28th February 2021

K2 TV MANCHESTER

WE ARE WITH YOU EVERYDAY EVERYWHERE

ہم متحد کیوں نہیں ہوتے؟ (شکیل قمر مانچسٹر )

1 min read

ہم متحد کیوں نہیں ہوتے؟ (شکیل قمر مانچسٹر ) مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے زیادہ تر لوگوں نے یہ واقع متعدد بار سنا ہو گاکہ ایک لکڑہارے کے چار بیٹے تھے ایک دن اُس لکڑ ہارے نے سب کو اکٹھا کیا اور اُنہیں ایک ایک لکڑی دے کر اُسے توڑنے کے لئے کہا سب نے باری باری اپنی لکڑی کے دو ٹکڑے کر دیئے ،پھر لکڑ ہارے نے ویسی ہی چار لکڑیاں لے کر اُنہیں اکٹھاکر کے باندھ دیا اور باری باری تمام بیٹوں کو لکڑیوں کے اُس گٹھے کو توڑنے کے لئے کہا مگر اُن چاروں میں سے کوئی بھی اُس گٹھے کو نہ توڑ سکا اس طرح اُس لکڑہارے نے اپنے بیٹوں کو اکٹھے رہنے کی افادیت اور اتحاد کی برکت کا سبق دیا اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ برطانیہ میں بسنے والے پاکستانیوں کی کمیونٹی انتہائی انتشار کا شکار ہے اور اُن کا اتحادپارہ پارہ دکھائی دیتا ہے بیشک اس مسئلے کے بہت سے مختلف اسباب ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی انتہائی افتراق کا شکار ہے مگر ان اسباب پر غور وفکر کرنا وقت کی انتہائی اہم ترین ضرورت ہے ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک ہی ملک کے رہنے والے اور پچانوے فی صد ایک ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے جب اس ملک میں آ کے بس گئے تو اُن کو آپس میں اتحاد اور یگانگت سے رہناچاہیے تھا اُن کے درمیان گروہ بندی اور تفرقہ بازی نہیں ہونی چاہیے تھی مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی اس ملک میں مختلف گروہوں اور تفرقوں میں بٹی ہوئی ہے اس کمیونٹی میں کسی بھی مقام پر اتحاد اور اتفاق دکھائی نہیں دیتا ایسا کیوں ہے اس بات پر غور وفکر کرنا کس کی ذمہ داری ہے ؟اس مسئلے کے اسباب اور وجوہات کیا ہیں ؟کیا کبھی کسی نے اس کمیونٹی میں اتحاد اور اتفاق پیدا کرنے کی کو شش کی ہے؟ یہ کمیونٹی تقریباًبارہ لاکھ نفوس پر مشتعمل ہے اور برطانیہ کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی ہے ایک ملک سے تعلق ہونے اور ایک ہی ثقافتی ورثہ میں بندھے ہونے کی وجہ سے اس کمیونٹی کو تو انتہائی مضبوط اور متحد ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے برطانیہ میں آباد پاکستانیوں کو یہاں ہر قسم کے حقوق حاصل ہیں اُنہیں تمام شہری آزادیاں حاصل ہیں مذہبی طور پر اُن پر کوئی قدغن بھی نہیں ہے اور وہ ہر طرح سے اپنے تہوار منانے کے لئے بھی آزاد ہیں اُن کی معاشی حالت بھی اُن کے اپنے ملک سے بہتر ہے مگر ان سب باتوں کے باوجود پاکستانی کمیونٹی کا اتحاد پارہ پارہ دکھائی دیتا ہے مذہبی تفرقہ بازی اپنی انتہاہ کو پہنچ چکی ہے ایک گروہ تو ہے ہی غیر مسلم مگر وہ مسلمان کہلوانے کے لئے بضدہیں اِدھر شیعہ اور سُنی کی فرقہ بندی ہے تو اُدھر اہلِ حدیث ،دیوبندی اور بریلوی فرقے آپس میں برسرِپیکار ہیں کشمیری اور پاکستانی اگرچہ ہیں سبھی پاکستانی مگر اُن میں بھی گروپ دکھائی دیتے ہیں مقامی سیاست میں حصہ لینے کی وجہ سے لیبر ، ٹوری اور لب ڈیم کی گروہ بندی بھی پاکستانی کمیونٹی میں دکھائی دیتی ہے پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے گروہ بھی یہاں انتہائی سرگرم ہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام دھڑے ، مسلم لیگیوں کے تمام دھڑے اور دوسری علاقائی سیاسی پارٹیوں کے مختلف گروہ بھی سرگرمِ عمل دکھائی دیتے ہیں کچھ علاقوں میں تو صوبائی اور لسانی بنیادوں پر بھی گروہ بندیاں موجود ہیں ان سب سے بڑھ کر پاکستانی کمیونٹی میں ذات برادریوں کے نام پر بھی گروہ موجود ہیں کہیں آرائیں برادری ہے تو کہیں گُجراور جاٹ برادری ،کہیں شیخ برادری ہے تو کہیں ملک اور چوہدری گروہ ہیں غرض یہ کہ مذہب سے لیکر سیاست اور علاقے سے لیکر لسانیت تک کی بنیاد پر پاکستانیوں میں گروہ بندیاں موجود ہیں کیا خوب کہا تھا حضرت علامہ اقبالؒ نے ع۔۔ایک ہی سب کا نبی دین بھی قرآن بھی ایک کیا بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک انفرادی طور پر ان گروہوں کا جائزہ لیا جائے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپس کی ان گروہ بندیوں میں کس قدر شدید اختلافات موجود ہیں ،آپس میں مل بیٹھنے کا دور دور تک کوئی موقع دکھائی نہیں دیتا مجموعی طور پر یوں سمجھ لیجیے کہ بارہ لاکھ نفوس پر مشتعمل کمیونٹی کا کوئی مرکز نہیں ہے ،کوئی اتحاد نہیں ہے ، اپنے حقوق کے لئے آواز اُٹھانے کا کوئی نظام نہیں ہے کوئی رہنما اور رہبر نہیں ہے ۔اگرچہ اس ملک میں شہری آزادیوں کاکوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے پھر بھی دیگرمتعدد مسائل ایسے ہیں جن کے لئے متحد ہو کر بیک آواز اپنی بات اعلیٰ حکام تک پہنچانا بہت ضروری ہوتا ہے اسی طرح برطانیہ میں رہنے والے پاکستانی تارکینِ وطن کے بہت زیادہ مسائل ایسے ہیں جن کو حل کروانے کے لئے حکومتِ پاکستان سے معاملات اُٹھانے کی ضرورت ہے مگر کیونکہ کوئی متحدہ پلیٹ فارم نہیں ہے ،کوئی لیڈر نہیں ہے ،آپس میں کوئی اتحاد نہیں ہے ،پوری کمیونٹی انتشار کا شکار ہے اس انتشار اور اتحاد کے فقدان کی وجہ سے کمیونٹی کا شیرازہ بکھرا ہواہے اسی لئے اس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل دکھائی نہیں دیتا ظاہر ہے کہ جس کمیونٹی میں اتحاد نہیں ہے اُس کی طاقت گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے اس کمیونٹی کو متحد ہونے کے لئے کسی رہبر اور رہنما کی ضرورت ہے جیسا کہ میںَ نے شروع میں لکڑہارے کی مثال سے واضح کیا ہے کہ اس کمیونٹی کو اپنی طاقت مجتمع کرنے کیلئے کسی لکڑہارے کی ضرورت ہے جو اِنہیں سمجھا سکے کہ متحد ہو کر اپنے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کرنے میں ہی فائدہ ہے اور اتحاد کے بغیر مجموعی طاقت منتشر رہے گی اور اتحاد سے طاقت مجتمع ہو گی ۔ (شکیل قمر مانچسٹر) ؑ E;MAIL>>>>>kamarshakeel@aol.co.uk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.