عام پاکستانی پریشان ہے اور سوچ رہا ہے کہ یہ الیکٹیبلز کون ہیں اور کس خطے کی مخلوق ہیں


’’ الیکٹیبلز ‘‘ (شکیل قمر مانچسٹر)

عام پاکستانی پریشان ہے اور سوچ رہا ہے کہ یہ الیکٹیبلز کون ہیں اور کس خطے کی مخلوق ہیں کہ اچانک انتخابات سے پہلے یہ لفظ میڈیا کے ذریعے سامنے آیا اور آتے ہی ایسا مشہور ہوا کہ ہر طرف ان کے ہی چرچے دکھائی دینے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی عزت و شہرت میں اس قدر اضافہ ہو گیا کہ ہر جماعت ان کو ہاتھوں ہاتھ لینے لگی اور ان کے سوا تو کسی بھی جماعت میں کسی عام آدمی کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں بچی بلکہ ہر سیاسی جماعت آگے بڑھ چڑھ کر الیکٹیبلز کو ٹکٹس دینے لگی عرف عام میں تو یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے علاقے میں کسی نہ کسی طرح انتخابات میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں اور پھر آگے چل کر ان کے ہی وارے نیارے ہوتے ہیں ،کیونکہ ایک دفعہ جس نے انتخاب جیت لیا پھر اس کے بعد اس کی چاندی ہی چاندی ہے انتخاب جیتنے کے بعد ہر سیاسی جماعت ان کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اسمبلی کے ممبر منتخب ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے ہاتھ میں طاقت آجاتی ہے وہ جسکو چاہے گرا سکتے ہیں اور جس کو چاہیں تخت نشین کر سکتے ہیں ، ان کے کوئی اُصول تو ہوتے نہیں حقیقت میں عام آدمی نے اِنہیں جس کام کے لئے ووٹ دیا ہوتا ہے یہ اس کام کو تو بالکل بھول ہی جاتے ہیں بلکہ منتخب ہونے کے بعد ان کا اپنا ہی ایجنڈا ہوتا ہے اور یہ اس ایجنڈے کی کامیابی کے لئے زمین اور آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں ،یہ لوگ اسمبلیوں میں پہنچ کر ہر وہ کام کرتے ہیں جن سے ان کی دولت میں اضافہ ہوسکے عوام نے انہیں ووٹ دیکر اسمبلیوں میں بھیجا ہوتا ہے کہ یہ لوگ وہاں جاکر ہمارے لئے قانون سازی کریں گے اور عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کریں گے مگر یہ اسمبلیوں میں جاکر اصل کام کو تو جیسے بھول ہی جاتے ہیں انہیں بس صرف اور صرف یہ یاد رہتا ہے کہ ہم کروڑوں روپے لگا کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں اور اب اُن کروڑوں کو اَربوں میں کیسے تبدیل کیا جائے ،آج تک جتنے بھی الیکٹیبلز اسمبلیوں میں پہنچے ہیں ان کے اثاثے دیکھ لیں کسی ایک کے بھی اثاثے کروڑوں سے کم نہیں ہیں کیونکہ جونہی یہ الیکٹیبلز اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں تو ان کے میٹر چلنا شروع ہوجاتے ہیں اور پھر پانچ سال تک یہ میٹر بغیر بریک لگائے چلتے ہی رہتے ہیں اور کبھی تو یہ لوگ اسمبلی کے اجلاس میں شمولیت کے لئے جعلی حاضری لگا کر لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں اور کبھی غیر مکی دوروں کے نام پر کروڑوں روپے وصول لیتے ہیں اور ہاں جونہی یہ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوتے ہیں ان کو بنگلے ،گاڑیاں ،نوکر چاکر ،تنخواہیں اور میڈیکل الاونس تک ملنا شروع ہو جاتا ہے اور یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ لوگ کوئی بھی پیسے آنے والا راستہ بھولتے نہیں ہیں، چاہے وہ انعامات کی صورت میں ہو یا پھر بغیر انعامات کے گویا ’’ ہُک اینڈ کرُک ‘‘ ان کو ہر راستے سے پیسے آنے چاہیں ،ان کو روکنے والا تو کوئی مائی کا لال پیدا ہی نہیں ہوا کیونکہ یہ ہر حکمران کی ضرورت ہوتے ہیں چاہے وہ نام نہاد جمہوری حکمران ہو یا کوئی ملٹری ڈکٹیٹر ، یہ ہر حکمران کی ضرورت پوری کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں اپنی جیبیں گرم کرتے چلے جاتے ہیں ،ان کے پاس ایسی کستوری ہوتی ہے کہ یہ جہاں بھی جایں دولت ان پر مہربان ہوتی ہے منتخب ہونے کے بعد سے لیکر پورے پانچ سال تک اگر آپ ایک ایک لمحہ گنتی کر لیں تو ان کی دولت میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے یہ بات تو شرطیہ ہے کہ یہ لوگ انتخابات میں جتنے پیسے خرچ کرکے آتے ہیں اس کو کئی کروڑ سے ضرب دیکر انہوں نے کمانے ہوتے ہیں ،ان کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ہم ایک غریب ملک کے رہنے والے ہیںیا ہمارے عوام کس قدر غریب ہیں یا ہمارے ملک ک عوام کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں ہے ،بچوں کے پاس سکول جانے اور تعلیم حاصل کرنے کے وسائل نہیں ہیں ،ہمارے عمر رسیدہ افراد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بغیر علاج معالجے کے موت کے منہ میں جارہے ہیں یا عوام بے روزگاری کی وجہ سے خود کشیاں کر رہی ہے ،نہیں نہیں انہیں ان تمام باتوں سے کوئی بھی لینا دینا نہیں یہ تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ لوگ الیکٹیبلز ہیں اور اس کے بدلے میں ان لوگوں نے دولت جمع کرنے کے ریکارڈ توڑنے ہیں کیونکہ ان کو صرف اپنے لئے دولت نہیں کمانی بلکہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی یہ لوگ ڈھیروں دولت اکٹھی کر کے لے جاتے ہیں ان کو توبس یہ پتہ ہوتا ہے کہ ان کی اُولادوں کو ان کے بعد بھی کوئی کمی نہیں آنی چاہیے بیشک کہ ناجائز دولت جمع کرنے کی پاداش میں قبر میں ان کو سانپ اور بچھو ہی کھائیں مگر یہ اس دنیا میں اس قدر حرام دولت کمالیتے ہیں کہ میرے خیال میں قبر کے عذاب کے بعد یہ کروڑوں سال دوزخ کا ایندھن بنتے رہتے ہیں ،میں بھی کہاں سے کہاں نکل گیا مجھے یہ تو معلوم ہی نہیں کہ میں جو لکھ رہا ہوں یہ کسی اخبار میں چھپنا بھی ہے اور اگر میں نے بہت زیادہ سچ لکھ دیا تو ہو سکتا ہے کہ کوئی اخبار اسکو چھاپنے کے لئے تیار ہی نہ ہو ،لہذا بس میں یہاں ہی ختم کرتا ہوں ان آخری الفاظ کے ساتھ کہ آپ الیکٹیبلز کا مفہوم اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گئے ۔۔۔۔

E Mail <<<<< kamarshakeel@aol.co.uk

507total visits,2visits today

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *