج رہا تھا ۔ میں نے بھی سوچا چلو کعبہ کا نظارہ چھت سے بھی ہوجائے گا ۔
نماز مغرب ختم ہوئی تو ایک بزرگ عالم نے سپیکر پر خطاب شروع کیا لوگ گروپ کی صورت میں ان کے گرد جمع ہوگئے انہوں نے اردو میں خطاب شروع کیا تو میں بھی وہاں جا کر بیٹھ گیا مولانا صاحب کی آواز ان کی ادھیڑ عمری کی گواہی دیتی تھی ان کی تقریر سادہ اور دلچسپ تھی ان کی تقریر سے اندازہ ہوگیا کہ وہ خود تو حنفی مکتب فکر کے پیروکار تھے لیکن دیگر آئمہ اورعلمائے اہل حدیث کا تذکرہ بھی بڑے احترام سے کرتے تھے تقریر کے بعد جب انہوں نے سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا تو ہر سوال کے جواب میں مزاح کا ایسا پہلو نکالتے کہ سننے والے محظوظ ہوئے بغیر نہ رہ پاتے ان کے چند جوابات ایسے تھے
ایک شخص نے سوال بھیجا ۔ مولانا صاحب میں نے رمی کے دوران چھوٹے شیطان اور درمیانے شیطان کو تو کنکر یاں ماری تھیں لیکن بڑے شیطان کو کنکریاں نہیں ماریں ؟
مولانا صاحب نے سوال کا کاغذ ایک طرف رکھا اور کہنے لگے کیوں بیٹا بڑے شیطان سے کوئی تعلق داری نکل آئی تھی ۔۔۔
ایک خاتون نے سوال بھیجا کہ میں حج کے بعد سر کے بال کٹوانا بھول گئی؟
مولاناصاحب فرمانے لگے یہ پہلی عورت ہے جو اپنے بال کٹوانا بھول گئی ورنہ عورتیں تو بڑے شوق سے بال کٹوانے جاتی ہیں
ایک شخص نے سوال بھیجا ۔ مولانا صاحب عرفات اور منی کے حدود کے بارے شک ہے؟
مولانا صاحب فرمانے لگے کہ ویسے تو حکومت نے بڑے بڑے بورڈ لگائے ہوئے جن پر ان کی حدود واضح ہیں لیکن اگر آپ کو شک ہے تو حج سے فارغ ہونے کے بعد پاکستان سے کوئی پٹورای لے آنا اور اپنی تسلی کر لینا
ایک شخص نے سوال بھیجا میں انڈین ہوں کیا میں بھی عمرے کے لئے مسجد عائشہ سے احرام باندھ سکتا ہوں؟
مولانا صاحب نے جواب دیا کہ یہ مسجد عائشہ صرف پاکستانیوں کے لئے تو نہیں ہے۔ آ پ لوگ حج پر آکر بھی انڈیا پاکستان کی بحثوں میں پڑے ہوئے ہیں
ایک شخص نے سوال کیا کہ مجھے شک ہے کہ میں نے صفا مروہ میں سات کی بجائے پانچ چکر لگائے ہیں؟
مولانا صاحب نے فرمایا دوبارہ چکر لگا ﺅ ۔ تمہیں رگڑا لگے گا تو چکر بھی پورے ہوجائیں گے اور شک بھی نکل جائے گا
اس طرح مولانا صاحب ہر سوال کے جواب میں مزاح کی ایسی آمیزش کرتے کہ محفل محظوظ ہوئے بغیر نہ رہتی لیکن انہوں نے ایک سوال کا جواب ایسا دیا کہ میں ان کا فین ہو گیا ایسا جواب کوئی عام مولوی نہیں دیتا ۔
کسی شخص نے سوال بھیجا کہ میں اپنے گناہوں کی وجہ سے ہر وقت پریشان رہتا ہوں ۔؟
مولاناصاحب فرمانے لگے کہ تم نے عرفات والے دن معافی مانگ تو لی ہے اورہمارے اللہ نے وعدہ کیاہوا کہ وہ اس دن معافی مانگنے والے کے سب گناہ معاف کر ے گے تو پھر پریشانی کی کیا وجہ ہے۔
بعد میں پتہ چلا کہ یہی ہیں مولانا محمد الحجازی المکی جن کا خطاب سننے کا میرے دوست نےمشورہ دیا تھا ۔ ویسے تومیری خوش قسمتی ہے کہ میری فیس بک فرینڈ لسٹ میں Muhammad Yaqoobاور حافظ صفوان Hafiz Safwan
جیسے اہل علم موجود ہیں جو حس مزاح کی دولت سے مالا مال ہیں البتہ روایتی مولویوں کے بارے عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ ہر وقت ڈر ہی سناتے رہتے ہیں ۔ ایسے میں اگر مولانا مکی حجازی جیسے لوگوں کا خطاب سننے کو مل جائے تو واقعی مہینوں یاد رہتا ہے
بقلم خود محمود اصغر چوہدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *