29th October 2020

یورپ میں سیاسی پناہ کے خواہشمندوں کے لئے قانون میں بہتر تبدیلی متوقع ہے ۔یورپ میں پناہ گزینوں کے بارے جو معاہدہ رائج ہے

یورپ میں سیاسی پناہ کے خواہشمندوں کے لئے قانون میں بہتر تبدیلی متوقع ہے ۔یورپ میں پناہ گزینوں کے بارے جو معاہدہ رائج ہے اسے ڈبلن ایگرمنٹ کہا جاتا ہے ۔ اس معاہدہ کو جو بنیادی شرط جو پناہ گزینوں کو پریشان کرتی تھی وہ یہ تھی کہ ایک امیگرنٹ جس ملک میں سب سے پہلے داخل ہوتا تھا صرف اسی میں پناہ کی درخواست دے سکتا تھا اور یورپ کے کسی دوسرے ملک میں جا کر رہائش اختیار نہیں کر سکتا تھا ۔ لیکن یورپین کمیشن نے اسی مہینے ایک اہم قانونی مسودہ منظو رکیا ہے جس کے تحت سیاسی پناہ گزینوں کے ڈبلن ایگرمنٹ میں چند اہم تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے ۔نئے قانونی مسودے کے تحت یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہوگا کہ اگر ان ممالک میں کسی پناہ گزین کو بھیجا جاتا ہے تو وہ انہیں قبول کریں گے ۔اور اس اصول کو ختم کیا جائے گا کہ کوئی پناہ گزین سب سے پہلے جس ملک میں داخل ہوتا ہے اسے صرف وہیں پناہ کی درخواست دینا ہوگی ۔
یہ تمام تجاویز سٹراسبرگ میں پیش کی جائےں گی اور اوران کو ابھی ہر یورپی حکومت کی طرف سے منظور ہونا باقی ہے تااہم یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے ۔یہ نیاقانونی مسودہ 16کے مقابلے میں 43ووٹوں کی اکثریت سے پاس ہوا ہے ۔ اس مسودہ کے حق میں بات کرتے ہوئے سویڈش ممبر یورپی یونین کا کہنا تھا کہ ”سیاسی پناہ کا نظام یورپی یونین کی مستقبل کی معاشی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور ہمارا مقصد ہے کہ یورپ کا سیاسی پناہ کا نظم باہمی یکجہتی پر منحصر ہو ۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس سیاسی پناہ کے نظام میں کمزوریوں کو ختم کیا جائے اور مستقبل کے لئے ایک ٹھوس قانون لایا جائے
اس مسودہ کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جس پہلے یورپی ملک میں غیر ملکی داخل ہوتے ہیں صرف اسی پر یہ بوجھ نہ ڈالا جائے کہ وہ انہیں پناہ دے بلکہ پناہ گزین کے دوسرے مسائل کو بھی دیکھا جائے جیسا کہ بعض پناہ گزینوں کی فیملی یا رشتہ داریورپ کے دیگر ممالک میں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں موقع ملنا چاہیے کہ وہ ان ممالک میں جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دے سکیں ۔ البتہ جن سائلین کا ایسا معاملہ نہیں ان کے بارے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ انہیں کسی دیگر ملک میں بھیجا جا سکے گا
ماہرین کا خیال ہے کہ بہت سی مشرقی یورپ کی حکومتیں اس قانون کو منظوری میں رکاوٹ ڈال سکتیہے بلکہ اسے روکنے کے لئے ویٹو کرنے کا حق بھی استعمال کر سکتی ہیں ۔ ۔ایک یورپی پاریلمینٹرین ”ایلی “ کا کہنا ہے کہ یہ مسودہ بہت آئیڈیل ہے اس کی تیاری میں ہم نے 21سے زیادہ میٹنگز کی ہیں اور یورپ کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کو راضی کیا ہے لیکن اب امید کرتے ہیں کہ یورپی پارلیمنٹ اس کو پاس کرنے میںدیر نہیں لگائے گی

تحریر محمود اصغر چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *