24th October 2020

پیر امین الحسنات صاحب پر کیے جانے والے، ہر سوال کا تفصیلی جواب ……

پیر امین الحسنات صاحب پر کیے جانے والے، ہر سوال کا تفصیلی جواب ……

چند چشم کشا حقائق ……مفتی محمد رمضان جامی ریسرچ سکالر 92نیوز چینل و روزنامہ
11مئی 2013کے الیکشن کے بعدوزیرا عظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب کا دور حکومت شروع ہوتے ہی ملکی اور غیر ملکی سظح پر ان کے خلاف تحریکیں شروع ہوگئیں اور ان کے دور حکومت میں اس وقت ایک خطرناک موڑ آیا جب ملک ممتاز حسین قادری رحمۃ اللہ علیہ کی پھانسی کی سز ا پر عمل درآمد کیا گیا ۔اور پھر دوسر ابڑا ابھونچال تب آیا جب شریف خاندان کے بیشتر افراد کا نام پانامہ پیپرز میں شائع ہوا اس تناظر میں سوشل میڈیا پر بعض احباب کی طرف سے مسلم لیگ سے منسلک علماء کرام اور مشائخ عظام کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں علماء سوجیسے بیہودہ القابات سے پکارا گیا ۔ہم اس کالم میں میاں محمد نواز شریف صاحب کو نہ تو امیر المومنین ثابت کریں گے اور نہ ہی اس کے سیاسی نظریات و جماعت کا دفاع! مگر ایک طالبعلم ہونے کے ناطے چند حقائق سامنے رکھیں گے جس سے ہمارا مقصد احباب کو دعوت فکر ہے ۔
سب سے پہلے یہ طے کر لینا ازحد ضروری ہے کہ میاں محمد نواز شریف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم ہیں جو ایک سنی ،حنفی مسلمان ہیں ابتدا سے ہی علامہ مفتی محمد حسین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اورمولانا عبدا لستار خان نیازی ، ڈاکٹر طاہر القادری سمیت درجنوں سنی علماء و مشائخ سے منسلک رہے ہیں ۔ آج کل کے دور میں ان کوکرپٹ ،لادین بھارت نوازجیسے القابات سے یاد کر کے ان کے ساتھ ملکی سیاست میں شریک تمام علماء کرام اور مشائخ عظام پر طعنہ زنی کی جاتی ہے ۔ہم مرحلہ وار تفصیل سے اس مضمون پہ بات کریں گے ۔
انجمن طلبہ اسلام میں بحیثیت کارکن کام کرتے ہو ئے گذشتہ دو دہائیوں سے سنی علماء ومشائخ اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی حالت زار کو ہم بڑے قریب سے دیکھا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ درجن سے زائد سنی حنفی بریلوی علماء مشائخ کی سیاسی و مذہبی سیاسی جماعتیں ملک پاکستان میں یونین کونسل کے کونسلر سے لیکر وفاق تک کہیں بھی موجو د نہیں ہیں۔اور نہ ہی انہیں عوام میں کوئی پذیرائی و قدرو منزلت حاصل ہے ۔ہر تنظیم و جماعت اپنے الگ دائرے میں گھوم رہی ہے جس کے پاس نہ تواسلام کو درپیش چیلنجز کا حل ہے ۔اور نہ ہی پاکستان کے موجودہ حالات سے کا مکمل ادارک !پاکستان اور اسلام لبرل ازم کی بھیٹ چڑھتا جارہا ہے اور ہم زعماء وقائدین حاصل و لاحاصل کے دائروں میں محو خیال ہیں ۔ بارہا سوادِ اعظم کے اتحاد کے نام پہ اجلاس منعقد ہوئے مگر ہر بار اتفاق کی بجائے انتشار وافتراق میں اضافہ ہوا اور صوفیاء کرام کے ماننے والوں کو مایوسی ہوئی ۔جن حالات میں اقوام عالم میں کئی مقامات پر انقلاب دستک دے رہا ہے۔ ان حالات میں بھی پاکستان کا مذہبی طبقہ ذاتی لالچ ،حب جاہ جیسی بیماریوں کی بدولت سیاسی اور مذہبی طور پر مکمل ناکام ہو چکا ہے کسی شخصیت پہ طعن کرنے کی بجائے اتنا عرض کروں گا ۔ادھر ادھر کی بات نہ کر بات قافلہ کیوں لٹا ۔۔ مجھے راہزن کی خبر نہیں تیری راہبری سے سوال ہے
اس سیاسی اور اخلاقی انحطاط کے دور میں عظیم الشان علمی تحریک کے روح رواں،باکردار،صاحب حسب ونسب شخصیت پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب پارلیمنٹ میں ایک باعزت مقام پر فائز ہیں اور کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں تو ہمارے بعض نام نہاددانشور اور کارکنان نے سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بپا کردیا ہے کہ یہ ہوگیا ،وہ ہو گیا ، سنیت تباہ ہو گئی ؟ان میں ہمارے اکثر نظریاتی اور تنظیمی احباب ہیں جن کے سوالات کے جوابات میں یہ کالم تحریر کیا جارہا ہے ۔

میرے خیال کے مطابق کسی بات پہ رائے دینے سے پہلے اس دور کے حالات کا ادراک ضروری ہوتا ہے بصورت دیگر کوئی بھی ذی شعور آپ کی بات کو تسلیم نہیں کرتا ۔بات کا آغاز کرنے سے قبل سنیت کا درد رکھنے والوں سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں کہ
کیا پیر صاحب آف بھیرہ شریف اس لولی لنگڑی اور سسکیاں لیتی اہل سنت میں امید

کا چراغ نہیں ؟؟
کیا گزشتہ پزنچ سالوں سے پیر صاحب رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے سامنے ایک مضبوط ڈھال نہیں ؟
(جس کا اعتراف مفتی منیب الرحمن صاحب اپنے ایک کالم میں کر چکے ہیں )
کیا پیر صاحب ملک ممتاز حسین قادری کے ایشو پہ سواداعظم کے ساتھ موجو د نہیں کھڑے تھے ؟
کیا پیر صاحب پارلیمنٹ میں نعت شریف کے فروغ میں نمایاں کردارادا کرنے نام نہیں ؟
کیاوزارت حج کو ملکی تاریخ میں اہم ترین ادوار میں شامل نہیں کیا گیا ؟
اس حقیقت کے باوجود مگر ہمارے بعض بھائیوں کی خواہش ہے کہ پارلیمنٹ اور میڈیا میں چمکتا دمکتا اکلوتا چراغ بھی بجھا دیا جائے مگر دانا لوگ اس حقیقت سے باخبر ہیں ۔ کہ یتیمی اور مجبوری کے حالات میں کم بھی اکتفا کرتے ہوئے حکمت عملی سے کام کرتے ہیں ۔جبکہ بعض دوست پیر صاحب کی پارلیمنٹ میں موجودگی پہ تبصرہ کرتے ہوئے یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ بادشاہ کی مجلس میں بیٹھنے والے علماء علماء سو ہوتے ہیں ۔مگر ایسے دوستوں سے میں عرض کرتا ہوں کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پیر صاحب کا خاندان صدیوں سے دین اسلام کی ترویج وشاعت کاکام کررہا ہے ۔ پیر صاحب اس وقت پوری دنیا میں ایک ہزار سے زائد مدارس اسلامیہ کی سرپرستی فرمارہے ہیں جن میں ہزاروں طلبہ دین دینی علوم سے فیض یاب ہورہے ہیں ۔ کیا علماء سو کا یہی کام ہوتا ہے ؟ کیا علماء سو معاذاللہ دین اسلام کے احیاء کے لیے اپنی نسلیں وقف کردیتے ہیں ۔ انتہائی افسوس کے ساتھ عرض یہ فیصلہ کسی کج رو کج فہم کا تو ہو سکتا ہے تھوڑا سا بھی ذی شعور ایسا نہیں سوچ سکتا ۔
میرے بعض دوستوں کے مطابق مسلم لیگ کی کابینہ میں بیٹھنا بہت بڑا جرم ہے اور پیر صاحب اس جرم ارتکاب کررہے ہیں اور معاذ اللہ کسی حرام کام میں مبتلا ہیں؟ تدبیر و حکمت اللہ تعالی ہر شخص کو عطا نہیں فرماتا بلکہ اس کے لیے خاص لوگوں کا انتخاب فرماتاہے جو مجبوری اور کٹھن حالات میں بھی دین کا چراغ جلاتے ہیں اورطوفان بدتمیزی کے دور میں بھی امام زین العابدین کی سنت کے مطابق اسلام کی سر بلندی کے لیے کردار ادا کرتے ہیں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دو اینٹ کی مساجد میں بیٹھ کر کھوکھے نعروں کے علاوہ کچھ فہم ادراک نہیں رکھتے ؟جن کے ہاں امت مسلمہ کی فکر تو کجا ذات کی معرفت و ادراک بھی نہیں ہے ؟ اس باب کو کھولاتو بات دور تلک چلی جائے گی اور اہل سنت کے زوال کی ایک نئی داستان سامنے آجائے گی مگر میرا مقصدقطعا یہ نہیں ہے ۔
فرض کریں میاں محمد نواز شریف ایک ظالم ،جابر ،لادین اور کرپٹ وزیر اعظم ہے۔ تو کیا آپ اس کے وزیراعظم ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کی نمائندگی کو چھوڑ دیں گے ؟ کیا آپ دیگر مذاہب باطلہ کو اجازت دیں گے کہ وہ اس پارلیمنٹ کا حصہ بن جائیں تو رہی سہی کمی بھی پوری کردیں؟؟نہیں یہ عقل مندی نہیں جہالت ہے۔اور ہاں میرے معترض احباب میں سے کوئی دوست اس ظالم کی موجودگی میں وزیر مملکت ہوتے ہوئے ملک ممتاز حسین قادری کو شہید اسلام کہتے تو ہم مانتے ۔جناب والا ایک مسجد کی چار دیواری یا مداحوں کی موجودگی میں نعرہ لگانا آسان ہے مگر میدان عمل ڈٹ جانا بہت مشکل کام ہے
اسی دن سٹیٹ کے سب سے بڑے ٹی وی چینل پی ٹی وی اور جیو نیوز پہ حامد میر کے پروگرام میں یہ خبر بار بار نشر کی گئی کہ پیر صاحب اور کیپٹن(ر) صفدر صاحب ملک ممتاز حسین قادری کو شہید اسلام قرار دے رہے ہیں (دونوں نیوز ریکارڈ کا حصہ ہیں ) مگر اس مر قلندر نے اس حق گوئی سے منہ نہیں موڑابلکہ خلوت و جلوت میں حق بات کا اعلان کیا ۔
بعض احباب کی طرف سے کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں سزا رکوائی کیوں نہیں ؟اور جب پھانسی دئے دی گئی تواستعفیٰ کیوں نہیں دیا ؟
نظریاتی سیاست دان ملکی معروضی حالات کو جاننے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کوئی گلی محلے کے گلی ڈنڈے کا تنازعہ نہیں تھا جو آپ ایک پارلیمانی لیڈر کے احتجاج سے حل ہو جاتا یا استعفیٰ سے ایوان میں بھونچال آجاتا بلکہ یوں ہوتا کہ ایک فیصد نمائندگی بھی چلی جاتی اور یہ حقیقت ہے کہ دانشمند اپنے حصے کا چراغ جلاتے ہیں بصورت دیگر سسکیاں کھاتی ناؤ بھی طوفانوں کے طماچے کھاتی ہوئی غرق ہو جایا کرتی ہے ۔کیونکہ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان میں مذہبی سیاست کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور وہ مذہبی جماعتیں بھی دم توڑ رہی ہیں جن قیام پاکستان سے پہلے ہیں سیاسی جدوجہد کررہی تھیں اس ملک میں نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نفاذ کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ’’ انقلاب ‘‘جو موجودہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بس کی بات نہیں ہے تو ہمیں اسلام کی ترجمانی کے لیے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کا سہارا لینا پڑے گا تب جا کر کچھ ممکنہ اقدامات ہوسکتے ہیں بصورت دیگر تقاریر اور خطابات سے نہ ہی انقلاب جنم دیتے ہیں اور ملک کی تقدیر سنورتی ہے۔بدقسمتی سے جو دوست کونسلر کی حیثیت نہیں رکھتے وہ سسٹم فلاپ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔میں نے صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم رحمۃ اللہ علیہ کو قریب سے دیکھا (اللہ تعالی انہیں غریق رحمت فرمائے)انہوں نے زندگی بھر نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جدوجہد کی اور مسلم لیگ کے ساتھ ملکر جمیعت علماء پاکستان کے پلیٹ فارم سے سیاست کی اور اہل سنت کے گراں قدر خدمات سرانجام دیں مگر صاحبزادہ صاحب کو بھی انہیں بھی ناعاقبت اندیش دوستوں کے جذباتی نعروں ،کھوکھلی تقریروں نے الگ سنی انقلاب کے لیے مجبور کیا جب وہ مرد درویش مسلم لیگ(ن) سے اپنی بیس سالہ رفاقت توڑ کر میدان عمل میں اترا تو سب فصلی بٹیرے اڑ کے اپنی اپنی پسند کی شاخوں پر بیٹھ گئے اور وہ تنہا ہوگئے ۔ کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ ان کو اپنے حصے کا چراغ جلانے دیا جاتا ؟ کیا فضل کریم پارلیمنٹ میں حق بات کا اعلان نہیں کررہے تھے ؟ ہاں یہ بات ٹھنڈے دماغ سے سوچنے والی ہے کہ ہمارا سیاسی مستقبل نہیں ہے اگر ہم ماضی میں اس سے تھوڑ اپیچھے جائیں تو ادب سے گذارش ہے کہ ہم چند خود ساختہ اصولوں کی بنیاد پر جنرل ضیاء الحق کا بائیکاٹ کیا تو جمیعت علماء پاکستان کی پچیس سالہ جدوجہد ختم ہو گئی اور جمیعت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے بھر پور فائدہ اٹھایا اور اہل سنت کو بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیا گیا ۔ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے بعد اگر سید ریاض حسین شاہ صاحب اتفاق مسجد کی خطابت کے منصب پہ نہ ہوتے تواسی طرح ہماری چیخیں نکل جاتیں جیسے ہم پی ٹی وی اور پنجاب علماء بورڈ میں سنی علماء کے بعد مذاہب باطلہ کے لوگوں کے آنے سے خفا ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہو اکہ آج بیورکریسی ،عدلیہ، پارلیمنٹ سمیت تمام اداروں میں سنی فکر کا جنازہ نکل چکا ہے ۔
منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے کچھ احباب نے بھی پیر صاحب کے اس سیاسی اقدام پہ بھیانک تبصرے کیے صرف اتنا سوال چھوڑنا چاہتا ہوں کہ کیا ڈاکٹر صاحب لاکھوں مداحوں اور دنیا بھر میں موجودتنظیمی نیٹ ورکس کے باوجود ملکی عملی سیاست میں کہاں کھڑے ہیں؟ معذرت کے ساتھ عرض ہے صرف ایجنسیوں کے لولی پاپ کے سہارے سیاست سیاسی یتیم لوگوں کا وطیرہ ہوتا ہے ۔
پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اپنے والد گرامی پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی وراثت کے امین ہیں ۔ملک پاکستان میں جہاں علم و حکمت کا چراغ جگمگا رہا ہے ان میں خانقاہوں اور مدارس کی فہرست میں بھیرہ شریف صفحہ اول میں آتا ہے ۔اور ان کی شخصیت فکری اور سیاسی بصیرت سے معمور ہے اور آپ کی سیاسی زندگی ایک روشن باب ہے اور ان کی حکمت افروز گفتگو اور سنی حنفی نظریات کو پارلیمنٹ میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ میرے معترضین بھائیوں میں سے کوئی دوست بتا سکتا ہے کہ بھیرہ شریف کی علمی و روحانی تحریک موجودہ سجادہ نشین صاحب کے مسند افروز ہونے کے بعد کہاں تک پہنچی ؟ دارالعلوم بھیرہ شریف کی رپورٹ کے مطابق پیر صاحب کی موجودگی میں حضرت ضیاء الامت کی علمی تحریک اوج کمال کو پہنچی اور دن بدن پوری دنیا میں پھیلتی چلی جارہی ہے ۔
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ظالم کی موجودگی میں خاموش رہنا ظالم کی حمایت نہیں ہے ؟
اس بات کو سمجھنے کے لیے تاریخی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے تاریخ میں یہ بات پایہ وثوق کو پہنچ چکی ہے کہ ظالم اور لادین حکمرانوں اور بادشاہوں کی اقتداء میں علماء کرام اور صوفیاء عظام نے انہیں چھوڑا نہیں بلکہ اپنے حصے کا چراغ جلایا اور ان کے مظالم اور جرائم پہ حکمت عملی کے ساتھ اصلاح کی کوشش کی اور پھر اقوام نے دیکھا کہ ان کی جدوجہد رنگ لائی اور سویرا طلوع ہواذیل میں ہم چند مثالیں پیش کریں گے
اگر ہم ماضی میں جھانکیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اہل حق نے دین اسلام کی خدمت کے لیے مختلف محاذ وں پہ کام کیا
کیا حجاج بن یوسف جیسے ظالم حاکم اسلام کے مشیروں میں محمد بن قاسم رحمۃ اللہ علیہ جیسے عظیم ہیرو اسلام نہیں تھے ؟؟
کیا سلیمان بن عبد الملک جیسے ڈکٹیٹر،ظالم حاکم اسلام میں حکومت میں عمر بن عبدالعزیز جیسی زمانہ ساز شخصیات شامل نہیں تھیں؟
کیا عباسی خلفاء کے ادوار میں بڑے بڑے نامور صوفیاء کرام نے حکمت و تدبر سے کام نہیں کیا ؟
ہاں اولوالعزم کا یہی وطیرہ تھا کہ جہاں انقلاب ممکن نہ ہو وہاں حکمت وتدبر کے ساتھ کام کرتے اور سچائی کا دامن نہیں چھوڑتے تھے یہی وجہ ہے حضرت مجددالف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ نے دین اکبری کے خلاف جہاد کیا اور وصیت میں فرمایا کہ جہانگیر بادشاہ سے قطع تعلقی کا مقصددین اسلام کو قتل ہو گا لہذا ہر دم بادشاہ وقت کا محاسبہ کرنا اور اصلاح کرتے رہنا پھر دنیا سے وہ دین اکبری کا طلسم ٹوٹتا ہے اور دین محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سحر پھوٹتی ہے عدل جہانگیری کا راج دکھائی دیتا ہے ۔یہ بھی سچ ہے کہ جو نقصان اہل مدرسہ و خانقاہ کی خاموشی سے ہورہا ہے اتنا اہل علم و دانش کے پارلیمنٹ کی موجودگی میں بیٹھ کر نہیں ہو رہا ہے ۔کیا ظالم و جابر کے ظلم و جبر کا مقابلہ کرنے کی بجائے میدان سے بھاگ جانا پندرہ کروڑ عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین نہیں ؟ ہم حوصلہ ،اعتماد کے ساتھ اس کڑے وقت میں ممکنہ کام کے لیے اپنے بزرگوں اور قائدین کے ساتھ کھڑے ہوں اور تشکیک و بے یقینی کی کیفیت سے نکل کر عزم و یقین سے نئے سفر کا آغاز کریں ۔۔۔۔نوٹ : یہ راقم الحرو ف کے ذاتی خیالات ہیں جن سے آپ دلیل کے ساتھ اختلاف بھی کر سکتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *