28th October 2020

مسلمانوں کو سزا دو ہڑتال نہ کریں احتیاط کریں

برطانیہ میں کچھ شر پسندوں کی جانب سے انگریزوں کو تین اپریل کو مسلمانوں کو سزا دینے کا دن منانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ برطانیہ کے مختلف شہروں میں بذریعہ ڈاک ایسے لیٹر بھیجے گئے ہیں جس میں مسلمانوں کو مارنے یا نقصا ن پہنچانے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ برطانوی کاﺅنٹر ٹیرر ازم ادارے کا خیال ہے کہ یہ سب گزشتہ سال داعش کی جانب سے ہونے والے برطانیہ میں چار حملوں کے جوابی رد عمل کا شاخسانہ ہو سکتا ہے ۔ ایک آن لائن خط میں یہ نفرت آمیز جملے تھے ”انہوں نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے اور تمہارے بچوں کو اور پیاروں کو تکلیف پہنچائی ہے تو تم اس کے بدلے میں کیا کر رہے ہو ؟ “

سب سے زیادہ خطرہ لیسٹر میں ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد 20فیصد ہے اور پچھلے ہفتے ہی وہاں ایک 21سالہ برطانوی نوجوان کو عدالت نے بیس سال قید کی سزا سنائی ہے کیونکہ اس نے ایک حجاب پہنے مسلمان خاتون اور اس کی 12 سالہ بچی کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی ۔لیسٹر پولیس نے کہا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی تیاری کی ہوئی ہے کہ تمام مسلمان شہری 3اپریل کو محفوظ رہیں اور اس سلسلے میں ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے تمام سیکورٹی اقدامات کر لئے گئے ہیں ۔ پولیس چیف پاﺅل مور کا کہنا ہے کہ ہم نفرت انگیز جرائم کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔ لیسٹر میں لوکل تنظیمات نے اس دن کو خوشگوار بنانے کے لئے پروگرا م تشکیل دئیے ہیں جس میں مسلمان اورغیر مسلم شہری ملکر مختلف سرگرمیاں کریں گے جس میں بچوں کے فیس پینٹنگ اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیاں شامل ہیں

یاد رہے کہ اسی سال ایک اڑتالیس سالہ ڈیرن اوسبورن کا بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جس نے گزشتہ رمضان لندن کی ایک مسجد میں تراویح ادا کر کے نکلتے نمازیوں پر اپنی گاڑی چڑھا دی تھی اور ایک نمازی کو شہید اور 12زخمی کر دئیے تھے۔اس کی گاڑی سے بھی ایک نوٹ نکلا تھا جس میں اس نے مسلمانوں کو جنگلی اور لندن کے مسلمان مئیر صادق خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔

سعودی سفارت خانے نے برطانوی اتھارٹیز سے رابطہ کیا ہے اور اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کا کہا ہے ۔ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پنشن اے مسلم ڈے کے خطوط کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے اور وہ ہر شہر میں انتظامات کر چکے ہیں کہ کوئی بھی شر انگیز اپنی کاروائی میں کامیاب نہ ہو سکے

کچھ مسلمان تنظیمات اس دن ہڑتال کی کال دے چکی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک دن پورے برطانیہ کو جام کر کے یہ بتایا جائے کہ ہم اس ملک کے لئے کتنے اہم ہیں ۔ میں ذاتی طور پر اس ہڑتال کو ایک غیر سنجید ہ عمل سمجھتاہوں ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ لیٹر بھیجنے والے اتنے بزدل ہیں کہ وہ چھپ کر وا ر کر رہے ہیں اور ان کا مقصد برطانیہ میںمسلمانوں اور غیر مسلم کو لڑوانا ، ان کے درمیان نفرت پیدا کرنا اور انہیں تقسیم کرنا ہے ہڑتال کرنے سے ہم ان کے سارے مقاصد پورے کر دیں ۔ سب سے پہلے تو ہم برطانوی عوام کی اکثریت کو پریشان کریں گے جو پہلے ہی ہمارے حق میں بیان دے چکی ہیں کہ وہ ایسے سر پسندوں کے خلاف ہے بلکہ کچھ شہروں میں تو گوروں نے اسی دن کو مسلمانوں سے محبت کرنے کادن منانے کا پیغام دیا ہے ان کہنا ہے کہ وہ اس دن مسلمانوں کو پھول پیش کریں گے انہیں کافی پلائی گے وغیرہ وغیرہ تو ایسے میں انہیں تکلیف پہنچانا کچھ شر پسندوں کی وجہ سے انتہائی نا مناسب ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کا جو مین مقصد ہمیں ڈرانا ہے ا سمیں وہ مکمل طور پر کامیاب ہو جائیں گے اگر ہم سب ڈر کر گھر بیٹھ جائیں گے تو وہ ہر مہینے ایسے لیٹر تیار کرنا شروع ہو جائیں گے اس لئے ہمیں چاہیے کہ اس دن احتیاط بہرحال کریں ۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں پرنظر رکھیں ، کوئی گاڑی کے پاس آئے تو شیشہ کھولنے میں احتیاط کریں کیونکہ تیزاب پھینکنے کی ترغیب دی گئی ہیں جو خواتین حجاب یا دوپٹہ کرتی ہے وہ خاص طور پر اپنے آگے پیچھے آنے والے سے محتاط رہیں چھوٹے بچوں کوتنہا نہ نکلنے دیں لیکن پلیز ڈر کر گھر نہ بیٹھے اپنے کام روٹین سے کریں صرف احتیاط سے

بقلم خود محمود اصغر چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *