اقتدار ملتے ہی ان غلام بندروں میں بھی وہی ظلم ، بربریت ، حسد ، لالچ۔منافقت اور اپنے ہی جیسے بندروں کا گلا کاٹنے کی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں


اگر آپ کو فلموں کا شوق ہے تو آپ کو ”رائز آف دی پلاننٹ آف دی ایپس “ کی سیریز ضرور دیکھنی چاہیے سال دو ہزار گیارہ سے شروع ہونے والی اس سیریز کی کہانی ایسے بندروں کے گرد گھومتی ہے جو انسان کے ظلم ، زیادتی اور نا انصافی سے نجات حاصل کرکے ایک علاقے میں اپنی حکومت قائم کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ فلم کی کہانی اس وقت دلچسپ صورت حال اختیار کر لیتی ہے جب اقتدار ملتے ہی ان غلام بندروں میں بھی وہی ظلم ، بربریت ، حسد ، لالچ۔منافقت اور اپنے ہی جیسے بندروں کا گلا کاٹنے کی خصوصیات پیدا ہوجاتی ہیں جو انسانوں میں ہے ۔ فلم کا بنیادی خیال یہی تھا کہ بندر کبھی بھی انسانوں کی طرح اپنی ہی نسل کا دشمن نہیں ہو سکتا اور اسے قتل نہیں کر سکتا لیکن فلم میں اس تصور کی نفی ہوتی ہے اور آخر بندر دوسرے بندروں کو بھی قتل کرنے کے در پے ہو جاتا ہے ۔

گزشتہ روز پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم پی ٹی آئی کے نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی ندیم عباس بارا کے ڈیرے پر پہنچی پولیس کو اطلاع ملی کہ ملک ندیم بارا کے دفتر میں فتح کے جوش میں آتشیں اسلحہ کی فائرنگ اور آتش بازی جیسے غیرقانونی عوامل ہو رہے ہیں۔ پولیس ایس ایچ او کی ٹیم کی جانب سے ایسی غیرقانونی حرکات پر روکنے کی پاداش میں ڈیرہ پر موجود کارکنان نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور ان کی وردیاں تک پھاڑ دی گئیں۔ یاد رہے کہ یہ وہی وردیاں ہیں جو پولیس کی نہیں بلکہ ریاست پاکستان کا مان ہیں ۔ پولیس والوں پر تشدد کرنے کے بعد ملزمان فرار

ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

سچ تو یہ ہے کہ کوئی بندر ہو یا کوئی چھوٹا انسان اسے فتح ہضم نہیں ہو تی ۔ اس کے خوشی منانے میں بھی چھوٹا پن ضرور ہوتا ہے

محمود اصغر چوہدری

240total visits,2visits today

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *