23rd October 2020

پرتگال میں مقیم پاکستانیوں کئ امیگریشن کے حصول کےلیے بڑھتئ ہوئ مشکلات اور امیگریشن اصلاحات کے بعد پیدا ہونے والئ بےچینئ کے خاتمہ کےلیے پاکستانئ سفارتحانہ نے گزشتہ روز 

رپوٹ ضیاٴسید پرتگال
پرتگال میں مقیم پاکستانیوں کئ امیگریشن کے حصول کےلیے بڑھتئ ہوئ مشکلات اور امیگریشن اصلاحات کے بعد پیدا ہونے والئ بےچینئ کے خاتمہ کےلیے پاکستانئ سفارتحانہ نے گزشتہ روز وزارت داخلہ کے حکام کے ساتھ مل کر کمیونٹئ کے مساہل سننے کے لیے سفارت خانہ میں پروگرام کا اہتمام کیا جس میں پاکستانیوں کئ بڑئ تعداد نے شرکت کئ اود حکام سے سوال وجواب کیے اود مساہل سے آگاہ کیا ‘پرتگال کئ وزارت داخلہ کے حکام نے کہا کے جنورئ 2016 سے قبل لیے گے باہیو میٹرک کے حامل افراد کو قانونئ تقاضے کےمطابق جلد لیگل کر دیا جاے گا جبکہ پرتگال میں غیر قانونئ طور پرآنے والے افراد کو قانونئ حثیت نہ دئ جاے گئ حکومت لیگل آنے والے افراد کو ترجیع دےگئ جو قوانین کئ پاسدارئ کرے گا اس موقع پرپاکستان سفارتحانہ کے سیکنڈ سیکرٹرئ فیاض خان، پاک پرتگال ایسوسئ ایشن کے محبوب احمد، قارئ امجد محمود، عرفان بٹ، حافظ غلام دستگیر آف حافظ ٹریولز ، سید خالد عباس، رب نواز خان، قاضئ غلام عباس،پاکستان پریس کلب پرتگال کے ضیاء سید، سرفراز فرانسس،ارسلان بھٹئ، جمشید بٹ، عمر شیخ‘ پاکستان بزنس فورم پرتگال کے کلیم چوہدرئ اور پاکستان پرتگال اتحاد کمیونٹئ کے صدر اور جنرل سیکرٹرئ ، بھئ وجود تھے 


پاکستانیوں کئ تنظیموں کے زمہ داران کے علاوہ امیگریشن اصلاحات سے متاثر ہونے والے افراد کئ ایک بڑئ تعداد اس موقع پر موجود تھئ پاکستانیوں نے سفارتحانہ کئ اس کاوش کو سراہا اور کہا کہ اس اقدام سے پرتگال کئ امیگریشن پالیسئ کا پتہ چلاہے اور یہ بات واضع ہو گئ ہے کہ صرف اور صرف پرتگال میں قانونئ طریقہ سے آنے والے افراد ہئ فاہدہ اٹھاہ سکتے ہیں جبکہ غیر قانئ طور پر آنےوالے افرادیا غیر قانونئ طورپرمقیم افراد کے لیے اب پرتگال میں کو ئ جگہ اب نہیں ، اس فیصلہ کے بعد تارکین وطن کئ بڑئ تعداد یورپ کے دیگر ممالک کا رخ کرتئ نظر آتئ ہے یاد رہے کہ پرتگال نے گزشتہ ایک سال سے امیگریشن بند کر رکھئ ہے جس سے برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے آنے والے پاکستانیوں سمیت دیگر ایشیاعی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جبکہ یورپئ یونین کئ ہدایت پر پرتگال نے امیگریشن قوانین میں کافئ سختئ کئ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *