30th October 2020

کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغاز باب ہو گا .. جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا

کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغاز باب ہو گا ..

جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہو گا

وہ دن گئے جب ہر اک ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے..

اٹھی جو اب ہم پہ اینٹ کوئی تو اس کا پتھر جواب ہو گا

سحر کی خوشیاں منانے والوں سحر کے تیور بتا رہے ہیں

ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا..

سکون صحرا میں بسنے والوں،ذرا رتوں کا مزاج سمجھو ..

جو آج کا دن سکوں سے گزرا،تو کل کا موسم خراب ہو گا ..

مرتضیٰ برلاس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *