20th October 2020

پاکستان اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر کلیم اللہ  اعلیٰ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ وفاقی ہائر ایجو کیشن کمیشن کو تفویض کر دیا گیا ۔ تحقیقی رپورٹ

لاہور ( ) گزشتہ کئی سال سے ہائر ایجو کیشن کمیشن بد عنوانیوں ،بے ضابطگیوں اور انتظامی غفلتوں کا شکار ہے ،پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار،پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ز سراپا احتجاج اور جامعات جبکہ جامعات کی بین الاقوامی درجہ بندی میں پاکستانی جامعات کی تنزلی ہائر ایجو کیشن کمیشن کی غفلتوں اور ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے ، ان خیالات کا اظہار فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز سٹاف ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر کلیم اللہ نے سیفما لاہور میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ڈیموکریٹک ایجو کیشن،ممبر ایگزیکٹو کمیٹی فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز سٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر شہزاد اشرف ، صدر یوتھ کونسل پاکستان سید وقار علی ،صدر سول سوسائٹی عبدا للہ ملک و دیگر بھی موجود تھے۔فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز سٹاف ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کی جانے والے تحقیقی رپورٹ کے نکات درج ذیل ہیں ۔

وفاقی آڈٹ رپورٹ2016۔17کے مطابق ہائر ایجو کیشن کمیشن کی پندرہ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 49فیصد فنڈ بروئے کار ہی نہ لایا جا سکا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن گزشتہ تین سالوں کے درمیان 149ترقیاتی منصوبوں میں سے صرف 66منصوبوں کی منظوری لے سکا۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی گورننگ باڈی کے 8ممبران کا انتخاب ہی نہ کیا جا سکا جس کے باعث یہ باڈی غیر فعال اور غیر مؤثر ہو کر رہ گئی ہے جبکہ ادارے کے انتہائی اہم فیصلوں میں متعلقہ عہدیداران،ہائر ایجو کیشن کمیشن کے بورڈ اور وزیر اعظم پاکستان جو کہ اس ادارے کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہیں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ۔

ہائر ایجو کیشن ایکٹ کے مطابق ہر سال مالیاتی بجٹ کی منظوری ایچ ای سی بورڈ سے لی جائے گی جبکہ 2017۔18کے بجٹ کی منظوری بھی بورڈ سے نہیں لی گئی اسی طرح ہائر ایجو کیشن کمیشن کے ایکٹ کے تحت سال میں دو مرتبہ اجلاس کا انعقاد ضروری ہے جبکہ ایک اجلاس بھی نہ بلایا گیا۔

ہائر ایجو کیشن کمیشن گزشتہ کچھ سالوں سے جامعات کو تعاون فراہم کرنے کے بجائے جامعات کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی میں ملوث ہے،قائد اعظم یونیورسٹی اور فیڈرل اردو یونیوسٹی میں جاری ہائر ایجو کیشن کمیشن کے تنازعات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

جامعات کی عالمی درجہ بندی جاری کرنے والے ادارے کیو ایس،ٹائمز ہائر ایجو کیشن اور ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستانی جامعات ہر سال عالمی رینکنگ میں تنزلی کا شکار ہیں،ہماری جامعات ہمسایہ ممالک اور دیگر اسلامی ممالک سے بھی اعلیٰ تعلیمی میدان میں بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات اور ہائر ایجو کیشن کمیشن کے ریکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ادارے کے کئی اہم شعبوں جن میں آڈٹ،کوالٹی انشورنس اور چیئرمین آفس شامل ہیں کے ریٹائرڈ افسران کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2014سے تاحال اپنی سالانہ رپورٹ جاری نہیں کی جو کہ ادارے کے ایکٹ کی شق 14(4)کی خلاف ورزی

ہے۔

پی ایچ ڈی ڈگریوں کے حامل متعدد افراد ہائر ایجو کیشن کمیشن کی جانب سے کئے جانے والے امتیازی سلوک کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

1400سے زائد پی ایچ ڈی ڈگریوں کے حامل ڈگری کی تصدیق نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہین جن میں سے کئی بے روزگاری میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

ہائر ایجو کیشن کمیشن کی جانب سے سکالر شپس جارے کرنے سے قبل اس کی افادیت کا جائزہ تک نہیں لیا گیا جسے ماہرین تعلیم نے بغیر تشخیص کے علاج قرار دیا ہے۔

2015کے بعد سے ہائر ایجو کیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر سٹو ڈنٹس کی انرولمنٹ، پی ایچ ڈی اور نان پی ایچ ڈی فیکلٹی کا مستند ڈیٹا بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

سات سال گزرنے کے باوجود اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عمل در آمد نہ ہوسکا،جبکہ مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل کردہ سب کمیٹی بھی اس حوالے سے سفارشات پیش کرنے میں ناکام رہی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم آئینی درخواست پر فیصلہ صادر کیا کہ اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں طے کردہ معیارات کی منظوری مشترکہ مفادات کی کونسل سے لی جائے لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود وفاقی حکومت اس اہم فیصلے پر عمل در آمد کروانے میں ناکام رہی۔

بلوچستان میں صوبائی ایچ ای سی کی تشکیل کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کی مشترکہ قرار دار پر بھی تا حال عمل در آمد نہ سکا۔

گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اعلیٰ تعلیمی بجٹ کا ایک بڑا حصہ وفاقی ہائر ایجو کیشن کمیشن اور وفاقی جامعات کو تفویض کر دیا گیا ہے جبکہ چاروں صوبوں کی 83 صوبائی جامعات بشمول 45کیمپسزکے لئے صرف 43فیصد ہی رکھا گیا ہے جو کہ جامعات کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق فاقی حکومت نے پچھلے سال کے بجٹ 21.487بیلین کے بجائے مالیاتی سال 2017۔18کے لئے وفاقی ہائر ایجو کیشن کمیشن کے لئے پبلک سیکٹر ڈولپمنٹ پروگرام کے نام پر 35.662بیلین روپے مختص کئے۔ ترقیاتی بجٹ108سرکاری جامعات بشمول79کیمپسز کے نئے تعمیراتی منصوبہ جات،،موجودہ سہولیات کو بہتر بنانے اور سکالر شپس پر خرچ کیا جائے گا جبکہ اس بجٹ میں نئے کیپسز کا قیام بھی شامل ہے۔

9.188بلین کا بجٹ 62نئے اعلیٰ تعلیمی منصوبوں کے لئے مختص کیا گیا ہے،پچھلے سال کی طرح 62میں سے چار منصوبے منظور کئے گئے ہیں جس پر ماہرین تعلیم نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ بمشکل ہی خرچ کیا جا سکے گا۔

پبلک سیکٹر ڈولپمنٹ بجٹ 2017۔18کے مطابق 62 نئے منصوبے جن کے لئے 9.188بیلین مختص کئے گئے ہیں میں 26منصوبے ہائر ایجو کیشن کمیشن کے ہی ہیں۔

پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 12.406 فیصد وفاقی جامعات،9.685فیصد سندھ،20.733فیصد پنجاب،4.533فیصد بلوچستان،8.053فیصد خیبر پختونخواہ کی جامعات کے لئے مختص ہے جبکہ 44.768فیصد ہائر ایجو کیشن کمیشن کے اپنی نگرانی میں چلنے والے منصوبہ جات میں ہی استعمال کیا جائے گا۔

وفاقی دا رلحکومت اور کشمیر کی سرکاری جامعات کے لئے 7 نئے منصوبہ جات شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت1140 ملین ہے جبکہ پنجاب کی 28سرکاری جامعات بشمول 34کیمپسز کے لئے13نئے منصوبہ جات ہیں جن کے لئے 1905.021ملین وپے ہونگے،سندھ کی سرکاری جامعات کی تعداد21ہے جن کے 6سب کیمپسز ہیں اور اس کے لئے 6نئے منصوبہ جات ہیں جن پر 890ملین روپے خرچ کئے جائیں گے،بلوچستان کی سرکاری جامعات کے لئے گزشتہ سال 8منصوبہ جات تھے جبکہ اس سال 400ملین کی مالیت کے صرف 3منصوبے ہیں۔

گزشتہ سال کے دوران بھی ترقیاتی بجٹ کا ذیادہ تر حصہ وفاقی ہائر ایجو کیشن کمیشن اور وفاقی سرکاری جامعات کے لئے مختص تھا جبکہ صوبائی جامعات اور ان کے کیمپسز کے لئے صف 45 فیصد مختص تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں 5غیر منظور شدہ منصوبے بھی شامل ہیں جن میں بہاولپورانسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی،زرعی یونیورسٹی آف ڈیرہ اسماعیل خان،وفاقی یونیورسٹی حید رآباد،یونیورسٹی آف بلتستان،اورخواتین کے لئے مینگورہ میں سوات یونیورسٹی کا کیمپس شامل ہیں۔

2014سے 16کے درمیان گزشتہ تین سالوں میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرامز کے تحت 149نئے منصوبوں کے لئے اربوں روپے مختص کئے گئے جن میں سے صرف66منصوبے منظور ہوئے جبکہ83سرد خانوں کی نظر ہوگئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *