28th October 2020

Month: September 2017

اس وقت گوگل کے چیف ایکزیکٹیو “سندرراجن پچائی” ہیں ۔ جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان کی سالانہ تنخواہ پاکستانی روپے میں 2 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے ملازم بھی ہیں ۔ آئیے ان کے بارے میں دوستوں کو کچھ معلومات فراہم کرتے ہیں۔کہ ایک دو کمروں کے گھر میں چٹائی پر بیٹھ کر پڑھنے والا شخص کس طرح گوگل کا سی ای او بنا ۔سندر پچائی تامل ناڈو کے شہر مدورائی کا رہنے والا تھا جو کہ 12 جولائی 1972 کا پیدا ہوا۔اس نے غربت میں آنکھ کھولی‘ والد رگوناتھ پچائی الیکٹریکل انجینئر تھا لیکن خاندان کی آمدنی بہت محدود تھی‘ گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا‘ اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا‘ وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا‘ وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو وہ سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا‘ ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا‘ گلی کے نلکے سے پانی بھرنا‘ تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے‘ یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ بارہ سال کا تھا جب ان کے گھر ٹیلی فون لگا‘ اس فون نے اس کا کام بڑھا دیا‘ وہ فلیٹس کے اس پورے بلاک کا پیغام بر بن گیا‘ لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کےلئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کےلئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا‘ وہ جوانی تک ٹیلی ویژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا‘ اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او تھا بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم بھی تھا‘ اس کی سالانہ تنخواہ 20 کروڑ ڈالر طے ہو چکی تھی۔بچپن میں وہ سال سال بھر دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کےلئے ترستا رہتا تھا‘ وہ بچپن‘ بچپن نہیں تھا‘ وہ محرومی کی ایک سیاہ داستان تھی‘ پچائی کو آج بھی یاد تھا جب سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی نے اسے ہوائی ٹکٹ بھجوایا تو اس کا والد ٹکٹ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ ٹکٹ اس کے والد کی سالانہ آمدنی سے بھی مہنگا تھا‘ اسے آج تک یہ بھی یاد تھا وہ کورس کی کتابیں مانگ کر پڑھتا تھا اور اپنی اسائنمنٹس ردی کے کاغذوں پر مکمل کرتا تھا‘ وہ بسوں کے ساتھ لٹک کر سفر کرتا تھا اور اسے صرف مذہبی تہواروں پر مٹھائی نصیب ہوتی تھی‘اس نے گھسٹ گھسٹ کر چنائے سے بارہویں جماعت پاس کی‘ وہ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی خراگپور چلا گیا‘ اس نے وہاں ٹیوشنز پڑھا پڑھا کر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی‘ اس نے یہ ڈگری ٹاپ پوزیشن میں حاصل کی تھی چنانچہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی سٹینڈفورڈ نے اسے وظیفہ دے دیا‘ وہ امریکا چلا گیا‘ اس نے سٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ایم ایس کیا‘ وہ انجینئرنگ سے بڑا کام کرنا چاہتا تھا‘ 2004ءمیں جب گوگل میں نوکریاں نکلیں تو اس نے اپلائی کر دیا‘ گوگل نے اسے پراجیکٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت دے دی‘ یہ ملازمت اس کےلئے نعمت ثابت ہوئی‘ سندر راجن پچائی اس یونٹ کا حصہ تھا جس نے ”گوگل کروم“ کا منصوبہ شروع کیا‘ یہ منصوبہ 2008ءمیں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی پچائی گوگل اور امریکا دونوں میں مشہور ہو گیا‘ اس کا دماغ ذرخیز تھا چنانچہ وہ گوگل کےلئے نئے نئے منصوبے بناتا رہا‘ گوگل کا ویب براؤزر ہو‘ اینڈروئڈ ہو یا گوگل ٹول بار‘ ڈیسک ٹاپ سرچ اور گوگل گیئرز یہ تمام پراجیکٹ سندر راجن پچائی نے مکمل کئے‘ ان منصوبوں سے گوگل کی آمدنی میں اضافہ ہوا‘ گوگل اس وقت دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے‘ اس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے‘ پاکستان کے کل غیرملکی قرضے 70 بلین ڈالر ہیں‘ گویا گوگل ایک سال میں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے کل قرضوں سے زیادہ رقم کماتا ہے‘ یہ کمپنی سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرجے برن نے 1996ءمیں شروع کی‘ یہ دونوں اس وقت پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے‘ گوگل کا مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواد کو درجوں میں تقسیم کرنا اور اسے لوگوں کےلئے آسان بنانا تھا‘ گوگل 2000ءتک دنیا کا معتبر ترین سرچ انجن بن گیا‘ یہ کمپنی دنیا بھر سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی رہتی ہے‘ سندر راجن پچائی بھی اس کی دریافت تھا‘ یہ نوجوان 1972ءمیں تامل ناڈو میں پیدا ہوا‘ یہ 1993ءمیں سٹینڈفورڈ یونیورسٹی پہنچا‘ 1995-96ءمیں ایم ایس اور 2002ءمیں ایم بی اے کیا‘ یہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور گوگل نے اسے یہ بہت کچھ کرنے کا موقع دے دیا‘ یہ اپنے دلچسپ آئیڈیاز کے ذریعے بہت جلد کمپنی میں اپنی جگہ بنا گیا‘ یہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 10 اگست 2015ءکو گوگل کا سی ای او اور لیری پیج کا نائب بن گیا‘ کمپنی نے اسے شیئر بھی دے دیئے‘ یہ اس وقت 60 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کے شیئرز کا مالک بھی ہے۔گوگل نے پچائی کو فروری 2016ءکے دوسرے ہفتے 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تنخواہ کا چیک دیا‘ پچائی یہ چیک وصول کرتے ہی دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا ”سی ای او“ بن گیا‘ ہم اگر انہیں پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ دوسو کروڑ روپے بنیں گے گویا تامل ناڈو کا 43 برس کا ایک غریب جوان سالانہ دو سو کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے اور غریب بھی ایسا جس نے 18 سال کی عمر تک فرش پر سو کر اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور جو 12 سال کی عمر تک ٹیلی فون اور امریکا آنے تک ٹیلی ویژن اور گاڑی سے محروم تھا اور جس کا پورا بچپن دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کو ترستے گزرا اور جو آج بھی ہندی لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور اپنے گندمی رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے ۔

By Zia Ullah  Pakistan اس وقت گوگل کے چیف ایکزیکٹیو “سندرراجن پچائی” ہیں ۔ جن…

اللہ رب العز ت جل شانہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے۔ انسانوں میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جودوسروں کے لئے اچھاہواور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔قرآن پاک میں ارشادپاک ہے کہ اس دنیامیں عزت اورکامیابی انہی لوگوں کونصیب ہوتی ہے جوخلق خداکی خدمت اوراس کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ آنحضورصہ نے ارشادفرمایا”خیرالناس من ینفع الناس”لوگوں میں اچھاوہ ہے جولوگوں کونفع دیتا ہے ۔لوگوں میں اچھا بننے کابہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ ہم مخلوق خدا کی خدمت کریں اوراس کوفائدہ پہنچائیں۔کیونکہ اسی میں ہماری دنیاوی کامیابی اورآخرت کی کامیابی کاراز پوشیدہ ہےچند دن پہلے ہم اہل علاقہ کے لیے ایک سانحہ بہت تشویشناک صورت اختیار کر گیا جب سکول کے چھوٹے بچوں کا جھگڑا پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے گیاپہلے مرحلے میں چند نوجوان شامل ہوئے تو تکرار اور ہاتھ پائی تک نوبت پہنچی لیکن ان کی تسلی نہ ہوئی تو پھردوسری بیماری جوکہ اب پورے ضلع میں پھیل چکی ہے نوجوان کے گروپس جو ہر وقت اس طاق میں رہتے ہیں کہ کہاں کوئی معمولی سا واقعہ رونما ہونا ہے اور پھر انھوں نے پوری برگیڈ کے ساتھ لشکر کشی کرنی ہوتی ہے جس میں ہر گاوں کے ہر گھر کا بچہ شامل ہوتا ہے یہی واقعہ گاوں چک پنڈی کے کچھ نوجوانوں اور محمود چمنہ اور گردونواح کے نوجوانوں کے درمیان رونما ہوا چالیس پچاس نوجوان چک پنڈی کے رہائشیوں پر حملہ آور ہوگئے لیکن ذات الہی ابھی اس علاقے کے مکینوں پر مہربان تھی کہ دونوں اطراف کے چھ سات نوجوان زخمی ہوگئے اور کسی بڑی انہونی سے بچ گئےیہ واقع تمام والدین کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ ہونا چاہیےکہ ہماری اولادیں کس رخ پر جارہی ہیں اور مجھے بے حد افسوس ہے ان والدین پر جو اس بات کا بخوبی علم رکھتے ہیں کہ ان کے فرزند ارجمند ان گینگز و گروپس میں شامل ہیں اور یہ مسلح فوج آئے روز مختلف مقامات پر لشکر کشی کررہی ہے جن کی وجہ سے ان کے مستقبل تباہ ہو رہے ہیں یہ بچے ہمارا قیمتی اثاثہ و سرمایہ ہیں جنھوں نے مستقبل میں اس ملک وقوم اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کی باگ ڈور سنبھالنی ہےلیکن وہ تباہی وبربادی کی طرف جارہے ہیں اور وہ بد نصیب والدین اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے دوست واحباب کی تعدادبہت زیادہ ہے فخر محسوس کرتے ہیں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھوڑے عرصے میں بہت زیادہ واقعات دیکھ چکا ہوں جن میں بہت زیادہ جانی ومالی نقصانات ہوئے ہیں اور سکولز وکالجز کے طلبا مختلف تھانوں کی سلاخوں کےپیچھے اور والدین آگے بیٹھ کر رو رہے ہوتے ہیں اگر اس رونے سے پہلے ہی اپنے بچوں کو روک لیا کریں تو پھر یہ ذلالت ورسوائی ان کا مقدر نہ بنےبہرحال میں چک پنڈی کے تمام معزز مکینوں نوجوانوں اور چوہرری مدثر اقبال مہرانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنھوں نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتےہوئے اس معاملے کو طول نہ دیا اور علاقےکے معززین کی مداخلت سے نوجوانوں کو معاف کردیا اور میں چوہدری محمد عارف محمود چمنہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنھوں نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نوجوانون کی غلطی کا اعتراف کیا صلح میں شامل تمام معززین کا شکریہ ادا کیااللہ عزوجل ہم تمام اہل علاقہ کے عزت و احترام اور عفو ودر گذر کے جذبے کو تقویت فرمائیں اور اس نئی نسل کو اپنے والدین کی بزرگی کی آن اور سفید بالوں کی شان بچانے کی ہدایت عطا فرمائیں

اللہ رب العز ت جل شانہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے۔ انسانوں میں سب…

اسلام آباد ( پریس ریلیز ) برطانیہ سے آئے ھوئے نوجوان صحافی و مصنف سیّد کاشف سجاد کی کتاب ” میری پہچان ، پاکستان ” کی تقریب رُونمائی ۱۱-ستمبر بروز سوموار ڈھائی بجے پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد کے ریسورس سینٹر ھال میں منعقد ھوگی ۔ پروگرام کے میزبان ممبر قومی اسمبلی طاھر اقبال چوھدری نے بتایا کہ یہ پروگرام پاکستان کے 70 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں منعقد ھونے والی تقریبات کی ایک کڑی ھے ۔ پروگرام کی صدارت نیشنل بُک فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر ، پروفیسر ڈاکٹر انعام الق جاوید کریں گے جبکہ پاکستان کلچرل فورم کے چئیرمین ظفر بختاوری ، انٹر یونیورسٹی کنسورشِیم کے کوارڈی نیٹر مُرتضٰی نُور اور نیشنل یُوتھ اسمبلی کے صدر حنان علی عباسی ، کتاب اور صاحبِ کتاب کی بیرُون مُلکِ پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کےلئے کی جانے والی خدمات کے حوالے سے اظہارِ خیال کریں گے

اسلام آباد ( پریس ریلیز ) برطانیہ سے آئے ھوئے نوجوان صحافی و مصنف سیّد…