29th October 2020

ملک میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی؟ سفید جھوٹ! (شکیل قمر مانچسٹر )

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف ،اُن کے کٹ پتلی وزیراعظم خاقان عباسی اور تمام وزراء ایک ہی راگ اَلاپ رہے ہیں کہ ملک میں لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی ہے ،حالنکہ عوام الناس اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ نعرہ اُن کا سیاسی نعرہ ہے جو وہ گذشتہ ساڑھے چار سال سے لگا رہے

ہیں لوڈ شیڈنگ نہ پہلے ختم ہوئی تھی اورنہ اَب ختم ہو رہی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوڈشیڈنگ آئندہ چند سالوں تک مزید جاری رہے گی اُس

کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جو نئے یونٹ لگائے جارہے ہیں اُن کے مقابلے میں پرانے یونٹ بند کر دئے جاتے ہیں کیونکہ پیٹرول اور فرنس پر چلنے والے پرانے یونٹ کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہیں لہذا نئے یونٹ گیس پر چلائے جارہے ہیں اس لئے وہ کم اخراجات میں بجلی

پیدا کر رہے ہیں حکومت اپنے کھاتے درست کرنے کے لئے مہنگے یونٹ بند کر رہی ہے مگر اس طرح لوڈ شیڈنگ بالکل ختم نہیں ہو گی اس

سلسلے میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جتنے بھی نئے یونٹ لگائے گئے ہیں وہ سستی بجلی پیدا کررہے ہیں مگر حکومت ابھی تک عوام سے وہی

پرانے ریٹ چارج کر رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں بجلی کے بلوں میں اوورچارجنگ کی جارہی ہے اس طرح حکومت عوام

کو لوڈ شیڈنگ کی دھمکی دے کر اوورچارجنگ کر رہی ہے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے اس کی ایک زندہ مثال یہ ہے کہ حکومت نے لاین مینوں کو کنٹرول کرنے کے لئے نیا قانون پاس کیا ہے جس کے مطابق اوورچارجنگ کرنے کے جرم میں شامل اہل کار وں کو تین

سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی ،اصل میں یہ سب دکھاوے کی باتیں ہیں نہ لوڈشیڈنگ ختم ہورہی ہے اور نہ ہی اوورچارجنگ ختم ہو گی لہذا

عوام کو لوڈشیڈنگ اور اوورچارجنگ دونوں ہی طریقوں سے نفسیاتی دباؤ میں رکھا جارہا ہے ،حکومت جھوٹ بول کر لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا

۲

ڈھنڈوراپیٹ رہی ہے تاکہ آئندہ الیکشن جیت سکے اور اوورچارجنگ کرکے عوام الناس سے دولت بٹوری جائے تاکہ حکمرانوں اور اَفسر شاہی کے ناجائز اخراجات پورے ہوسکیں ،حکمرانوں اور اَفسر شاہی کے کارندے مل کر عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں ایک طرف ملکی خزانے کو

لوٹا جارہا ہے اور دوسری طرف براہ راست عوام کی جیبوں سے نقد دولت نکلوائی جارہی ہے ،حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں اور اَفسر شاہی کے

کارندوں کا یہ کھیل بہت عرصہ سے جاری ہے اور جب بھی کوئی حکمران اپنی لوٹ کھسوٹ کے بعد حکمرانی سے فارغ ہو جاتے ہیں تو یا تو وہ ملک سے باہر بھاگ جاتے ہیں یا پھر ملک میں رہتے ہوئے اپنی معصومیت کا رونا روتے رہتے ہیں اس سارے ڈرامے میں اَفسر شاہی کی موجیں ہی موجیں رہتی ہیں ،کیونکہ ملک میں بجٹ کی جانچ پڑتال کا کوئی سسٹم موجود ہی نہیں ہے قومی اسمبلی کے ذیلی ادارے خود اس ساری لوٹ کھسوٹ کے ذمہ دار ہیں کیونکہ اُنہوں نے آج تک کسی حکمران کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایابلکہ ہر جانے والے کو کسی نہ کسی طرح اعزازکے ساتھ ہی رخصت کیا جاتا ہے ،ایسا لگتا ہے ملک میں لوٹ کھسوٹ ،چور بازاری اور کرپشن کا ایک منظم نظام قائم ہے اسی لئے تو ایک سابقہ

حکومت نے رینٹل پاؤر پلانٹ کا پلان بنایا اور خوب دولت کمائی اُسی پاور پلانٹ پلان کے بدلے میں ملک کو 74ارب روپے کا ٹیکہ لگ رہا ہے اور یہ رقم بے چارے بجلی کے صارفین سے ساڑھے تین روپے فی یونٹ زائد وصول کرکے پوری کی جائے گی ،بے چارے عوام پہلے ہی

بجلی کے بلوں میں ہونے والے گھپلوں سے تنگ آئے ہوئے ہیں ،سستی بجلی پیدا کرکے عوام کو مہنگے نرخوں پر فروخت کی جارہی ہے ،بجلی کے بلوں میں اوورچارجنگ تو عام سی بات ہے ،ان حالات میں لوڈ شیڈنگ کا عذاب بھی عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے ،اس ساری ناانصافی پر نہ تو کوئی

ہائی کورٹ نوٹس لے رہی ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کے پاس ایسے عوامی مسائل کااز خود نوٹس لینے کے لئے کوئی وقت ہے ،سیاسی جماعتیں

بے شک اپنی اپنی ڈفلی بجارہی ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی معصومیت کا بھی رونا رورہی ہیں ،مگر عوام سے بہتر یہ بات کوئی نہیں جانتا کہ گذشتہ 70

سالوں میں ملک کو کس کس نے اور کتنا کتنا لوٹا ہے ،خاص طور پر گذشتہ دس سالوں میں تولوٹ مار کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں

ملک اور عوام کس قدر قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں ،اور حکمران کس قدر خوش حال زندگیاں گذار رہے ہیں یہ تو کسی سے چھپا ہی نہیں ہے ،اَب تو صرف ایک ہی راستہ باقی بچا ہے اور وہ یہ کہ عوام اپنا فیصلہ سنائیں اور آئندہ انتخابات میں کرپٹ لوگوں سے قوم اور ملک

کو نجات دلوادیں ،اس طرح ہو سکتا ہے کہ نئے آنے والے حکمرانوں کو عوام کی نفرت کا خوف ہو اور وہ پرانے حکمرانوں کی طرح کرپشن نہ

کریں ورنہ اس کے علاوہ تو ملک حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے بربادی کے دلدل میں دھنستا چلا جارہا ہے ۔

………………..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *