23rd October 2020

ممتاز قادری ،پاکستانی حکومت اور میڈیا

 


ممتاز قادری ،پاکستانی حکومت اور میڈیا

ایس ایم عرفان طا ہر

دانشوروں کے شہنشاہ اور علم و ادب کے بحر بیکراں حضرت واصف علی واصف فرما تے ہیں’ پیغمبر کے پیغمبر ہو نے میں جمہو ریت کا قطعا کوئی دخل نہیں ۔ آیئے اسلام کی طرف مسلمانوں کی را ئے سے دین اسلام ، اسلام نہیں ۔ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ کوئی مانے یا نہ ما نے ، اسلام اسلام ہے ۔ یہ دین کثرت رائے کے احترام سے دین نہیں بنا ۔ یہ اللہ کے حکم سے ہے ۔اللہ کی مرضی سے ، اللہ کے فیصلے سے ۔ جمہو ریت کا اس میں دور تک دخل نہیں ۔ اگر دنیا کی کثیر آبا دی غیر مسلم ہو، تو اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ اسلام خدانخواستہ غلط دین ہے ۔ اسلام سچا دین ہے ۔ اسلام کے ما ننے والے اقلیت میں ہوں تب بھی یہ سچا ہے ۔ اس کے ما ننے والے ختم بھی ہو جائیں تو بھی یہ دین سچا دین ہے ۔ جمہو ریت دین کے معاملے میں دخل نہیں دے سکتی ۔ جمہو ریت سقراط کو زہر پلاتی ہے ۔ منصور کو سولی چڑھا تی ہے ۔ عیسیٰ  کا احترام نہیں کرتی ۔ جمہو ریت کے ذریعے کوئی مفکر ، امام ، دانشور ، عالم دین ، ولی یا مرد حق آگا ہ برسر اقتدار نہیں آسکتا ‘۔

یہ شہا دت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہو نا
4 جنوری 2011پاکستانی تاریخ کا وہ موڑ جب ایک ایلیٹ فورس کے جوان ملک ممتاز حسین قادری نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک بڑے عہدے دار گو رنر پنجاب سلیمان تا ثیر کو اس بات پرقتل کردیاکہ اس نے رحمت اللعالمین اور خاتم النبین حضرت محمد ۖ کی گستاخی کرنے والی آسیہ خاتون کی حمایت کی بلکہ  295 سی ناموس رسالت سے متعلقہ قانون کو کالا قانون کہا اور اسوقت کے صدر سے شاتم رسول کو معافی دلوانے کا وعدہ بھی کیا۔ اسی اثناء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمن نے بھی ناموس رسالت کے اس قائم کردہ قانون میں لچک اور اس پر نظر ثانی کے حوالہ سے ایک بحث مباحثہ شروع کیا۔ بیش تر علما اور مذہبی تجزیہ کا روں نے اس حساس ترین معاملہ پر نقطہ چینی کرتے ہو ئے گستاخ رسول سلیمان تاثیر کو لعن طعن کے بعد رجوع کی درخواست بھی کی لیکن اس کے منصب اور گورنری کے نشے نے اسے اس طرف مائل نہ کیا اور آخر وہی ہوا جو کہ ایک فطری ردعمل تھا ۔عشق رسول سے سرشار ایک مرد مجا ہد غازی ممتاز حسین قادری نے مذہبی جذبات پر قابو نہ رکھتے ہو ئے پو ری مسلم امہ کا قرض چکا تے ہو ئے اپنا حق سمجھتے ہو ئے ناموس رسالت کے قانون کو چھیڑنے والے گورنر تاثیر کو ہلاک کیا ۔
عاشق رسول غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید کے آخری سفر نے دنیا کے سامنے اس بات کو عیاں ضرور کردیا کہ رسول اللہ ۖ کی نسبت کا فیض مرنے کے بعد بھی ضرور ملتا ہے اپنے تو اپنے بیگانے بھی سرتسلیم خم کرتے ہو ئے دکھائی دیے۔ غازی ملک ممتاز حسین قادری کی شہادت نے تین چیزیں نمایاں طور پر ظا ہر کیں: ایک تو جمہوریت ،شریعت اور سیاست کو جدا کردیا،دوسری پاکستان میں سالہاسال سے جاری فرقہ وارانہ جنگ کو بھی مات دے دی اور تیسرا پاکستان میں موجود اپنے پرائے کو بھی بخوبی بے نقاب کردکھایا ۔
ممتاز حسین قادری کے سلیمان تاثیر کو واصل جہنم کرنے کے بعد جن سیاسی پارٹیوں نے ان کی مخالفت کی ان میں سرفہرست پاکستان پیپلز پارٹی جس نے اس سارے مسئلے کو بنیاد فراہم کی۔ دوسری ایم کیو ایم جس کے قائد ین ایسی ہی غلطیوں کے مرتکب خود کو بھی گردانتے ہیں تیسری پاکستان تحریک انصاف اور پھرسرفہرست متنازع مذہبی شخصیت جن کا عقیدہ اور مذہب شب و روز متزلزل اور تذبذب کا شکار دکھائی دیتا ہے سربراہ عوامی تحریک طا ہر القادری۔ مفتی اعظم پاکستان پیر طریقت اور رہبر شریعت الحاج ابو دائود محمد صادق  نے ان کی شان میں ایک کتاب” خطرے کی گھنٹی ”بھی تحریر فرمائی تھی اسکے علاوہ کئی علماء دین نے انکے متنازع بیانات اور خوابوں کے باعث تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے ۔ایک بڑے اجتماع میںفا تر العقل قبلہ ڈاکٹر صاحب نے خود فرمایا تھا کہ جب دنیا سے جنا زے اٹھیں گے تو لوگوں کو اصلیت سامنے آئے گی کہ کون عاشق رسول ۖہے اور کون خدا کی بارگاہ سے ٹھکرایا ہوا، پاکستان تحریک انصاف بھی اس معاملہ میں پیچھے نہ رہی کیونکہ انہیں خبر ہے کہ اپنے سیاسی بھائیوں کی اگر طرفداری نہ کی جا ئے گی تو بے موت مارے جائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ سیاسی گھرانوں سے داد یا خیر کی امید بھی باقی نہ رہے ۔
میا ں نواز شریف جو اپنے گزشتہ ادوار میں امیر المومنین کے خواب بھی دیکھتے رہے نے خود کو دنیا کی نگاہ میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے ہر ایک حیلہ آزمایا اور آخر کار ایک محافظ ناموس رسالت کہلوانے والے غازی کے جان لیوا ثا بت ہو ئے۔ میاں صاحب کے داما دموصوف ایم این اے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے پارلیمینٹ کے اندر تحفظ ناموس رسالتۖ با رے بحث کرتے ہو ئے ان کے متعلق کیا خوبصورت اور سوفیصد مثال پیش کی کہ ناموس رسالت پر اعتراض وہی اٹھا تا یا گستاخی کا مرتکب بنتا ہے جس کے اصل میں فرق ہوتا ہے یعنی عرف عام میں جسے غیر حلالی بھی کہا جا سکتا ہے۔ صدر اور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اپنے عمل سے یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کے اصل میں فرق ہے۔وہ اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہیں نہ اپنے دین کے ساتھ مخلص ہیں نہ اپنی قوم کے ساتھ مخلص ہیں اور نہ  اپنے ملک کے ساتھ مخلص ہیں۔
ایک مختصر سا موازنہ میں گورنر سلیمان تاثیر اور ممتاز قادری کا پیش ضرور کرنا چاہوں گا تا کہ لوگ خود یہ حقیقت جان جائیں کہ ہیرو کون ہے اور زیرو کون ؟سلیمان تاثیر کو جس وقت ممتاز قادری نے قتل کیا تو اسوقت کے گورنر کا جنازہ پڑھانے کے لیے کوئی بھی عالم دین تیار نہ ہو ا نہ  کسی نیک متقی پرہیز گار اور با کردار شخصیت نے جنا زے میں شرکت کرنا گوارا کیا ، عالم اسلام کی بہت بڑی بڑی روحانی اور مذہبی شخصیات ممتاز قادری کا جنازہ پڑھانا تو دور کی بات بلکہ پڑھنے کی خواہش کرتی ہوئی دکھائی دیں۔ گورنروقت کے جنازے پر چند سوٹ اور بوٹ والے سیاسی وابستگی کے باعث شامل ہو ئے ، ممتاز قادری شہید کے جنا زہ میں نہ صرف سوٹ بوٹ والے بلکہ عمامہ شریف اور بہت بڑی بڑی دینی مسندوں کے روح رواں اور سربراہا ن صف با قطار دکھائی دیے ۔ ممتاز قادری کا کیس لڑنے کے لیے  300 سے زائد وکلا ء نے رضاکارانہ طور پر اسوقت اپنی خدما ت پیش کیں ، سلیمان تاثیر کے ذاتی خاندان والے بھی کیس لڑنے سے گریزاں دکھائی دیے ۔ جنرل پرویز مشرف اور جاوید احمد غامدی جیسے روشن خیال لوگوں سے ممتاز قادری کے خلا ف زہر اگلوایا گیا ، ہر پیر و جوان غازی کی جانب کھڑا ہوا دکھائی دیا ۔لمحہ فکریہ ہے ہر ذی شعور انسان کے لیے کہ کیا اتنا بڑا انسانی اجتماع کسی کہ دنیا کے جا نے کے بعد دکھائی دیا ؟کیا کبھی عمران خان نے اسقدر بڑا جلسہ عام کیا ؟ کیا طا ہر القادری اسقدر عوام کو دھرنوں میں مائل کرسکے کیا موصوف کا اپنا جنازہ اسقدر بڑا اور اہمیت کا حامل ہو گا؟ غیرت و حمیت کے حامل کئی اہل ایمان اس رقت آمیز مناظر کو دیکھ کر نون لیگ کو خیرآباد اس لیے کہہ گئے کہ یہ یزیدی اور فرعونی جما عت ہے جس نے ایک عاشق صادق کو سولی پر چڑھایا جیسے عاشقان رسول اور اہل ایمان کی ایک جما عت برسراقتدار ٹولے کے خلا ف برسرپیکار ہے اسی طرح ابوجاہل اور دجال کے پیروکار بھی دنیا میں موجود ہیں حق و باطل کی یہ جنگ تا قیامت قائم و دائم رہے گی کیونکہ اللہ کی حکومت اور ابلیس کی اپوزیشن ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔ بے شک جیت پھر بھی ایک دن حق کی ہونی ہے اور باطل کو سرتسلیم خم کرنا ہوگا ۔
عوام الناس کے پیش نظر یہ بات لازم ہونی چاہیے کہ اگر حکومت وقت حق پر تھی باطل انکے خلا ف برسرپیکار تھا تو میڈیا کو اتنے بڑے اجتما ع کو دکھانے سے کیوں روکا گیا ؟ جس میڈیا نے محض ایک نیم پاگل شخص سکندر کو اسلام آباد کئی گھنٹے لائیو دکھایا تو انہیں کیسے اور کیوں روکا گیا ممتاز قادری کے جنازے کو کوریج دینے سے ؟ ممتاز قادری اور سلیمان تاثیر کا معاملہ مذہبی تھا تو اس کا فیصلہ شرعی کورٹ سے کیوں نہیں لیا گیا ؟ قانون تحفظ ناموس رسالت اگر کسی انسان کا بنایا قانون نہیں تو پھر کسی انسان کو اسے توڑنے یا بنانے کی اجاز ت ہی کیسے ہے ؟ توہین رسالت اگر محض رسول اللہ ۖ کی ذات معاف کرسکتی ہے تو پھر ایسے مجرم کو دنیا کی عدالت میں پیش کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر آئین پاکستان عدلیہ اور مسلح افواج پاکستان کی توہین و تضحیک کی ہر گز اجازت نہیں دیتا تو پھر ان اداروں کو میڈیا ہر اعتباز سے نشانہ بنا سکتا ہے تو پھر ایک محافظ ناموس رسالت کی پراسرار شہادت پر خاموشی کیوں ؟ اگر ممتاز قادری واقعتا ایک عاشق صادق تھا تو پھر عشق رسول کے دعوے دار حکومتی ایوانوں میں کیوں دکھائی دیتے ہیں ؟ممتاز قادری کو سزا دی گئی تو پھر پاکستان کے دو شہریوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو کیوں دیت لے کر چھوڑ دیا گیا ؟اگر ممتاز قادری دہشتگرد اور انتہا پسند مذہبی جنونی تھا توپھر اسکے جنا زے میں طالبان کے حامی اور پیروکار مولانا سمیع الحق ، مولانا عبد العزیز ، مولانا یوسف شاہ اوردیگر کیوں دکھائی نہیں دیے؟ یہ ایسے سولات ہیں جو ہر ذہن و قلب پر دستک دیتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں تو پھر ان کے جوابات قوم کے لیے کون تلاش کرے گا ؟ چلیں مان لیتے ہیں کہ آج پاکستانی قوم حقیقی معنو ںمیں بیدار ہو گئی ہے۔ ایک عاشق رسولۖ کی شہادت پر تو پھر یہ منافقانہ رویہ کیوں ؟پھر یہ سیاہ و سفید یکجا کیوں ؟کیا پو ری قوم مادر پدر آزاد سیاسی پارٹیوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرے گی یا پھر عدلیہ کو مورد الزام ٹھہراتے ہو ئے اس قربانی کو بھی قبول کرلیا جا ئے گا ۔ 1973 کا آئین پاکستان اگر قرآن و سنت پر عمل پیرا ہو نے کا متقاضی ہے اور پاکستان کی بنیاد واقعتا کلمہ طیبہ پر اور اسلام پر رکھی گئی ہے تو پھر یہ منافقت اوردہرامعیار دنیا میں کس نام کا دکھائی دیتا ہے ۔ حکمران طبقہ قرآن و سنت کی حقیقی تعلیما ت سے بیزار اور نابلد کیوں دکھائی دیتا ہے ؟پاکستان ایک سیکولر سٹیٹ ہے یا اسلامی ریاست؟ خدارا پہلے پاکستان کی اساس اور بنیاد کو ثابت کریں پھر جمہوریت اور جمہوری اقدار کی با ت کی جا ئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *