28th October 2020

کرپشن کو جڑ سے ختم کیئے بغیر، ملک ترقی نہیں کر سکتا! (شکیل قمر مانچسٹر)

کرپشن کو جڑ سے ختم کیئے بغیر، ملک ترقی نہیں کر سکتا! (شکیل قمر مانچسٹر) پاکستان کا سب سے بڑا مسّلہ کرپشن ہے ،اس موضوع پر بے تحاشہ لکھا گیاہے ، صدر پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے لیکر ایک عام شہری تک بار بار اس مسّلہ کی سنگینی کا ذکر کر چکے ہیں مگرتا حال حکومت کی طرف سے ملک میں کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی مؤثر قانون سازی نہیں کی گئی ، گذ شتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس نے پاکستان میں ہونے والی کرپشن کے مختلف پہلوؤں کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے اس سب سے بڑے مسّلے سے نبردآزما ہونے کے لئے مختلف تجاویز بھی پیش کی تھیں،دوسری طرف ہماری حکومت ہے جو کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے ابھی تک مؤثر قانون سازی کے لئے کوئی پیش رفت نہیں کر سکی شائداسی لئے کرپشن کے عفریت نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے اور بڑے سے بڑے اداروں سے لیکرچھوٹے شعبوں تک سبھی اس لعنت میں گرفتار ہیں ضرورت تو اس امر کی ہے کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر تادیبی کاروائیاں کی جایں اور اس معاملے میں زیرو ٹالرنس کے تحت اُپر سے نیچے تک صفائی کی جائے مگر مسّلہ یہ ہے کہ ایسا کرئے کون ,سارا معاشرہ ہی تو اس لعنت کی لپیٹ میں آ چکا ہے جو کوئی بھی کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتا ہے اسے ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے ایسے لگتا ہے کہ کرپشن کا نیٹ ورک بڑی مضبوطی اختیار کر چکا ہے اور اس کے خاتمے کے لئے بھی اُتنی ہی مضبوطی سے کاروائیاں کرنے کی ضرورت ہے ، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ میں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے زیرِاہتمام ’’اداروں کا استحکام اور قانون کی حکمرانی ‘‘کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں اپنے خصوصی لیکچر میں کہا تھا کہ آئین کے مطابق ریاست ہر فرد کے جان ومال کی حفاظت کی ذمہ دار ہے عوام اور حکام کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جارہی ہے ، سابق چیف جسٹس آف پاکستا ن نے یہ بھی کہا تھا کہ ہر پاکستانی کی نظر میں بدعنوانی ہی وہ ناسور ہے جو ریاست کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے لیکن کرپشن کے خاتمے کے لئے کوئی مؤثر قانون سازی نہیں کی جا سکی اس بدعنوانی کی وجہ سے ملک کو اربوں بلکہ کھربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے ،قانون و آئین کا اطلاق اور بالا دستی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اسی بدعنوانی کی وجہ سے عوام میں عدم مساوات انتہا تک پہنچ رہی ہے اور مفلس و نادار طبقے پِستے چلے جارہے ہیں جبکہ دولت مند مزید دولت مند ہوتے جارہے ہیں ،ریاست اور عوام میں خلیج کم کرنے کے لئے کرپشن ختم کرنا ہوگی ،ہمارا نظامِ احتساب کمزور، ریاستی اداروں میں حساسیت اور جواب دہی کا فقدان ہے ہمیں اپنی اخلاقی اقدار پر بھی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے ،معاشرتی قدروں میں جس قدر انحطاط اور تنزلی رونما ہورہی ہے اچھے اور بُرے غلط اور صیحح سفید اور سیاہ دھن میں تمیز ختم ہوتی جارہی ہے اگر آج ہم اپنے ملک کو درپیش مسائل سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سنجیدگی سے ریاست اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں کو ختم کرنے کا اہتمام کرنا ہوگا اور ان تمام نو آبادیاتی نشانیوں کو مٹانا ہوگا جن کا مقصد ہی یہ تھا کہ عوام کو ہر لمحہ محکوم اور مغلوب ہونے کا احساس دلایا جائے ، سابق چیف جسٹس نے یہ بھی کہاتھا کہ یہ عوام ہی ہیں جن کے لئے ریاست اور اس کے تمام ادارے تخلیق کیئے جاتے ہیں لیکن ریاستی اداروں تک شہریوں کی رسائی کم سے کم تر ہورہی ہے شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا ان پر ریاست کا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ شہریوں کا استحقاق ہے ایسا استحقاق ہی ریاستی پالیسیوں اور اصلاحات کی بنیاد ہونا چاہیے ،آج ہم تاریخ کے دھارے میں جہاں کھڑے ہیں وہاں ریاست اور عوام میں خلیج کو پُر کرنے کی ضرورت ہے یہ خلیج اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ معاشی اور سیاسی طبقات کے درمیان ناہمواری اور عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کرپشن کے خاتمے کے لئے مؤثر قانون سازی کی جس ضرورت کا اظہار کیا تھا وہ وقت کا تقاضہ بھی ہے اس لئے حکومت اور قانون ساز اداروں کو چاہیے کہ وہ حالات کے مطابق اس پر فوری توجہ دیں اور کرپشن کے خاتمے کے لئے ہر محکمے اور ہر ادارے کی سطح پر قانون سازی کی جائے ۔
E MAIL<<<<<<< kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *