سابقہ ماشل لاء اور جمہوری ادوارمیں کوئی فرق نہیں ( شکیل قمر مانچسٹر)


۱

سابقہ ماشل لاء اور جمہوری ادوارمیں کوئی فرق نہیں

( شکیل قمر مانچسٹر)

یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ آج پاکستان کے عام آدمی کی زندگی کس قدر مشکلات میں گھری ہوئی ہ

اگرچہ یہ تمام مشکلات صرف ایک ہی دن میں پیدا نہیں ہوئیں مگر پھر بھی سابقہ دس سالہ جمہوریت کے دور میں ہر پاکستانی کو یہ تو قع ضرور تھی کہ اس دور میں اُس کی مشکلات میں کمیواقع ہو گی کیونکہ اس سے پہلے غیرجمہوری ا دوار میں جتنا بھی مشکلات میں اضافہ ہوا تھا ،ظاہر ہے کہ جمہوریت کے دور میں عوام کا یہ توقعرکھنا لازمی اَمر تھا کہ عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو بلکہ کمی واقع ہو مگر اَمرِواقع یہ ہے کہ سابقہ جمہوری دور میں بھی پاکستانی عوام کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوایہاں تک کہ ایک عام آدمی کے لئے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ہمارے لئے زیادہ مشکلات مارشل لاءکے دور میں پیدا ہوئی تھیں یا کہ سابقہ جمہوری دور میں ،بہر حال آج عام پاکستانی نہ صرف ملکی سلامتی کے معاملات کو لیکر پریشان ہے بلکہ ملک کے اندر اَفراتفری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی بھی عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنی ہوئی ہے اگرچہ

سابقہ ادوار میں اربابِ بست وکشادکی طرف سے ’’سب اچھا ‘‘ کے بیانات ہی سامنے آتے رہے ہیں مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں

عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا ،جو سچ ہے وہ عوام کے سامنے ہے سابقہ حکمرانوں کے ’’ سب اچھا ‘‘ کے نعروں سے خود حکمران تو خوش فہمی کاشکار ہو سکتے تھے مگر مشکلات کے مارے عوام کو اس سلسلے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں کیا جاسکتا تھا ،خاص طور پر ملک میں بجلی ،گیس ، لاء اینڈ آرڈر،مہنگائی اور دیگر عوامی مسائل کیساتھ ساتھ نقطہء عروج پر پہنچی ہوئی کرپشن کا بحران اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ عوام الناس سابقہ حکمرانوں کیطرف سے مختلف قسم کے سبز باغ دکھائے جانے کے باوجود کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہو سکے بیشک کہ سابقہ حکومت نے سارا ملبہ اپنے سےبھی سابقہ حکمرانوں کے سر ڈالنے کی بہت کوشش کی مگر عوام اُن کی یہ بات ماننے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوئے کہ یہ سب مسائل سابقہ حکومتوں کے پیداکردہ ہیں اگرکسی حد تک ایسا تھا بھی تو اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ سابقہ حکومت اپنے دورِ اقتدار میں ان مسائل کوحل کرنے میں بُری طرح ناکام رہی تھی،سب سے بڑھکر کرپشن اور قرضوں کی وجہ سے مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ رکھی تھی، بیشک حکمران یہ ُ عذر پیش کرتے تھے کہ مہنگائی پوری دنیا کا مسئلہ ہے مگر عوام پوچھتے تھے کہ پندرہ اَرب روپے روزانہ کی کرپشن بھی پوری دنیا کامسئلہ ہے کیا؟ اس کرپشن پر قابو پا کر مہنگائی کے مارے عوام کو تھوڑا سا فائدہ تو پہنچایا جاسکتا تھا ؟ مگر نجانے کیوں سابقہ حکمرانوں کی سمجھ میںیہ بات نہیں آرہی تھی کہ ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام خودکشیاں کر رہے تھے اور دوسری طرف سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے اندر قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا، سابقہ وزیرِخزانہ(جو کہ بحیثیت وزیرِ خزانہ مفرور ہو گئے) فرماتے تھے کہ اُن کے دور میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک سو بیس فی صد اضافہ کیا گیا ہے، میں کہتا ہوں کہ اس کے باوجود عوام کے اندر غربت میں اضافہ ہوا تھا، چوریاں ،ڈاکے اور دوسرے جرائم بڑھتے ہی چلے جارہے تھے، بجلی کی زبردست لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی سپلائی کرنےوالے ادارے عوام کو لوٹ رہے تھے ،بجلی کے بلوں میں ناجائز اضافہ اور بے ضابطہ وصولیاں عوام کے لئے دردِسر بنی ہوئی تھیں،بجلی کے

ایک سابق وزیر نے کہا تھا کہ صرف لیسکو کے زیرِکنٹرول علاقے میں جو بجلی سپلائی ہوتی ہے اُس میں تیرا فی صد چوری ہو رہی ہے اس طرح لاہور میں تقریباً چھبیس ملین کی سالانہ بجلی چوری ہو رہی تھی جو کہ حکام بڑی مہارت سے بلوں کی باقاعدہ ادائیگی کرنے والے صارفین کےبلوں میں شامل کرکے اُن سے ناجائز بل وصول کر رہے تھے ،اگر چہ عوام کو اعلی عدلیہ کی طرف سے کافی اُمید تھی اور عوام کو اعلی عدلیہ کی نیت

پر ہر گزشک نہیں تھا مگر پھر بھی عام آدمی کو انصاف میسر نہیں تھا بلکہ انصاف کا حصول اس قدر مہنگا اور طویل تھا کہ عوام کا عدالتوں اور پولیس سے بالکل اعتماد اُٹھ چکا تھا،اِن تمام حالات کی روشنی میں پیچھے مڑ کر دیکھا جائے توسابقہ حکومت کی کارکردگی بالکل صفر کے برابر تھی اورحکمران کہہ رہے تھے کہ ہم انتخابات میں کلین سویپ کریں گے میں پوچھتا ہوں کہ عوام اس قدراندھے ہوگئے تھے کہ وہ سابقہ حکومت کی

واضح ناکامیوں کے باوجود اُسے دوبارہ ووٹ دے کر اپنے پاوں پر کلہاڑی چلالیتے؟ اِدھر تیس اَرب ڈالر (بنکوں اور ہُنڈی سمیت )کا

سالانہ زرِمبادلہ وطنِ عزیز کو بھیجنے والے تارکین وطن کی طرف سے حکومت نے بالکل آنکھیں بند کر رکھی تھیں، وطن میں اُن کے مسائل بڑھتے ہی چلے جارہے تھے، اُن کی جائیدادوں پر ناجائز قبضے ہورہے تھے ،سرکاری محکموں کی طرف سے اُن کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہاتھا مگر سابقہ حکومت تھی کہ زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھتی دکھائی ہی نہیں دے رہی تھی ،تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام بچارے کیا کرتے وہی ہوا جو عوام کے اختیار میں تھا اور جو عوام آسانی کے ساتھ کر سکتے تھے عوام نے جمہوریت کا سب سے بڑاہتھیار’’ ووٹ ‘‘کادرست استعمال کیا اور سابقہ حکومت کا دھڑن تختہ کر دیا ،غلط فہمیوں میں مبتلا اور خوابِ خرگوش میں محو حکمرانوں کو ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ اُن کو عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے شکستِ فاش سے دو چار کر کے رکھ دیاہے اور ایسی شکست کہ جس میں اللہ سبحان و تعالی کی مدد بھی اپنے مظلوم بندوں کے ساتھ شاملِ حال رہی اور اب سابقہ حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ ’’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ کے مصداق اس کوشش میں ہیں کہ کوئی ایک چھوٹی موٹی سیٹ ہی مل جائے تاکہ آئندہ آنے والے انتخابات تک زندہ رہ سکیں ،مگر اُنہیں شائد یہ معلوم

نہیں ہے کہ اُن کی شکست آسمانوں پر لکھی جا چکی تھی لہذااب اُن کو اپنی شکست کو تسلیم کر لینا چا ہیے۔

828total visits,1visits today

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *