29th October 2020

ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے؟ ٹن ٹنا ٹن ٹن ٹنا ٹن ؟

ہم کیا تھے اور کیا ہو گئے؟ ٹن ٹنا ٹن ٹن ٹنا ٹن ؟

اردو کے بلند پایہ شاعر حضرت اطہر ہاپوری نے ایک نعت لکھ کر احمد رضا بریلوی کی خدمت میں بھیجی جس کا مطلع یہ تھا

کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے

مجنوں کھڑے ہیں خیمہءلیلیٰ کے سامنے

احمد رضا بریلوی نے یہ شعر سن کرسخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ دوسرا مصرعہ مقامِ نبوت کے لائق نہیں ہے۔ آپ نے قلم برداشتہ اصلاح فرمائی ہے

کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے

قدسی کھڑے ہیں عرش معلّٰی کے سامنے

اعلیٰ حضرت کی اس اصلاح سے اطہر ہا پوڑی کی مضمون آفرینی اور رفعتِ تخیل کو چار چاند لگ گئے۔

اردو نعت گوئی کی اگر کوئی فہرست مرتب کی جائے تو احمد رضا خاں کا نام سر فہرست نظر آئے گا ۔ اگرتعصب کی عینک اتار کر ان کی شخصیت کا تعلق ایک خاص مسلک سے جوڑے بغیر پڑھا جائے تو یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ برصغیر پاک وہند کی مساجد میں منبر رسول پر اگر رومی جامی و سعدی کے علاوہ کسی کو سب سے زیاد ہ پڑھا گیا تو وہ یقینااحمد رضا خان بریلوی ہے آپ کا لکھا ہوا کلام ”مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام“ کو جو پذیرائی ملی وہ کسی نعت گو کے کلام کا نصیب نہ بن سکی ۔

آج اسی مسلک کے ماننے والے اگر ”ٹن ٹنا ٹن ٹن “ جیسی نعتیں پیش کرتے ہیں تو دل خون کو آنسو روتا ہے کہ کیایہ احمد رضا بریلوی کے ہی مشرب علم کے وارث ہیں ۔ کیا اس مسلک میں کوئی صاحب علم موجود نہیں رہا جو ان شاعروں ان تاجروں کا منہ بند کرا سکے ؟؟

حقیقت یہ ہے کہ جب مذہب میں کمرشلزم اور تجارت شامل ہوتی ہے تو حقیقت دولت کی چکا چوند کے پیچھے چھپ کر نوحہ کناں ہو جاتی ہے

احمد رضا خاں بریلوی نے نعت کی جو تعریف کی ہے وہ اہل علم و دانش کے لئے مشعل راہ ہے

”حقیقتاً نعت شریف کہنا بڑا مشکل کام ہے جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ہے اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں صاف راستہ ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض حمد میں اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب حد بندی ہے۔“

تحریر محمو داصغر چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *