صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اس کی تقدیس اور صحافیوں کے احترام کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا


صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اس کی تقدیس اور صحافیوں کے احترام کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا ۔علامہ عظیم جی ۔۔۔۔۔۔۔

مانچسٹر( وقائع نگار خصوصی) صحافتی متحدہ محاذ کے قیام کا مقصد صحافیوں اور عوام میں بہتر تعلقات استوار کرنا اور ماحول کو ساز گار بنانا ہے،ان خیالات کا اظہار ممتاز بزرگ صحافی علامہ عظیم جی نے مانچسٹر کے صحافیوں کے ایک نمائیندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔گزشتہ روز اولڈہم میں کرکٹ میچ آرگنائزرز کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ ناروا سلوک پر نارتھ ویسٹ کی مختلف صحافتی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس مانچسٹر پلیٹ فیلڈ پارک میں ہوا جس میں علامہ عظیم جی، محبوب الہی بٹ، شکیل قمر، شیخ اعجاز افضل، عظیم ملک، فرحت عباس کاظمی، ہارون مرزا، شہزاد مرزا، غلام مصطفی مغل، غلام حسین، وسیم چوہدری، کشور عباسی، راجہ واجد، میاں عامر، سیموئل جیکب، سہیل، شوکت قریشی، سید کاشف سجاد،اور تنویر کھٹانہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ صحافیوں کی عزت و تکریم کے لیے صحافتی محاذ کا قیام ناگزیر ہے جس کے بعد اولڈہم واقعہ کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اولڈہم میں صحافیوں سے ہون والے ناروا سلوک کی تحقیقات کرے گی اور ایونٹ آرگنائزرز کو ایک خط لکھے گی جس میں صحافیوں سے ناروا سلوک کے حوالے سے تحفظات اور معافی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ مشترکہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اگر تو ان مطالبات پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو ایونٹ آرگنائزرز کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا جائے گا۔ جس کے حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو آئیندہ کا لائحہ عمل ترتیب دے گی۔ اجلاس کی صدرات بزرگ صحافی علامہ عظیم جی نے کی اور باہمی مشاورت سے تمام معاملات پر متفقہ طور پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ علامہ عظیم جی کا کہنا تھا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ ہے جو کمیونٹی کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھاتا ہے۔مانچسٹر میں صحافیوں سے بدتہمیزی روز کا معمول بنتا جا رہا ہے جس کے لیے باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے اور تمام صحافیوں کی جانب سے اس حوالے سے اتفاق نہایت خوش آئیند ہے۔ جن تقاریب میں صحافیوں کی عزت نہیں کی جائے گی ان ایونٹس اور ان کے آرگنائزرز کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ مقامی پریس کلبز کے صدور محبوب الہی بٹ اور شکیل قمر کا کہنا تھا کہ کوریج کے لیے ایک ضابطہ اخلاق ترتیب دینا ہوگا، آرگنائزر کا رویہ روز بروز تضحیک آمیز ہوتا جا رہا ہے۔ صحافی انھیں کے بلانے پر کوریج کے لیے جاتے ہیں لیکن بعد ازاں ان سے نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے جو کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ ایسی تقاریب کا بائیکاٹ کیا جائے جہاں صحافیوں کو عزت نہیں دی جاتی۔ دیگر صحافیوں نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ آئیندہ ایسے کسی بھی رویے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

399total visits,1visits today

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *