یہ سب دھواں ہے ، کوئی آسمان تھوڑی ہے

اگر خلاف ہیں ، ہونے دو ، جان تھوڑی ہے
یہ سب دھواں ہے ، کوئی آسمان تھوڑی ہے
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن
ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے
ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے
ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں ، ذاتی مکان تھوڑی ہے

snapshot_23

867total visits,2visits today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *