23rd October 2020

کوئٹہ کے پہاڑوں کا عجیب الخلقت درندہ ’’ مم ‘‘ تحریر و تحقیق شکیل قمر

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے جنگلوں ،پہاڑوں اور سمندروں میں ہزار ہا قسم کے درندے موجود ہیں جوشکل وصورت ،عادات و اطوار اور خونخواری میں ایک دوسرے سے قطعی مختلف نہیں ،بہت ممکن ہے امریکہ کے گھنے جنگلوں اور دیگر گہرے سمندروں میں ایسےدرندے بھی موجود ہوں جو دریافت شدہ درندوں سے زیادہ خونخوار ہوں مگر ابھی تک انسان کی نظر سےاوجھل ہوں اسی طرح بلوچستان کی تاریخ میں

ایک ایسے عجیب الخلقت درندے کا ذکر ملتا ہے جو اپنی ہیت اور عادات کے لحاظ سے دیگر دریافت شدہ درندوں سے قطعی مختلف ہے ،جنرل پوسٹ آفس کوئٹہ چھاؤنی سے نکل کر نالے کا پل پار کر کے کوئٹہ چھاؤنی کی طرف جائیں تو تقریباً دو فرلانگ کے فاصلے پر سڑک کے داہنی طرف ایک چھوٹی سی چار دیواری کے اندر انگریزوں کا ایک قبرستان موجود تھا مگر اب تمام قبریں مسمار کر کے وہاں رہائشی کالونی بنا دی گئی ہے

اسی قبرستان میں ایک پختہ چبوترے پر ایک ایسے درندے کا سیمنٹ اور دیگر مسالحہ جات سے بنایا ہوا بُت موجود تھا جس تمام جسم اور دُم شیر کیطرح تھا لیکن سر ،چہرہ اور سینہ بالکل عورت کی مانند تھے ،اس عجیب الخلقت درندے کے متعلق بہت سی مختلف روایات مقامی اور غیر مقامی باشندوں میں مشہور تھیں ،پہلے پہل یہی اندازہ تھا کہ کوئٹہ کے قریب پہاڑوں میں ہلاک کیا جانے والا یہ درندہ دنیا کے اور کسی خطہ میں نہیںدیکھا گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا ہی ایک انسان نما درندہ ملایا کے ربڑ کے جنگلات میں اور اس کے بعد کینڈا میں دیکھا گیا لیکن بسیار کوشش کے باوجود نہ تو اسے زندہ پکڑا گیا اور نہ ہی اسے ہلاک کیا جا سکا تھا اور پھر یہ درندے دوبارہ کا فی عرصہ تک نظر نہیں آئے ،جب

برصغیر ہندو پاک پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا تو اٹھارویں صدی کے آخر میں فوج کی کچھ نفری کوئٹہ آئی ،فوج کے ایک حصہ نے اپنا کیمپ وہاں لگایا جہاں موجودہ قلی کیمپ ہے ابتداء میں تمام فوجی خیموں میں رہتے تھے کیونکہ اس علاقے میں چھاؤنی بنانے کے لئے سروے کا کامشروع تھا ،فوج خیموں میں ہی مقیم تھی ،ابتدائی سال میں صرف آٹھ دس ماہ کے اندر اندر مختلف مقامات میں تین انگریز فوجی پُراسرار طور پر

لاپتہ ہو گئے اور کافی تلاش کے بعد ان کے اس طرح غائب ہو جانے کا سراغ نہ مل سکا بالآخر ان فوجیوں کو فوج سے بھگوڑے قرار دیدیا گیاایک خیال یہ بھی تھا کہ تینوں فوجی کسی نہ کسی طرح قبائلی لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہوں گے مگر قبائلی سرداروں سے رابطہ قائم کرنے پر یہ اطمینان کر لیا گیا ،تینوں فوجی رات کو مختلف اوقات میں کیمپ سے غائب ہوئے تھے اس لئے ایک خیال یہ بھی تھا کہ قریبی پہاڑوں سے کوئی

درندہ انہیں اُٹھا کر نہ لے گیا ہو لیکن پہاڑوں میں تلاش کرنے پربھی کوئی ایسا نشان نہ مل سکا ،رات کا پہرہ سخت کر دیا گیا تو رات کو پہاڑوں

کی جانب سے ایک درندہ آتے ہوئے دیکھا گیا جب فوجیوں نے اس پر فائرنگ کی تو وہ بالکل سیدھا کھڑا ہو کر پاؤں کے بل اتنی تیزی سے واپس بھاگا کہ اسے کوئی گولی بھی نہ لگ سکی ،پہرے پر موجود فوجیوں نے بتایا کہ وہ تیز رفتاری سے پہاڑ پر چڑھ گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا اس درندے کی شکل ریچھ کی مانند تھی چند روز بعد پھر ایک ناخوشگوار واقعہ ہیش آیا اس مرتبہ ایک انگریز کیپٹن اپنے کیمپ سے رات کو غائب

ہوگیا تھا ،ایک انگریز کیپٹن کا یوں رات کو غائب ہو جانا تو انگریزوں کے لئے ایک چیلنج تھا،چنانچہ پوری فوج میں سے پچاس آدمیوں کا ایک دستہ منتخب کیا گیا اور پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے یہ پروگرام مرتب کیا گیا کہ دونوں دستے مختلف جانب سے پہاڑ پر چڑھیں گے مناسب خوراک اور پانی کا ذخیرہ بھی ساتھ لے لیا گیا اور پروگرام کے مطابق دونوں دستے مختلف جانب سے پہاڑ پر چڑھنے کے لئے روانہ ہوگئے ،کئی روز تک پہاڑوں میں تلاش کرنے کے بعد ایسا کوئی نشان نہ مل سکا نہ کوئی ایسا جنگلی درندہ دکھائی دیا جس کے بارے میں شک کیا جا سکتا کہ غائب ہونے والے فوجیوں کو ایسا کوئی درندہ اٹھا کر لے گیا ہو گا پہاڑوں کے دامن میں جہاں کہیں مقامی لوگوں کی چھوٹی سی بستی

نظر آئی ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی مگر کوئی ایسی مفید بات معلوم نہ ہوسکی جو گائب ہونے والے فوجیوں کی تلاش میں ممدومعاون ثابت ہو سکتیایک رات جب ایک دستہ پڑاؤ کئے ہوئے تھا تو پہرے داروں نے دور سے ایک کالی سی چیز کو حرکت کرتے دیکھا اُنہوں نے فوراً دستے کے انچارج کو جگایاتھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ وہ ریچھ کی مانند کوئی جانور ہے لیکن وہ اتنی دور تھا کہ گولی چلانے سے اس کے بچ نکلنے کا خدشہ تھا

دستے کے انچارج نے دور بین سے دیکھا تو چاند کی روشنی میں اسے نظر آیا کہ وہ جانور نہیں کوئی عورت تھی جس نے سردی سے بچنے کے لئےکوئی پوستین پہن رکھی تھی اور پھر اچانک تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس پلٹی اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو گئی صبح تک اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا اب مذکورہ دستے کا رُخ اس طرف تھا جس طرف رات کو اس جانور یا عورت کو دیکھا گیا تھا مگر تمام دن تلاش کے باوجود پہاڑ پر کوئی ایسی آبادی نظر نہ آئی اسی اثناء میں دوسرا فوجی دستہ بھی ان سے آملا اور اُنہوں نے ایک پہاڑی کی ڈھلان پر ریچھ سے ملتا جلتا

ایک جانور کھڑا دیکھا جس کا سر اور چہرہ عورت سے مشاہبہ تھا قبل اس کے اس پر گولی چلائی جاتی وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور پھر تلاش کے

باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا اسی رات اس جانور کو تلاش کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا کیونکہ اب یہ بات قرین قیاس تھی کہ فوجیوں کے غائب ہو جانے کا تعلق اسی پُراسرار اور عجیب الخلقت درندے سے ضرور تھا اور یہ اندازہ ہو گیا کہ اس پُراسرار درندے کاٹھکانہیقیناً اسی علاقہ کی حدود میں ہے جہاں وہ دونوں دستوں کو نظر آیا تھا پروگرام کے مطابق چار چار فوجی جوانوں کی ٹولیاں ترتیب دی گئیں جن کاکام پہاڑ میں مختلف غاروں کی اچھی طرح تلاشی لینا تھا صبح ہوتے ہی تمام ٹولیاں مختلف جانب روانہ ہو گیءں ،پہاڑ پر کیمپ میں چار جوانوں کو چھوڑ دیا گیا اور یہ طے پایا کہ جیسے ہی کوئی معلومات فراہم ہوں گی موجودہ کیمپ میں اس کی اطلاع دی جائے ،ایک ٹولی کو ایک پہاڑی غارکے دہانے کے قریب کسی جانور کے پاؤں کے نشان پتھروں کے درمیان پڑی ہوئی مٹی پر دکھائی دیئے ان فوجیوں نے غار کے اندر جھانکا مگر

وہاں گُھپ اندھیرا تھا پھر اُنہوں نے زور زور سے آوازیں دیں تاکہ ان کی آوازوں کا کوئی ردعمل معلوم ہوسکے اچانک انہیں غار کے اندر سے دور سے آتی ہوئی کوئی آواز سنائی دی جیسے کوئی انسان انہیں مدد کے لئے پکار رہا ہو یہ آواز کئی بار سنائی دی مگر آواز دور سے آتی ہوئی معلومہوتی تھی لیکن وہ اندازہ ٹھیک ہی تھا کہ آواز غار کے اندر سے آ رہی تھی غار کے اندر جانا خطرناک بھی ہو سکتا تھا ان فوجیوں نے سگنل دیئے تاکہ دیگر ساتھیوں میں چند اور یہاں آجایں تو غار کے اندر جانے کا پروگرام بایا جا سکے تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد چار جوانوں کی ایک اور ٹولی ان سے آملی اب دو آدمیوں کو غار کے باہر متعین کیا گیا اور باقی چھ آدمی غار میں داخل ہوگئے وہ دو دو کرکے آگے پیچھے چل رہے تھے ٹارچ کی روشنی میں وہ آگے بڑھتے رہے پھر انہیں قریب سے انسانی آواز سنائی دی پھر چلتے چلتے غار ایک طرف کو گھوم گئی اس جگہ راستہ ذرا کشادہ ہو گیا تھا یہاں رُک کر اُنہوں نے آواز دی اور پھر جب آواز آئی تو معلوم ہوا کہ غار کے اندر کا گُمشدہ ساتھی کیپٹن ہیری انہیں مدد کےلئے پکار رہا تھا جو کہ چند دن پیشتر کیمپ سے رات کے وقت پُر اسرار طور پر غائب ہو گیا تھا تھوڑی ہی دیر کے بعد چھ فوجی کیپٹن ہیری کے پاس تھے کیپٹن گھاس پر لیٹا ہوا تھا اس کے پاؤں کے تلوے بری طرح زخمی تھے اور ان سے خون رسنے کی وجہ سے سرخ اور سیاہ دھبے بن گئے تھے قریب ہی کچھ جنگلی پھل اور تازہ جڑی بوٹیاں پڑی تھیں کیپٹن ہیری کو سہارا دے کر بٹھایا گیا اور پھر اس نے اپنے اچانک غائب ہونے سے لیکر اس وقت تک کے حالات بتائے ،کیپٹن ہیری نے بتایا کہ وہ تقریباًآدھی رات کے وقت رفع حاجت کے لئے کیمپ سے نکلا کہ دفعتاً کسی ؂درندے نے اسے پیچھے سے اپنے بازؤوں کی گرفت میں لے کر اس قدر زور سے بھینچا کہ اس کی چیخ دب کر رہ گئی اس کے بعد اسے کوئی ہوش

نہ رہا اور پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو اس غار میں پایا وہ درندہ اس کے قریب ہی بیٹھا تھا اس نے درندے کا جو حُلیہ بتایا وہنہایت ہی پُر اسرار اور دہشت ناک تھا اس بتایا کہ اس درندے کا تمام دھڑ شیر کی مانند ہے جسم پر سیاہ بال ہیں لیکن چہرہ سر کے بال اور چھاتی بالکل عورت کی مانند ہے جب وہ درندہ ریچھ کی طرح اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوکرچلتا ہے تو اس کا قد تقریباً سات فٹ کے قریب ہوتا ہے پھر اس نے بتایا کہ اس کے پاؤں کے تلوے اس درندے نے اپنی کھردری زبان سے چاٹ چاٹ کر اس کی کھال اُدھیڑ دی ہے اور اس

طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا اور پھر اس جانور نے کسی جڑی بوٹی کے پتے زخموں پر رگڑیجس سے خون بہنا بند ہو گیا تھا لیکن وہ اپنے

پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ رہا ،پھر کیپٹن ہیری نے بتایا کہ وہ درندہ ایک مادہ ہے جو ہر رات کئی بار اسے اپنے ساتھ بھینچ کر لیٹتی ہے اور فاحشہ عورتوں کی طرح حرکتیں کرتی ہے اس کے کھانے کے لئے جنگلی پھل اور سیب وغیرہ اپنے ساتھ لاتی ہے جس سے وہ اپنی بھوک اور

پیاس بجھاتا ہے ،کیپٹن ہیری نے مزید بتایا کہ کبھی کبھی رات کو وہ درندہ اسے غار سے باہر لے جاکر بٹھاتا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد واپس غار

میں لے آتا ہے دن کی روشنی اس نے اب تک نہیں دیکھی کیپٹن کے کہنے کے مطابق وہ درندہ اب واپس آنے والا تھا ،اس لئے مزید دیر کئے

۴

بغیر دو آدمیوں نے کیپٹن ہیری کو اُٹھا لیا اور غار کے باہر لے گئے ،دو آدمی درندے کے آنے کے انتظار میں غار کے باہر متعین رہے اور باقی چھ آدمی کیپٹن کو لے کر کیمپ کی طرف روانہ ہو گئے ،سورج غروب ہونے سے قبل مزید آٹھ آدمی ان کے پاس پہنچ گئے اور مختلف جگہ پر پتھروں

میں چھپ کر اس درندے کے آنے کا انتظار کرنے لگے کافی دیر تک درندہ واپس نہ آیا تو اُنہوں نے جھاڑیاں اکٹھی کر کے غار کے منہ کے پاس رکھ کر انہیں آگ لگا دی تاکہ غارمیں دھواں بھر جائے تھوڑی دیر بعد انہیں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں ایک ہی ساتھ کئی گولیاں

چلی تھیں وہ فوراً ہی کیمپ کی طرف روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر اُنہیں معلوم ہوا کہ اس خوفناک درندے نے کسی طرح اپنے شکار کی بو سونگھ لی

تھی اس لئے غار کی طرف جانے کی بجائے کیمپ کی طرف آگیا اور جوشِ انتقام سے اندھا ہو کر اس نے کیمپ پر ہلہ بول دیا لیکن فوجی جوانوں

نے جو بالکل چوکس تھے اسے حملہ کرنے یا واپس بھاگنے کا موقع نہیں دیا یک لخت کئی گولیاں اس کے جسم کے پار ہو گیءں اور وہ فوراً ہی تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا ،اگلی صبح یہ فاتح ٹیم اس درندے کی لاش اور قریب المرگ کیپٹن ہیری کو لے کر روانہ ہوگئی کیپٹن ہیری کو ہسپتال میں داخل کردیا

گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ،اس پُراسرار درندے کی لاش کی نمائش کئی روز تک کوئٹہ میں جاری رہی اور

بے شمار لوگ اسے دیکھنے کے لئے آتے رہیاور پھر ہیڈ کوارٹر سے حکم ملتے ہی اس درندے کی لاش انگلستان بھیج دی گئی ،کوئٹہ میں جہاں کیپٹن

ہیری کو دفنایا گیا وہاں اس کی قبر پر اس خوفناک درندے کا بُت بنادیا گیا تھا مقامی لوگوں میں آج تک اس درندے کا خوف موجود ہے اور وہ

’’مم ‘‘ کے نام سے اس درندے کو یاد کرتے ہیں ،کچھ عرصہ قبل معلوم ہوا تھا کہ کیپٹن ہیری کی قبر پر جو مجسمہ بنایا گیا تھا وہ قبرستان مسمار کئے

جانے کے بعد عمارت تعمیر کرنے والے ایک مزدور کے ہاتھ لگ گیا تھا اور ایک عرصہ تک وہ مجسمہ اس مزدور کے قبضہ میں رہا ،اور قبر کے جس

چبوترے پر وہ مجسمہ بنایا گیا تھا اُس چبوترے کا پتھر کیپٹن ہیری کے نام کے ساتھ ایک عرصہ تک کچہری کی کینٹین کے باہر پڑا دیکھا گیا تھا ۔

E MAIL <<<< kamarshakeel@aol.c

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کوئٹہ کے پہاڑوں کا عجیب الخلقت درندہ ’’ مم ‘‘ تحریر و تحقیق شکیل قمر

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے جنگلوں ،پہاڑوں اور سمندروں میں ہزار ہا قسم کے درندے موجود ہیں جوشکل وصورت ،عادات و اطوار اور خونخواری میں ایک دوسرے سے قطعی مختلف نہیں ،بہت ممکن ہے امریکہ کے گھنے جنگلوں اور دیگر گہرے سمندروں میں ایسےدرندے بھی موجود ہوں جو دریافت شدہ درندوں سے زیادہ خونخوار ہوں مگر ابھی تک انسان کی نظر سےاوجھل ہوں اسی طرح بلوچستان کی تاریخ میں

ایک ایسے عجیب الخلقت درندے کا ذکر ملتا ہے جو اپنی ہیت اور عادات کے لحاظ سے دیگر دریافت شدہ درندوں سے قطعی مختلف ہے ،جنرل پوسٹ آفس کوئٹہ چھاؤنی سے نکل کر نالے کا پل پار کر کے کوئٹہ چھاؤنی کی طرف جائیں تو تقریباً دو فرلانگ کے فاصلے پر سڑک کے داہنی طرف ایک چھوٹی سی چار دیواری کے اندر انگریزوں کا ایک قبرستان موجود تھا مگر اب تمام قبریں مسمار کر کے وہاں رہائشی کالونی بنا دی گئی ہے

اسی قبرستان میں ایک پختہ چبوترے پر ایک ایسے درندے کا سیمنٹ اور دیگر مسالحہ جات سے بنایا ہوا بُت موجود تھا جس تمام جسم اور دُم شیر کیطرح تھا لیکن سر ،چہرہ اور سینہ بالکل عورت کی مانند تھے ،اس عجیب الخلقت درندے کے متعلق بہت سی مختلف روایات مقامی اور غیر مقامی باشندوں میں مشہور تھیں ،پہلے پہل یہی اندازہ تھا کہ کوئٹہ کے قریب پہاڑوں میں ہلاک کیا جانے والا یہ درندہ دنیا کے اور کسی خطہ میں نہیںدیکھا گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا ہی ایک انسان نما درندہ ملایا کے ربڑ کے جنگلات میں اور اس کے بعد کینڈا میں دیکھا گیا لیکن بسیار کوشش کے باوجود نہ تو اسے زندہ پکڑا گیا اور نہ ہی اسے ہلاک کیا جا سکا تھا اور پھر یہ درندے دوبارہ کا فی عرصہ تک نظر نہیں آئے ،جب

برصغیر ہندو پاک پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا تو اٹھارویں صدی کے آخر میں فوج کی کچھ نفری کوئٹہ آئی ،فوج کے ایک حصہ نے اپنا کیمپ وہاں لگایا جہاں موجودہ قلی کیمپ ہے ابتداء میں تمام فوجی خیموں میں رہتے تھے کیونکہ اس علاقے میں چھاؤنی بنانے کے لئے سروے کا کامشروع تھا ،فوج خیموں میں ہی مقیم تھی ،ابتدائی سال میں صرف آٹھ دس ماہ کے اندر اندر مختلف مقامات میں تین انگریز فوجی پُراسرار طور پر

لاپتہ ہو گئے اور کافی تلاش کے بعد ان کے اس طرح غائب ہو جانے کا سراغ نہ مل سکا بالآخر ان فوجیوں کو فوج سے بھگوڑے قرار دیدیا گیاایک خیال یہ بھی تھا کہ تینوں فوجی کسی نہ کسی طرح قبائلی لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہوں گے مگر قبائلی سرداروں سے رابطہ قائم کرنے پر یہ اطمینان کر لیا گیا ،تینوں فوجی رات کو مختلف اوقات میں کیمپ سے غائب ہوئے تھے اس لئے ایک خیال یہ بھی تھا کہ قریبی پہاڑوں سے کوئی

درندہ انہیں اُٹھا کر نہ لے گیا ہو لیکن پہاڑوں میں تلاش کرنے پربھی کوئی ایسا نشان نہ مل سکا ،رات کا پہرہ سخت کر دیا گیا تو رات کو پہاڑوں

کی جانب سے ایک درندہ آتے ہوئے دیکھا گیا جب فوجیوں نے اس پر فائرنگ کی تو وہ بالکل سیدھا کھڑا ہو کر پاؤں کے بل اتنی تیزی سے واپس بھاگا کہ اسے کوئی گولی بھی نہ لگ سکی ،پہرے پر موجود فوجیوں نے بتایا کہ وہ تیز رفتاری سے پہاڑ پر چڑھ گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا اس درندے کی شکل ریچھ کی مانند تھی چند روز بعد پھر ایک ناخوشگوار واقعہ ہیش آیا اس مرتبہ ایک انگریز کیپٹن اپنے کیمپ سے رات کو غائب

ہوگیا تھا ،ایک انگریز کیپٹن کا یوں رات کو غائب ہو جانا تو انگریزوں کے لئے ایک چیلنج تھا،چنانچہ پوری فوج میں سے پچاس آدمیوں کا ایک دستہ منتخب کیا گیا اور پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے یہ پروگرام مرتب کیا گیا کہ دونوں دستے مختلف جانب سے پہاڑ پر چڑھیں گے مناسب خوراک اور پانی کا ذخیرہ بھی ساتھ لے لیا گیا اور پروگرام کے مطابق دونوں دستے مختلف جانب سے پہاڑ پر چڑھنے کے لئے روانہ ہوگئے ،کئی روز تک پہاڑوں میں تلاش کرنے کے بعد ایسا کوئی نشان نہ مل سکا نہ کوئی ایسا جنگلی درندہ دکھائی دیا جس کے بارے میں شک کیا جا سکتا کہ غائب ہونے والے فوجیوں کو ایسا کوئی درندہ اٹھا کر لے گیا ہو گا پہاڑوں کے دامن میں جہاں کہیں مقامی لوگوں کی چھوٹی سی بستی

نظر آئی ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی مگر کوئی ایسی مفید بات معلوم نہ ہوسکی جو گائب ہونے والے فوجیوں کی تلاش میں ممدومعاون ثابت ہو سکتیایک رات جب ایک دستہ پڑاؤ کئے ہوئے تھا تو پہرے داروں نے دور سے ایک کالی سی چیز کو حرکت کرتے دیکھا اُنہوں نے فوراً دستے کے انچارج کو جگایاتھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ وہ ریچھ کی مانند کوئی جانور ہے لیکن وہ اتنی دور تھا کہ گولی چلانے سے اس کے بچ نکلنے کا خدشہ تھا

دستے کے انچارج نے دور بین سے دیکھا تو چاند کی روشنی میں اسے نظر آیا کہ وہ جانور نہیں کوئی عورت تھی جس نے سردی سے بچنے کے لئےکوئی پوستین پہن رکھی تھی اور پھر اچانک تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس پلٹی اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو گئی صبح تک اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا اب مذکورہ دستے کا رُخ اس طرف تھا جس طرف رات کو اس جانور یا عورت کو دیکھا گیا تھا مگر تمام دن تلاش کے باوجود پہاڑ پر کوئی ایسی آبادی نظر نہ آئی اسی اثناء میں دوسرا فوجی دستہ بھی ان سے آملا اور اُنہوں نے ایک پہاڑی کی ڈھلان پر ریچھ سے ملتا جلتا

ایک جانور کھڑا دیکھا جس کا سر اور چہرہ عورت سے مشاہبہ تھا قبل اس کے اس پر گولی چلائی جاتی وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور پھر تلاش کے

باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا اسی رات اس جانور کو تلاش کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا کیونکہ اب یہ بات قرین قیاس تھی کہ فوجیوں کے غائب ہو جانے کا تعلق اسی پُراسرار اور عجیب الخلقت درندے سے ضرور تھا اور یہ اندازہ ہو گیا کہ اس پُراسرار درندے کاٹھکانہیقیناً اسی علاقہ کی حدود میں ہے جہاں وہ دونوں دستوں کو نظر آیا تھا پروگرام کے مطابق چار چار فوجی جوانوں کی ٹولیاں ترتیب دی گئیں جن کاکام پہاڑ میں مختلف غاروں کی اچھی طرح تلاشی لینا تھا صبح ہوتے ہی تمام ٹولیاں مختلف جانب روانہ ہو گیءں ،پہاڑ پر کیمپ میں چار جوانوں کو چھوڑ دیا گیا اور یہ طے پایا کہ جیسے ہی کوئی معلومات فراہم ہوں گی موجودہ کیمپ میں اس کی اطلاع دی جائے ،ایک ٹولی کو ایک پہاڑی غارکے دہانے کے قریب کسی جانور کے پاؤں کے نشان پتھروں کے درمیان پڑی ہوئی مٹی پر دکھائی دیئے ان فوجیوں نے غار کے اندر جھانکا مگر

وہاں گُھپ اندھیرا تھا پھر اُنہوں نے زور زور سے آوازیں دیں تاکہ ان کی آوازوں کا کوئی ردعمل معلوم ہوسکے اچانک انہیں غار کے اندر سے دور سے آتی ہوئی کوئی آواز سنائی دی جیسے کوئی انسان انہیں مدد کے لئے پکار رہا ہو یہ آواز کئی بار سنائی دی مگر آواز دور سے آتی ہوئی معلومہوتی تھی لیکن وہ اندازہ ٹھیک ہی تھا کہ آواز غار کے اندر سے آ رہی تھی غار کے اندر جانا خطرناک بھی ہو سکتا تھا ان فوجیوں نے سگنل دیئے تاکہ دیگر ساتھیوں میں چند اور یہاں آجایں تو غار کے اندر جانے کا پروگرام بایا جا سکے تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد چار جوانوں کی ایک اور ٹولی ان سے آملی اب دو آدمیوں کو غار کے باہر متعین کیا گیا اور باقی چھ آدمی غار میں داخل ہوگئے وہ دو دو کرکے آگے پیچھے چل رہے تھے ٹارچ کی روشنی میں وہ آگے بڑھتے رہے پھر انہیں قریب سے انسانی آواز سنائی دی پھر چلتے چلتے غار ایک طرف کو گھوم گئی اس جگہ راستہ ذرا کشادہ ہو گیا تھا یہاں رُک کر اُنہوں نے آواز دی اور پھر جب آواز آئی تو معلوم ہوا کہ غار کے اندر کا گُمشدہ ساتھی کیپٹن ہیری انہیں مدد کےلئے پکار رہا تھا جو کہ چند دن پیشتر کیمپ سے رات کے وقت پُر اسرار طور پر غائب ہو گیا تھا تھوڑی ہی دیر کے بعد چھ فوجی کیپٹن ہیری کے پاس تھے کیپٹن گھاس پر لیٹا ہوا تھا اس کے پاؤں کے تلوے بری طرح زخمی تھے اور ان سے خون رسنے کی وجہ سے سرخ اور سیاہ دھبے بن گئے تھے قریب ہی کچھ جنگلی پھل اور تازہ جڑی بوٹیاں پڑی تھیں کیپٹن ہیری کو سہارا دے کر بٹھایا گیا اور پھر اس نے اپنے اچانک غائب ہونے سے لیکر اس وقت تک کے حالات بتائے ،کیپٹن ہیری نے بتایا کہ وہ تقریباًآدھی رات کے وقت رفع حاجت کے لئے کیمپ سے نکلا کہ دفعتاً کسی ؂درندے نے اسے پیچھے سے اپنے بازؤوں کی گرفت میں لے کر اس قدر زور سے بھینچا کہ اس کی چیخ دب کر رہ گئی اس کے بعد اسے کوئی ہوش

نہ رہا اور پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو اس غار میں پایا وہ درندہ اس کے قریب ہی بیٹھا تھا اس نے درندے کا جو حُلیہ بتایا وہنہایت ہی پُر اسرار اور دہشت ناک تھا اس بتایا کہ اس درندے کا تمام دھڑ شیر کی مانند ہے جسم پر سیاہ بال ہیں لیکن چہرہ سر کے بال اور چھاتی بالکل عورت کی مانند ہے جب وہ درندہ ریچھ کی طرح اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوکرچلتا ہے تو اس کا قد تقریباً سات فٹ کے قریب ہوتا ہے پھر اس نے بتایا کہ اس کے پاؤں کے تلوے اس درندے نے اپنی کھردری زبان سے چاٹ چاٹ کر اس کی کھال اُدھیڑ دی ہے اور اس

طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا اور پھر اس جانور نے کسی جڑی بوٹی کے پتے زخموں پر رگڑیجس سے خون بہنا بند ہو گیا تھا لیکن وہ اپنے

پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ رہا ،پھر کیپٹن ہیری نے بتایا کہ وہ درندہ ایک مادہ ہے جو ہر رات کئی بار اسے اپنے ساتھ بھینچ کر لیٹتی ہے اور فاحشہ عورتوں کی طرح حرکتیں کرتی ہے اس کے کھانے کے لئے جنگلی پھل اور سیب وغیرہ اپنے ساتھ لاتی ہے جس سے وہ اپنی بھوک اور

پیاس بجھاتا ہے ،کیپٹن ہیری نے مزید بتایا کہ کبھی کبھی رات کو وہ درندہ اسے غار سے باہر لے جاکر بٹھاتا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد واپس غار

میں لے آتا ہے دن کی روشنی اس نے اب تک نہیں دیکھی کیپٹن کے کہنے کے مطابق وہ درندہ اب واپس آنے والا تھا ،اس لئے مزید دیر کئے

۴

بغیر دو آدمیوں نے کیپٹن ہیری کو اُٹھا لیا اور غار کے باہر لے گئے ،دو آدمی درندے کے آنے کے انتظار میں غار کے باہر متعین رہے اور باقی چھ آدمی کیپٹن کو لے کر کیمپ کی طرف روانہ ہو گئے ،سورج غروب ہونے سے قبل مزید آٹھ آدمی ان کے پاس پہنچ گئے اور مختلف جگہ پر پتھروں

میں چھپ کر اس درندے کے آنے کا انتظار کرنے لگے کافی دیر تک درندہ واپس نہ آیا تو اُنہوں نے جھاڑیاں اکٹھی کر کے غار کے منہ کے پاس رکھ کر انہیں آگ لگا دی تاکہ غارمیں دھواں بھر جائے تھوڑی دیر بعد انہیں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں ایک ہی ساتھ کئی گولیاں

چلی تھیں وہ فوراً ہی کیمپ کی طرف روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر اُنہیں معلوم ہوا کہ اس خوفناک درندے نے کسی طرح اپنے شکار کی بو سونگھ لی

تھی اس لئے غار کی طرف جانے کی بجائے کیمپ کی طرف آگیا اور جوشِ انتقام سے اندھا ہو کر اس نے کیمپ پر ہلہ بول دیا لیکن فوجی جوانوں

نے جو بالکل چوکس تھے اسے حملہ کرنے یا واپس بھاگنے کا موقع نہیں دیا یک لخت کئی گولیاں اس کے جسم کے پار ہو گیءں اور وہ فوراً ہی تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا ،اگلی صبح یہ فاتح ٹیم اس درندے کی لاش اور قریب المرگ کیپٹن ہیری کو لے کر روانہ ہوگئی کیپٹن ہیری کو ہسپتال میں داخل کردیا

گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ،اس پُراسرار درندے کی لاش کی نمائش کئی روز تک کوئٹہ میں جاری رہی اور

بے شمار لوگ اسے دیکھنے کے لئے آتے رہیاور پھر ہیڈ کوارٹر سے حکم ملتے ہی اس درندے کی لاش انگلستان بھیج دی گئی ،کوئٹہ میں جہاں کیپٹن

ہیری کو دفنایا گیا وہاں اس کی قبر پر اس خوفناک درندے کا بُت بنادیا گیا تھا مقامی لوگوں میں آج تک اس درندے کا خوف موجود ہے اور وہ

’’مم ‘‘ کے نام سے اس درندے کو یاد کرتے ہیں ،کچھ عرصہ قبل معلوم ہوا تھا کہ کیپٹن ہیری کی قبر پر جو مجسمہ بنایا گیا تھا وہ قبرستان مسمار کئے

جانے کے بعد عمارت تعمیر کرنے والے ایک مزدور کے ہاتھ لگ گیا تھا اور ایک عرصہ تک وہ مجسمہ اس مزدور کے قبضہ میں رہا ،اور قبر کے جس

چبوترے پر وہ مجسمہ بنایا گیا تھا اُس چبوترے کا پتھر کیپٹن ہیری کے نام کے ساتھ ایک عرصہ تک کچہری کی کینٹین کے باہر پڑا دیکھا گیا تھا ۔

E MAIL <<<< kamarshakeel@aol.c

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

کوئٹہ کے پہاڑوں کا عجیب الخلقت درندہ ’’ مم ‘‘ تحریر و تحقیق شکیل قمر

یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے جنگلوں ،پہاڑوں اور سمندروں میں ہزار ہا قسم کے درندے موجود ہیں جوشکل وصورت ،عادات و اطوار اور خونخواری میں ایک دوسرے سے قطعی مختلف نہیں ،بہت ممکن ہے امریکہ کے گھنے جنگلوں اور دیگر گہرے سمندروں میں ایسےدرندے بھی موجود ہوں جو دریافت شدہ درندوں سے زیادہ خونخوار ہوں مگر ابھی تک انسان کی نظر سےاوجھل ہوں اسی طرح بلوچستان کی تاریخ میں

ایک ایسے عجیب الخلقت درندے کا ذکر ملتا ہے جو اپنی ہیت اور عادات کے لحاظ سے دیگر دریافت شدہ درندوں سے قطعی مختلف ہے ،جنرل پوسٹ آفس کوئٹہ چھاؤنی سے نکل کر نالے کا پل پار کر کے کوئٹہ چھاؤنی کی طرف جائیں تو تقریباً دو فرلانگ کے فاصلے پر سڑک کے داہنی طرف ایک چھوٹی سی چار دیواری کے اندر انگریزوں کا ایک قبرستان موجود تھا مگر اب تمام قبریں مسمار کر کے وہاں رہائشی کالونی بنا دی گئی ہے

اسی قبرستان میں ایک پختہ چبوترے پر ایک ایسے درندے کا سیمنٹ اور دیگر مسالحہ جات سے بنایا ہوا بُت موجود تھا جس تمام جسم اور دُم شیر کیطرح تھا لیکن سر ،چہرہ اور سینہ بالکل عورت کی مانند تھے ،اس عجیب الخلقت درندے کے متعلق بہت سی مختلف روایات مقامی اور غیر مقامی باشندوں میں مشہور تھیں ،پہلے پہل یہی اندازہ تھا کہ کوئٹہ کے قریب پہاڑوں میں ہلاک کیا جانے والا یہ درندہ دنیا کے اور کسی خطہ میں نہیںدیکھا گیا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا ہی ایک انسان نما درندہ ملایا کے ربڑ کے جنگلات میں اور اس کے بعد کینڈا میں دیکھا گیا لیکن بسیار کوشش کے باوجود نہ تو اسے زندہ پکڑا گیا اور نہ ہی اسے ہلاک کیا جا سکا تھا اور پھر یہ درندے دوبارہ کا فی عرصہ تک نظر نہیں آئے ،جب

برصغیر ہندو پاک پر انگریزوں کا قبضہ مکمل ہو گیا تو اٹھارویں صدی کے آخر میں فوج کی کچھ نفری کوئٹہ آئی ،فوج کے ایک حصہ نے اپنا کیمپ وہاں لگایا جہاں موجودہ قلی کیمپ ہے ابتداء میں تمام فوجی خیموں میں رہتے تھے کیونکہ اس علاقے میں چھاؤنی بنانے کے لئے سروے کا کامشروع تھا ،فوج خیموں میں ہی مقیم تھی ،ابتدائی سال میں صرف آٹھ دس ماہ کے اندر اندر مختلف مقامات میں تین انگریز فوجی پُراسرار طور پر

لاپتہ ہو گئے اور کافی تلاش کے بعد ان کے اس طرح غائب ہو جانے کا سراغ نہ مل سکا بالآخر ان فوجیوں کو فوج سے بھگوڑے قرار دیدیا گیاایک خیال یہ بھی تھا کہ تینوں فوجی کسی نہ کسی طرح قبائلی لوگوں کے ہتھے چڑھ گئے ہوں گے مگر قبائلی سرداروں سے رابطہ قائم کرنے پر یہ اطمینان کر لیا گیا ،تینوں فوجی رات کو مختلف اوقات میں کیمپ سے غائب ہوئے تھے اس لئے ایک خیال یہ بھی تھا کہ قریبی پہاڑوں سے کوئی

درندہ انہیں اُٹھا کر نہ لے گیا ہو لیکن پہاڑوں میں تلاش کرنے پربھی کوئی ایسا نشان نہ مل سکا ،رات کا پہرہ سخت کر دیا گیا تو رات کو پہاڑوں

کی جانب سے ایک درندہ آتے ہوئے دیکھا گیا جب فوجیوں نے اس پر فائرنگ کی تو وہ بالکل سیدھا کھڑا ہو کر پاؤں کے بل اتنی تیزی سے واپس بھاگا کہ اسے کوئی گولی بھی نہ لگ سکی ،پہرے پر موجود فوجیوں نے بتایا کہ وہ تیز رفتاری سے پہاڑ پر چڑھ گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا اس درندے کی شکل ریچھ کی مانند تھی چند روز بعد پھر ایک ناخوشگوار واقعہ ہیش آیا اس مرتبہ ایک انگریز کیپٹن اپنے کیمپ سے رات کو غائب

ہوگیا تھا ،ایک انگریز کیپٹن کا یوں رات کو غائب ہو جانا تو انگریزوں کے لئے ایک چیلنج تھا،چنانچہ پوری فوج میں سے پچاس آدمیوں کا ایک دستہ منتخب کیا گیا اور پھر اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے یہ پروگرام مرتب کیا گیا کہ دونوں دستے مختلف جانب سے پہاڑ پر چڑھیں گے مناسب خوراک اور پانی کا ذخیرہ بھی ساتھ لے لیا گیا اور پروگرام کے مطابق دونوں دستے مختلف جانب سے پہاڑ پر چڑھنے کے لئے روانہ ہوگئے ،کئی روز تک پہاڑوں میں تلاش کرنے کے بعد ایسا کوئی نشان نہ مل سکا نہ کوئی ایسا جنگلی درندہ دکھائی دیا جس کے بارے میں شک کیا جا سکتا کہ غائب ہونے والے فوجیوں کو ایسا کوئی درندہ اٹھا کر لے گیا ہو گا پہاڑوں کے دامن میں جہاں کہیں مقامی لوگوں کی چھوٹی سی بستی

نظر آئی ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی مگر کوئی ایسی مفید بات معلوم نہ ہوسکی جو گائب ہونے والے فوجیوں کی تلاش میں ممدومعاون ثابت ہو سکتیایک رات جب ایک دستہ پڑاؤ کئے ہوئے تھا تو پہرے داروں نے دور سے ایک کالی سی چیز کو حرکت کرتے دیکھا اُنہوں نے فوراً دستے کے انچارج کو جگایاتھوڑی دیر بعد معلوم ہوا کہ وہ ریچھ کی مانند کوئی جانور ہے لیکن وہ اتنی دور تھا کہ گولی چلانے سے اس کے بچ نکلنے کا خدشہ تھا

دستے کے انچارج نے دور بین سے دیکھا تو چاند کی روشنی میں اسے نظر آیا کہ وہ جانور نہیں کوئی عورت تھی جس نے سردی سے بچنے کے لئےکوئی پوستین پہن رکھی تھی اور پھر اچانک تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس پلٹی اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہو گئی صبح تک اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا اب مذکورہ دستے کا رُخ اس طرف تھا جس طرف رات کو اس جانور یا عورت کو دیکھا گیا تھا مگر تمام دن تلاش کے باوجود پہاڑ پر کوئی ایسی آبادی نظر نہ آئی اسی اثناء میں دوسرا فوجی دستہ بھی ان سے آملا اور اُنہوں نے ایک پہاڑی کی ڈھلان پر ریچھ سے ملتا جلتا

ایک جانور کھڑا دیکھا جس کا سر اور چہرہ عورت سے مشاہبہ تھا قبل اس کے اس پر گولی چلائی جاتی وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور پھر تلاش کے

باوجود اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا اسی رات اس جانور کو تلاش کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا کیونکہ اب یہ بات قرین قیاس تھی کہ فوجیوں کے غائب ہو جانے کا تعلق اسی پُراسرار اور عجیب الخلقت درندے سے ضرور تھا اور یہ اندازہ ہو گیا کہ اس پُراسرار درندے کاٹھکانہیقیناً اسی علاقہ کی حدود میں ہے جہاں وہ دونوں دستوں کو نظر آیا تھا پروگرام کے مطابق چار چار فوجی جوانوں کی ٹولیاں ترتیب دی گئیں جن کاکام پہاڑ میں مختلف غاروں کی اچھی طرح تلاشی لینا تھا صبح ہوتے ہی تمام ٹولیاں مختلف جانب روانہ ہو گیءں ،پہاڑ پر کیمپ میں چار جوانوں کو چھوڑ دیا گیا اور یہ طے پایا کہ جیسے ہی کوئی معلومات فراہم ہوں گی موجودہ کیمپ میں اس کی اطلاع دی جائے ،ایک ٹولی کو ایک پہاڑی غارکے دہانے کے قریب کسی جانور کے پاؤں کے نشان پتھروں کے درمیان پڑی ہوئی مٹی پر دکھائی دیئے ان فوجیوں نے غار کے اندر جھانکا مگر

وہاں گُھپ اندھیرا تھا پھر اُنہوں نے زور زور سے آوازیں دیں تاکہ ان کی آوازوں کا کوئی ردعمل معلوم ہوسکے اچانک انہیں غار کے اندر سے دور سے آتی ہوئی کوئی آواز سنائی دی جیسے کوئی انسان انہیں مدد کے لئے پکار رہا ہو یہ آواز کئی بار سنائی دی مگر آواز دور سے آتی ہوئی معلومہوتی تھی لیکن وہ اندازہ ٹھیک ہی تھا کہ آواز غار کے اندر سے آ رہی تھی غار کے اندر جانا خطرناک بھی ہو سکتا تھا ان فوجیوں نے سگنل دیئے تاکہ دیگر ساتھیوں میں چند اور یہاں آجایں تو غار کے اندر جانے کا پروگرام بایا جا سکے تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد چار جوانوں کی ایک اور ٹولی ان سے آملی اب دو آدمیوں کو غار کے باہر متعین کیا گیا اور باقی چھ آدمی غار میں داخل ہوگئے وہ دو دو کرکے آگے پیچھے چل رہے تھے ٹارچ کی روشنی میں وہ آگے بڑھتے رہے پھر انہیں قریب سے انسانی آواز سنائی دی پھر چلتے چلتے غار ایک طرف کو گھوم گئی اس جگہ راستہ ذرا کشادہ ہو گیا تھا یہاں رُک کر اُنہوں نے آواز دی اور پھر جب آواز آئی تو معلوم ہوا کہ غار کے اندر کا گُمشدہ ساتھی کیپٹن ہیری انہیں مدد کےلئے پکار رہا تھا جو کہ چند دن پیشتر کیمپ سے رات کے وقت پُر اسرار طور پر غائب ہو گیا تھا تھوڑی ہی دیر کے بعد چھ فوجی کیپٹن ہیری کے پاس تھے کیپٹن گھاس پر لیٹا ہوا تھا اس کے پاؤں کے تلوے بری طرح زخمی تھے اور ان سے خون رسنے کی وجہ سے سرخ اور سیاہ دھبے بن گئے تھے قریب ہی کچھ جنگلی پھل اور تازہ جڑی بوٹیاں پڑی تھیں کیپٹن ہیری کو سہارا دے کر بٹھایا گیا اور پھر اس نے اپنے اچانک غائب ہونے سے لیکر اس وقت تک کے حالات بتائے ،کیپٹن ہیری نے بتایا کہ وہ تقریباًآدھی رات کے وقت رفع حاجت کے لئے کیمپ سے نکلا کہ دفعتاً کسی ؂درندے نے اسے پیچھے سے اپنے بازؤوں کی گرفت میں لے کر اس قدر زور سے بھینچا کہ اس کی چیخ دب کر رہ گئی اس کے بعد اسے کوئی ہوش

نہ رہا اور پھر جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو اس غار میں پایا وہ درندہ اس کے قریب ہی بیٹھا تھا اس نے درندے کا جو حُلیہ بتایا وہنہایت ہی پُر اسرار اور دہشت ناک تھا اس بتایا کہ اس درندے کا تمام دھڑ شیر کی مانند ہے جسم پر سیاہ بال ہیں لیکن چہرہ سر کے بال اور چھاتی بالکل عورت کی مانند ہے جب وہ درندہ ریچھ کی طرح اپنے پچھلے پیروں پر کھڑا ہوکرچلتا ہے تو اس کا قد تقریباً سات فٹ کے قریب ہوتا ہے پھر اس نے بتایا کہ اس کے پاؤں کے تلوے اس درندے نے اپنی کھردری زبان سے چاٹ چاٹ کر اس کی کھال اُدھیڑ دی ہے اور اس

طرح وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگیا اور پھر اس جانور نے کسی جڑی بوٹی کے پتے زخموں پر رگڑیجس سے خون بہنا بند ہو گیا تھا لیکن وہ اپنے

پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہ رہا ،پھر کیپٹن ہیری نے بتایا کہ وہ درندہ ایک مادہ ہے جو ہر رات کئی بار اسے اپنے ساتھ بھینچ کر لیٹتی ہے اور فاحشہ عورتوں کی طرح حرکتیں کرتی ہے اس کے کھانے کے لئے جنگلی پھل اور سیب وغیرہ اپنے ساتھ لاتی ہے جس سے وہ اپنی بھوک اور

پیاس بجھاتا ہے ،کیپٹن ہیری نے مزید بتایا کہ کبھی کبھی رات کو وہ درندہ اسے غار سے باہر لے جاکر بٹھاتا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد واپس غار

میں لے آتا ہے دن کی روشنی اس نے اب تک نہیں دیکھی کیپٹن کے کہنے کے مطابق وہ درندہ اب واپس آنے والا تھا ،اس لئے مزید دیر کئے

۴

بغیر دو آدمیوں نے کیپٹن ہیری کو اُٹھا لیا اور غار کے باہر لے گئے ،دو آدمی درندے کے آنے کے انتظار میں غار کے باہر متعین رہے اور باقی چھ آدمی کیپٹن کو لے کر کیمپ کی طرف روانہ ہو گئے ،سورج غروب ہونے سے قبل مزید آٹھ آدمی ان کے پاس پہنچ گئے اور مختلف جگہ پر پتھروں

میں چھپ کر اس درندے کے آنے کا انتظار کرنے لگے کافی دیر تک درندہ واپس نہ آیا تو اُنہوں نے جھاڑیاں اکٹھی کر کے غار کے منہ کے پاس رکھ کر انہیں آگ لگا دی تاکہ غارمیں دھواں بھر جائے تھوڑی دیر بعد انہیں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں ایک ہی ساتھ کئی گولیاں

چلی تھیں وہ فوراً ہی کیمپ کی طرف روانہ ہوگئے اور وہاں پہنچ کر اُنہیں معلوم ہوا کہ اس خوفناک درندے نے کسی طرح اپنے شکار کی بو سونگھ لی

تھی اس لئے غار کی طرف جانے کی بجائے کیمپ کی طرف آگیا اور جوشِ انتقام سے اندھا ہو کر اس نے کیمپ پر ہلہ بول دیا لیکن فوجی جوانوں

نے جو بالکل چوکس تھے اسے حملہ کرنے یا واپس بھاگنے کا موقع نہیں دیا یک لخت کئی گولیاں اس کے جسم کے پار ہو گیءں اور وہ فوراً ہی تڑپ کر ٹھنڈا ہو گیا ،اگلی صبح یہ فاتح ٹیم اس درندے کی لاش اور قریب المرگ کیپٹن ہیری کو لے کر روانہ ہوگئی کیپٹن ہیری کو ہسپتال میں داخل کردیا

گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ،اس پُراسرار درندے کی لاش کی نمائش کئی روز تک کوئٹہ میں جاری رہی اور

بے شمار لوگ اسے دیکھنے کے لئے آتے رہیاور پھر ہیڈ کوارٹر سے حکم ملتے ہی اس درندے کی لاش انگلستان بھیج دی گئی ،کوئٹہ میں جہاں کیپٹن

ہیری کو دفنایا گیا وہاں اس کی قبر پر اس خوفناک درندے کا بُت بنادیا گیا تھا مقامی لوگوں میں آج تک اس درندے کا خوف موجود ہے اور وہ

’’مم ‘‘ کے نام سے اس درندے کو یاد کرتے ہیں ،کچھ عرصہ قبل معلوم ہوا تھا کہ کیپٹن ہیری کی قبر پر جو مجسمہ بنایا گیا تھا وہ قبرستان مسمار کئے

جانے کے بعد عمارت تعمیر کرنے والے ایک مزدور کے ہاتھ لگ گیا تھا اور ایک عرصہ تک وہ مجسمہ اس مزدور کے قبضہ میں رہا ،اور قبر کے جس

چبوترے پر وہ مجسمہ بنایا گیا تھا اُس چبوترے کا پتھر کیپٹن ہیری کے نام کے ساتھ ایک عرصہ تک کچہری کی کینٹین کے باہر پڑا دیکھا گیا تھا ۔

E MAIL <<<< kamarshakeel@aol.c

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *